سوال 7176

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم مشائخ کرام جو بھائی قربانی نہیں کر سکتے کیا ان کو ثواب نہیں ملے گا بال کاٹنے کا اور ناخن کاٹنے کا میرا مطلب ہے کہ یہ عمل بال کاٹنا اور ناخن صرف انہی لوگوں کے لیے خاص ہے جو قربانی کر ہے ہوں رہنمائی درکار ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سنن ابی داؤد کے الفاظ ہیں:

مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ، فَإِذَا أَهَلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ”.

جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے قربانی کا جانور موجود ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند طلوع ہو جائے (تو وہ) اپنے بالوں اور اپنے ناخنوں میں سے کچھ بھی نہ کاٹے، یہاں تک کہ وہ قربانی کر لے۔
[سنن ابی داؤد 2791 والنسائی 4361، صحیح]
اگرچہ مذکورہ بالا روایات کی رو سے یہ حکم صرف قربانی کرنے والوں کے لیے ہے، تاہم قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والوں کے لیے بھی اس عمل کو سنن ابی داؤد اور سنن نسائی وغیرہ کی ایک روایت میں مشروع اور مستحسن قرار دیا گیا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ” أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ”. فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: ” لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ”.

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا:
مجھے عید الاضحیٰ کے دن کو عید (کا دن) بنانے کا حکم دیا گیا ہے، جسے اللہ نے اس امت کے لیے مقرر فرمایا ہے
اس شخص نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ بتائیے کہ اگر میرے پاس (قربانی کے جانوروں میں سے) صرف ایک ایسی اونٹنی یا بکری ہو جو مجھے کسی نے دودھ پینے کے لیے (عاریتاً) دے رکھی ہو، تو کیا میں اسی کی قربانی کر دوں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“نہیں! (ایسا نہ کرو)، بلکہ تم (عید کے دن) اپنے بال تراشو، اپنے ناخن کاٹو، اپنی مونچھیں چھوٹی کرو اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کرو؛ اللہ عزوجل کے ہاں تمہاری قربانی کا ثواب اسی سے مکمل ہو جائے گا۔”
[سنن النسائی : 4365، وکذا سنن أبي گے داؤد : 2789 ، والحدیث حسن]
امام نسائی رحمہ اللہ اس حدیث پر کچھ اس طرح سے باب باندھتے ہیں: باب من لم يجد الأضحية
“باب: جو قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو (وہ کیا کرے)”

فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ

نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کے پوچھنے پر انہیں بتایا تھا کہ اگر وہ نماز (عید) کے بعد اپنے بال اور ناخن تراش لیں، تو اللہ تعالیٰ انہیں مکمل قربانی کا اجر عطا فرمائے گا۔ اس لیے جو لوگ صاحبِ حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے قربانی نہیں کر پاتے، ان کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اس طریقے سے قربانی کا پورا اجر حاصل کر لیں۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ