الشیخ الحدیث مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ

علم، صبر، اخلاص اور مہمان نوازی کا روشن باب

اللہ تعالیٰ بعض شخصیات کو ایسا حسنِ کردار عطا فرماتا ہے کہ ان کی زندگی خود ایک درس بن جاتی ہے۔ الشیخ الحدیث مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، تدریسِ حدیث، دعوت و اصلاح اور اخلاقِ حسنہ کے فروغ میں گزاری۔

سادگی، صبر، مہمان نوازی، علم سے محبت اور عاجزی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آج بھی ان کے شاگرد، دوست، ساتھی اور جاننے والے انہیں محبت اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ 1969ء میں ضلع فیصل آباد کے نواحی گاؤں 580 گ ب جڑانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام غلام محمد تھا۔ تین بھائیوں اور ایک بہن میں آپ سب سے بڑے تھے۔

آپ کا تعلق ایک ایسے بلوچ خاندان سے تھا جہاں جاہلیت کے اثرات عام تھے۔ خود مولانا رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

“ہمارے خاندان میں چوری، ڈاکہ زنی اور شرک جیسے اعمال کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔”

لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت سے نوازا اور پھر آپ کی محنت، دعوت اور تربیت کا ایسا اثر ہوا کہ آج اسی خاندان اور برادری میں پچیس سے زائد علما، خطبا اور حفاظِ قرآن دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ یقیناً مولانا رحمہ اللہ کی محنت، اخلاص اور دعوتی جدوجہد کا عظیم ثمر ہے۔

والدہ کی دعائیں اور قربانیاں

مولانا رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ نہایت نیک، صابرہ اور دین سے محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے خود قرآنِ مجید کا ترجمہ پڑھا اور اہلحدیث مسلک اختیار کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا عالمِ دین بنے۔

ایک مرتبہ وہ مولانا عبداللہ ماموں کانجن والے رحمہ اللہ کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر گئیں اور فرمایا:

“مجھے لال رومال والے علما بہت پسند ہیں، دعا کریں میرا بیٹا بھی ایسا عالم بن جائے۔”

انہوں نے دعا دی اور اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔

مولانا رحمہ اللہ کی والدہ نے ان کی تعلیم کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ شدید گرمی، غربت اور نفلی روزوں کی حالت میں کئی کئی میل پیدل چلنا، مدرسہ چھوڑنا اور واپس آنا، یہ سب قربانیاں اسی ماں نے برداشت کیں تاکہ اس کا بیٹا دین کا خادم بن سکے۔

علمِ دین کا سفر

مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ نے ابتدائی دینی تعلیم جھوک دادو طور میں حاصل کی، جہاں انہوں نے مولانا میاں محمد باقر رحمہ اللہ اور مولانا عتیق اللہ رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔

بعد ازاں جامعہ محمدیہ کانیا والا شیخوپورہ تشریف لے گئے، پھر جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں داخلہ لیا اور 1989ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔

ممتاز اساتذہ کرام

مولانا رحمہ اللہ نے اپنے دور کے جید علما سے علم حاصل کیا، جن میں چند نمایاں نام یہ ہیں:

– حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ
– مولانا عبد الحمید ہزاروی رحمہ اللہ
– مولانا عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ
– مولانا محمد رفیق رحمۃ اللہ
– مولانا جمعہ خان رحمہ اللہ
– مولانا محمد عبداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ
– مولانا محمد عبداللہ بھٹوی رحمہ اللہ

تدریس اور دعوتی خدمات

فراغت کے بعد آپ نے شاہکوٹ کی جامع مسجد محمدی اہلحدیث میں امامت و خطابت کا آغاز کیا۔ بعد ازاں جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد، جامعہ کمالیہ دارالحدیث راجووال اور پھر جامعہ محمدیہ حق بازار اوکاڑہ میں تدریس فرمائی۔

1996ء سے وفات تک جامعہ محمدیہ حق بازار اوکاڑہ میں حدیثِ رسول ﷺ پڑھاتے رہے۔ اس کے ساتھ مدرسہ تعلیم الصالحات للبنات میں بخاری شریف اور مسلم شریف کی تدریس بھی فرماتے رہے۔

آپ کے درس میں سادگی، دلائل کی مضبوطی اور اخلاص کی تاثیر ہوتی تھی۔ طلبہ صرف علم ہی نہیں بلکہ اخلاق اور عمل بھی سیکھتے تھے۔

مطالعہ کا بے حد شوق

مولانا رحمہ اللہ کو مطالعہ سے غیر معمولی محبت تھی۔ رات گئے تک کتابوں میں مشغول رہتے۔ علمِ حدیث، تفسیر، عقیدہ اور دیگر علوم کا مسلسل مطالعہ ان کی زندگی کا حصہ تھا۔

اکثر شاگرد بیان کرتے ہیں کہ دیر رات تک ان کے کمرے کی لائٹ روشن رہتی اور وہ مطالعہ یا تحریر میں مصروف ہوتے۔

مہمان نوازی اور اخلاق

مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔ جو شخص ایک مرتبہ ان کے پاس آتا، دوبارہ آنے کی خواہش ضرور کرتا۔

لوگ محبت سے کہا کرتے تھے:

“اگر کسی نے چائے بسکٹ کھانے ہوں تو مولانا صاحب کے پاس چلا جائے۔”

وہ نہایت نفیس، نرم مزاج اور خوش اخلاق انسان تھے۔ غصہ بہت کم کرتے، بلکہ اکثر لوگ کہتے تھے کہ انہوں نے مولانا صاحب کو کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔

صبر کی ایک عظیم داستان

اللہ تعالیٰ نے مولانا رحمہ اللہ کو اولاد عطا فرمائی، مگر آزمائش بھی ساتھ رہی۔ ان کی دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے ان کی زندگی ہی میں وفات پا گئے۔

بچوں کی بیماری انتہائی تکلیف دہ ہوتی تھی۔ جب وہ کچھ بڑے ہوتے تو شدید بیمار ہو جاتے، یہاں تک کہ چارپائی پر لیٹ جاتے، نہ بول سکتے اور نہ حرکت کر سکتے، پھر اللہ کو پیارے ہو جاتے۔

اتنی بڑی آزمائشوں کے باوجود مولانا رحمہ اللہ نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ ہمیشہ صبر، رضا اور اللہ کی تقدیر پر راضی رہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے دو بیٹوں کو سلامت رکھا، اللہ انہیں دین و دنیا کی خیر اور لمبی نیک زندگی عطا فرمائے۔

حج اور عمرہ

مولانا رحمہ اللہ کو دو مرتبہ حرمین شریفین جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ حج اور دوسری مرتبہ عمرہ کے لیے گئے۔ عمرہ کے سفر میں اپنی والدہ محترمہ کو بھی ساتھ لے گئے اور پورے سفر میں ان کی خدمت کرتے رہے۔

وفات کا پرملال واقعہ

26 مئی 2015ء کو جامعہ میں حدیث شریف کا درس دیتے ہوئے طبیعت ناساز ہوئی۔ آرام کے لیے کمرے میں گئے، مگر حالت بگڑتی گئی۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں رات گئے ساہیوال ہسپتال میں انتقال فرما گئے۔

ان کی وفات کی خبر نے شاگردوں، علما اور اہلِ علاقہ کو غمزدہ کر دیا۔

نمازِ جنازہ اور تدفین

مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ تین مختلف مقامات پر ادا کی گئی:

1. اوکاڑہ کی مرکزی جنازہ گاہ میں نمازِ جنازہ مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی صاحب نے پڑھائی۔

2. مرکز الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ میں نمازِ جنازہ مولانا عتیق اللہ سلفیہ صاحب نے پڑھائی۔

3. آبائی گاؤں 580 گ ب میں نمازِ جنازہ حافظ عبد الوارث صاحب نے پڑھائی۔

قبر پر دعا قاری عبدالرزاق طاہر صاحب نے کروائی۔

مولانا رحمہ اللہ کی وصیت کے مطابق انہیں ان کی والدہ محترمہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ادھورا علمی خواب

مولانا رحمہ اللہ ایک علمی کتاب پر کام کر رہے تھے، مگر وہ مکمل شائع نہ ہو سکی۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ جلد یہ علمی سرمایہ منظرِ عام پر آئے گا تاکہ اہلِ علم اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔

دعا

اللہ تعالیٰ الشیخ الحدیث مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، اور ہمیں بھی ایسے مخلص علما کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں:محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا مختصر تعارف