سوال 7243

زیر ناف بال کہاں سے کاٹنا شروع کرنا اور کہاں تک کاٹنے ہیں مردوں اور خواتین دونوں کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

زیر ناف کے بال مونڈنے کی حدود [Extent of the Pubic Hair]
دوست کا سوال ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ تو معلوم ہے کہ زیر ناف کے بال مونڈنا چاہییں لیکن اکثر کو یہ کنفیوژن رہتی ہے کہ اس کی حدود کیا ہیں کیونکہ یہ کوئی نہیں بتلاتا اور علماء سے یہی سن رکھا ہے کہ شرعی مسئلہ پوچھنے اور بتلانے میں شرم آڑے نہیں آنی چاہیے۔
جواب:
زیر ناف کے بال مونڈنا سنن فطرت میں سے ہے یعنی ان سنتوں میں اس شمار ہوتا ہے کہ جس کا تعلق انسان کی فطرت سے بھی ہے اور یہ کل ملا کر دس سنتیں ہیں کہ اگر دین میں ان دس سنتوں پر عمل پیرا ہونے کا حکم نازل نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی انسان اپنی صالح فطرت کی بنیاد پر یہ دس کام ضرور کرتا۔
سنن فطرت کا تعلق طہارت اور پاکیزگی سے ہے۔ تو زیر ناف کے بال مونڈنے کے بارے احادیث میں “حلق العانۃ” کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ اب بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جیسے ناف کے عین نیچے کے سارے بال صاف کرنے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے اور اس طرح سے تو انسان اپنے آدھے پیٹ کے بالوں کی صفائی کرتا رہے گا اور اس حکم میں پیٹ کے بالوں کی صفائی مقصود نہیں ہے۔
اس حکم کا مقصد در اصل طہارت ہے اور طہارت وہاں ہوتی ہے جہاں نجاست اور گندگی ہو لہذا شرم گاہ اور اس کے ارد گرد کا وہ حصہ جہاں پسینہ وغیرہ جمع ہونے کی وجہ سے میل کچیل اکھٹی ہو جاتی ہے اور بدبو پیدا ہو جاتی ہے یا جہاں بال ہونے کی وجہ سے نجاست کے ان بالوں میں اٹک جانے یا ان بالوں کی وجہ سے زیادہ بدبو پیدا ہونے یا ان میں میل کچیل جمع ہونے کے امکانات ہوتے ہیں تو وہاں سے بالوں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اب بعض لوگوں کے لیے شرم گاہ کا لفظ بھی مبہم رہے گا کہ اس سے کیا مراد ہے تو عرض ہے کہ فقہاء نے اس کی تفصیل میں کہا ہے کہ ذَکر (penis/vagina)، خُصیتین (testicles) اور مَقعد (anus) پر اور اس کے کچھ ارد گرد کے بال صاف کرنا اس حکم کا مقصود ہے۔ اب میرے خیال میں وضاحت ہو گئی ہو گی۔۔
ڈاکٹر زبیر تیمی حفظہ اللہ
اس کے بارے میرے ناقص علم کے مطابق سب سے بہترین شیخ رفیق طاہر صاحب نے مضمون لکھا ہوا ہے۔ لنک ملاحظہ فرمائیں:
زیر ناف بال مونڈنے کی حد – مفتی محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ https://share.google/ZENunPZucSaFf2B78

فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ