سوال 7242
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ نماز استسقاء کا طریقہ کار بتا دیں۔ شکریہ
جواب
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نمازِ استسقاء کے لیے بہتر یہ ہے کہ لوگ میدان میں نکلیں اور پراگندہ حال ہو کر نکلیں، یعنی سادہ اور خستہ حال کپڑے پہن کر، عاجزی، انکساری اور گریہ و زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے خطبہ دیا جائے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا جائے، گناہوں سے دور رہنے کی تلقین کی جائے، توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کیا جائے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی جائے اور اس کے بعد دعا کروائی جائے۔
دعا کے وقت قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے جائیں۔ ہاتھ اس طرح اٹھائے جائیں کہ ہتھیلیوں کا وہ حصہ جو عام طور پر چہرے کی طرف ہوتا ہے، اسے الٹ دیا جائے، ہاتھ خوب بلند کیے جائیں اور گریہ و زاری کے ساتھ بارش کی دعا کی جائے۔ اسی دوران چادر یا رومال کو بھی پلٹ لیا جائے، خواہ کمر کے اوپر یا سر کے اوپر، جیسا کہ احادیث میں ذکر ملتا ہے۔
دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے نماز پڑھا لی جائے، پھر خطبہ دیا جائے اور اس کے بعد دعا کروائی جائے۔
اگر کوئی صرف دعا پر اکتفا کرے تو یہ بھی درست ہے۔ اسی طرح خطبہ، نماز اور دعا کے ساتھ استسقاء کرنا بھی درست ہے۔ میدان میں نکل کر نماز پڑھنا، خطبہ دینا اور دعا کرنا بھی صحیح ہے۔
لہٰذا جیسے سہولت میسر ہو اور جو صورت ممکن ہو، اسے اختیار کر لیا جائے۔
اصل مطلوب چیز توبہ، استغفار، گریہ و زاری، رجوع الی اللہ، وعظ و نصیحت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری، محتاجی اور عاجزی کا اظہار ہے۔
اگر اس موضوع پر کسی آسان حدیث کی کتاب میں نمازِ استسقاء کا باب دیکھ لیا جائے تو ان شاء اللہ پورا طریقہ مزید واضح ہو جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللّٰہ شیخ اچھا شیخ محترم دعا نماز کے اندر کی جا سکتی ہے رکوع بعد؟
جواب: ہاں وہ قنوت کی شکل میں کر سکتے ہیں آپ کبھی کبھار۔ قنوت نازلہ جیسے انسان پڑھتا ہے آخری رکعت میں۔ تو وہ دعائیں پڑھیں جو منقول ہیں اس کے بعد آپ استسقاء کی دعا اس میں ڈال سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




