سوال 7099
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک سوال کا جواب چاہیے تھا آج سے تقریبا 30 سال قبل ایک ادمی نے مجھ سے کاروبار کے لیے دو لاکھ روپے لیے اس نے کہا کہ میں کاروبار کروں گا اور اس میں جو انکم ہوگی وہ اپ کو بھی دوں گا لیکن اس نے وہ پیسے ضائع کر دیے کاروبار بھی ختم کر دیا اور مجھے پیسے بھی نہ دیے اج تقریبا 30 سال کے بعد وہ کہہ رہا تھا میں اپ کے دو لاکھ واپس کروں گا تو کیا اس وقت وہی دو لاکھ روپے لینے چاہیے یا اج کی مالیت کے حساب سے پیسہ لینا چاہیے کیونکہ 30 سال قبل کے دو لاکھ اور اج کے دو لاکھ میں بڑا فرق ہے۔ جزاک اللہ خیر کثیرا
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
تیس سال کا عرصہ واقعی بہت لمبا ہوتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آواز اٹھانے کا وقت تو وہی تھا، اگر آپ تب بات کرتے تو اپنا جائز حق لے پاتے، پھر چاہے نفع ہوتا یا نقصان۔ لیکن اب تو وہ پرانی باتیں ہو گئیں، جن کا تذکرہ کرنے کا اب فائدہ نہیں۔
قاعدے کی بات مانی جائے تو آپ نے جتنا پیسہ دیا تھا، وہی لینے کے حقدار ہیں۔ اب چونکہ وہ پاکستانی کرنسی تھی، تو آپ کو وہی واپس ملے گی۔ روپے کی قدر کم ہوئی یا زیادہ، یہ تو نصیب کی بات ہے، اس بنیاد پر آپ رقم بڑھانے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ ہاں، اگر انہوں نے آپ کے پیسے کاروبار میں لگائے اور نفع نہیں دیا، تو اس پر آپ ضرور بات کر سکتے ہیں۔ باقی جو کچھ ہوا، اسے اللہ کی رضا سمجھ کر وہیں چھوڑ دیں اور اپنی رقم لے کر معاملہ ختم کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




