سوال (1076)

ایک تاجر نے باہر سے مال درآمد کیا ہے ، جس کی مالیت نصاب کو پہنچتی ہے ، مگر مال پہنچنے میں ایک دو ماہ لگیں گے تو اس مال کی زکاۃ ادا کرنے کی کیا کیفیت ہوگی؟ کیا پہلے سے موجود مال کے ساتھ ہی اس کا حساب کر کے زکاۃ ادا کرنا ہوگی یا اس درآمد ہونے والے مال کی زکاۃ اگلے سال ادا کرنا ہوگی؟

جواب

مال تجارت کی زکاۃ ادا کرنے کا بڑا سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ جب کاروبار شروع کیے ہوئے سال گذر جائے ، سال کے آخر میں دیکھا جائے کہ مال کتنا پڑا ہوا ہے ، اس کی قمیت فروخت لگائی جائے ، یہ نہ دیکھا جائے کہ مال دو دن پہلے آیا ہے یا دو مہینے پہلے آیا ہے ، کیونکہ مال گردش میں رہتا ہے ، کبھی ا رہا ہے تو کبھی جا رہا ہے ، اس طرح وہ مال کا جس کے آپ مالک بن چکے ہیں ، لیکن اس کے آنے میں وقت لگ رہا ہے ، وہ سب اس میں شامل ہے ، اس مال کا حساب قمیت فروخت کے حساب سے لگے گا ، پھر اگر سال بھر میں کو کھایا پیا اس میں کچھ جمع کیا ہوا ہے ، چاہے گھر میں یا بینک میں وہ اس میں جمع کرلیں ، پھر جو لینے کی امید ہے وہ بھی اس میں جمع کرلیں ، ان تینوں کو جمع کرکے اس میں سے وہ نکال دیں جو آپ نے لوگوں کو دینا ہے ، اب جو بچے گا اگر وہ ساڈے باون تولے چاندی کے برابر ہے تو اس میں سے اڑھائی زکاۃ دے دیں ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ