سوال 7726
میرا سوال یہ تھا کہ اگر ایک اپلیکیشن ہے جو واٹس ایپ کی طرح ہے اور اس کے اندر ہم ایک فیچر ریلز کا بھی ڈال دیتے ہیں لوگ ریلز اپنی اپلوڈ کریں گے اور لوگ دیکھنے والے دیکھیں گے جس طرح بھی اس نے پرائیویسی سیٹ کی ہوئی ہے کہ پبلک اویلیبل ہو یہ میرے کنیکشن صرف اس ریلز کو دیکھیں اور وہ ریلز کوئی بھی اپلوڈ کر سکتا ہے گانے کی کر سکتا ہے تلاوت کی کر سکتا ہے کوئی بھی کر سکتا ہے تو کیا یہ اپلیکیشن بنانے والا بندہ مجرم ہوگا جبکہ اس کو پتہ ہے کہ اس پہ کسی بھی طرح کا کنٹینٹ آ سکتا ہے اور اگر کوئی بھی کنٹینٹ وہ اپلوڈ کر رہا ہے تو میرے پاس اتھارٹی نہیں ہے کہ میں اس کنٹینٹ کو وہاں سے ریموو کر دوں وہ جن کی اپلیکیشن ہے وہ ہی چاہیں تو ریموو کریں گے نہ کرنا چاہیں تو نہ کریں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، جی خوش آمدید!
دیکھیں، کسی بھی ایپ، ٹول یا ویب سائٹ میں ایسا آپشن یا فیچر رکھنا جو بذاتِ خود نہ اچھا ہو نہ برا، بلکہ لوگ اسے اچھے اور برے دونوں طریقوں سے استعمال کر سکتے ہوں، تو اس طرح کی ایپ یا فیچر بنانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مثلاً لوگ اس میں قرآن مجید کی تلاوت بھی اپلوڈ کر سکتے ہیں اور گانے بھی۔ ہم تو ایک عام اور عمومی نوعیت کی چیز بنا کر دے رہے ہیں، ہم کسی سے یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ اس کے ذریعے گناہ کا کام کرے۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دکان سے چھری خریدتا ہے۔ چھری ایک ضرورت کی چیز ہے، جسے سبزی یا سیب کاٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسی چھری سے کوئی شخص غلط کام بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح لائٹر، ماچس اور دوسری چیزیں بھی ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل اور لیپ ٹاپ کو دیکھ لیجیے، ان میں دنیا کے اچھے کام بھی ہوتے ہیں اور برے کام بھی۔
لہٰذا آپ نے ریلز کے فیچر کا جو ذکر کیا ہے، تو اسے ایپ میں رکھنے میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم تو یہی چاہیں گے کہ لوگ اسے اچھے سے اچھے کاموں کے لیے استعمال کریں، لیکن اگر کوئی اسے غلط استعمال کرتا ہے تو محض اس وجہ سے ہماری ذمہ داری لازم نہیں آتی کہ ہم نے ایک عمومی نوعیت کا فیچر بنایا ہے۔
البتہ ایک بات قابلِ توجہ ہے کہ اگر آپ کو پہلے ہی معلوم ہو کہ کسی فیچر کا غلط استعمال ہونے کا امکان ہے تو اسے اس طرح ڈیزائن کرنے کی کوشش کریں کہ اس کا اچھے سے اچھا استعمال ممکن ہو اور غلط استعمال کی حوصلہ شکنی ہو۔
اسی طرح، اگر آپ کی اپنی ایپ ہے اور بعد میں آپ کو معلوم ہو جائے کہ کوئی مخصوص فیچر زیادہ تر غلط استعمال ہو رہا ہے، لوگ اس سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا رہے، تو پھر اسے ختم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ فیچر بذاتِ خود غلط تھا، بلکہ اس وجہ سے کہ اس کا استعمال زیادہ تر غلط ہو رہا ہے اور لوگ اس سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا رہے۔
لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ عمومی اور جائز استعمال کے لیے ایسا فیچر بنانا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اس کے استعمال کے حالات سامنے آنے کے بعد اس کا جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق اصلاح کرنا بھی ضروری ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




