سوال 7083

السلام علیکم و رحمۃ اللہِ وبرکاتہ
اونٹ تو بیٹھتے وقت پہلے اگلے پاوں نیچے کرتا ہے پھر پچھلے۔ آگے سے نیچے ہو جاتا ہے پیچھے سے اونچا رہتا ہے اگر ہم پہلے ہاتھ لگائیں تو ہم بھی اسی طرح ملتے جلتے ہو جاتے ہیں۔
تھوڑی وضاحت کر دیں کہ اونٹ کی طرح کیسے نہیں بیٹھنا؟ جزاکم اللہ خیر

جواب

وعلیکم السلام!
دیکھیں، اونٹ کے بیٹھنے کے طریقے کو لے کر جو بحث چلتی ہے، اس کی تعبیر میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر ہم الجھن سے بچنا چاہیں تو سب سے سیدھا راستہ یہ ہے کہ حدیث کے اپنے الفاظ پر غور کر لیں۔
حدیث میں پہلے تو یہ بات کہی گئی کہ “اونٹ کی طرح مت بیٹھو”۔ اب اس کی وضاحت بھی اسی حدیث میں آگے آ گئی کہ “پہلے ہاتھ رکھو اور پھر گھٹنے”۔ بس اتنی سی بات ہے اور معاملہ بالکل صاف ہو گیا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک طرف اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا اور ساتھ ہی یہ طریقہ بھی بتا دیا گیا کہ پہلے ہاتھ رکھنے ہیں۔ تو حدیث نے خود ہی اپنے الفاظ کی وضاحت کر دی کہ جو شخص پہلے ہاتھ رکھتا ہے، وہ دراصل اونٹ والے طریقے سے بچ گیا ہے۔
باقی یہ بحث تو اپنی جگہ موجود ہے کہ اونٹ کے اگلے پاؤں ہاتھ ہوتے ہیں یا پچھلے، لیکن حدیث کے ظاہری الفاظ بالکل واضح ہیں۔ جب وہاں صاف کہہ دیا گیا کہ ہاتھ پہلے رکھو، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہاتھ پہلے رکھنے والا شخص اونٹ کی مشابہت سے نکل گیا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ