سوال 7098

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک معترض کا اعتراض ہے کہ انسان صحت یابی کے لیے ڈاکٹر اور دوا کو وسیلہ بناتا ہے تو اپنے کسی بھی کام کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وسیلہ نہیں بنا سکتا؟

جواب

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بیماری میں کسی طبیب یا حکیم کے پاس جانا اور علاج کروانا بالکل جائز ہے، کیونکہ خود شریعت نے ہمیں اس کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو شفا کا ذریعہ اور سبب بنایا ہے، ہمیں انہیں بالکل اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ اصل شفا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے مگر اس نے کچھ اسباب طے کر دیے ہیں۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ شہد کا استعمال کرو، کلونجی سے فائدہ اٹھاؤ۔ نبی کریم ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ “اے اللہ کے بندو! علاج کروایا کرو، مگر حرام چیزوں سے بچو”۔ بے شک اللہ نے حرام کردہ چیزوں میں تمہارے لیے کوئی شفا نہیں رکھی۔
مطلب یہ کہ جو چیزیں شریعت کی رو سے علاج کا جائز ذریعہ ثابت ہیں، ہم انہیں ضرور اپنائیں گے، لیکن جنہیں شریعت نے سبب تسلیم نہیں کیا، ان کا سہارا نہیں لیں گے۔ جیسے قرآن پاک میں واضح ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ نہیں بن سکتے، بلکہ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی کام آتے ہیں۔ اسی طرح کسی کی ذات کو وسیلہ بنا کر اللہ کے حضور پیش کرنا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ