سوال 7100
مسجد حرام میں امام پیچھے ہوتا ہے مقتدی آگے، کیا ایسے نماز ہوجاتی ہے؟ دلیل سے رہنمائی فرمائیں
جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“إنما جعل الإمام ليؤتم به”
(امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے) [صحیح بخاری]
اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ائمہ ثلاثہ امام احمد بن حنبل۔ امام شافعی، اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ نے امام سے آگئے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کو مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
لیکن امام مالک نے ایک استدلال کیا ہے کے کعبہ میں جب امامت ہوتی ہے تو مقتدی امام کے گرد گول دائرہ میں کھڑے ہوتے ہیں جس سے کچھ مقتدی امام سے آگئے ہوتے ہیں۔
اس سے استدلال کرتے ہوئے امام مالک نے مجبوری کی صورت میں خصوصاً کعبہ میں عوام الناس کے رش کی وجہ سے اس بات کی جازت دی ہے کے مقتدی امام کے آگئے صف بنا سکتے ہیں۔
بہر کیف یہ ایک اجتھادی مسئلہ ہے۔ امام کو آگے ہی کھڑا کرنا چاہیے بلاوجہ امام کے آگئے صف بنانا درست نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم
فضیلۃ الباحث عمار احتشام حفظہ اللہ




