سوال 7175

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
موسی علیہ الصلوۃ والسلام جو تیس راتیں طور پہاڑ پر رہے وہ ذوالقعدہ کی تھیں پھر اللہ تعالی نے 10 اور بڑھا دیں وہ ذوالحجہ کی تھیں۔
کیا ایسی کوئی روایت صحیح سند کے ساتھ ملتی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تیس راتوں اور دس راتیں بڑھانے کا ذکر تو قرآن میں ہے۔

وَوٰعَدۡنَا مُوۡسٰى ثَلٰثِيۡنَ لَيۡلَةً وَّاَتۡمَمۡنٰهَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِيۡقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ‌ ۚ وَقَالَ مُوۡسٰى لِاَخِيۡهِ هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ [الأعراف: 142]

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا.
لیکن یہ جو دس راتیں بڑھائی یہ ذوالحجہ کی تھیں اس پر دلیل نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعلیکم السلام! تفاسیر میں یہ بات تو ہمیں ملتی ہے، مگر ان کی سندیں کتنی مضبوط ہیں، اس پر ابھی نظر ڈالنا باقی ہے۔ جہاں تک میری معلومات ہے، یہ زیادہ تر اسرائیلی روایات ہی معلوم ہوتی ہیں۔
مزید یہ لنک ملاحظہ فرمائیں: إسلام ويب – تفسير الطبري – تفسير سورة الأعراف – القول في تأويل قوله تعالى “وواعدنا موسى ثلاثين ليلة وأتممناها بعشر “- الجزء رقم13 https://share.google/A3Yzw04oiSGieWgk7

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ