شیخ ربانی رحمہ اللہ کی دو نصیحتیں

شیخ محترم مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ نے ایک مجلس میں دو نصحتیں کی تھیں:
1۔ بیٹا آپ کسی کے ساتھ نہیں چل سکتے، اپنا ادارہ بنالیں۔
2۔ ادارے کو وقف یا کسی کے نام کروانے کی بجائے اپنے نام رکھیں، تاکہ بعد میں آپ کو پریشانیاں نہ ہوں۔
پہلی نصیحت تو مجھے بہت سمجھ آئی اور ایسی سمجھ آئی کہ نہ صرف اس پر عمل پیرا ہوں، بلکہ اب میں اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں۔
اور در حقیقت یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت اور مشورہ ہے جو سمجھتا ہے کہ ادارے/ جماعتیں کچھ نہیں کر رہیں، ورنہ یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔
ایسے سب لوگوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کہ وہ خود سے محنت کرکے اپنے لیے رستے کا انتخاب کریں اور اس پر کچھ کر کے دکھائیں۔
کیونکہ جنہوں نے ادارے بنائے ہوئے ہیں وہ کبھی آپ کی سوچ و فکر کے مطابق نہیں چلنے والے!
شیخ رحمہ اللہ نے مجھے یہ نصیحت اس وجہ سے کی تھی، کیونکہ وہ مجھے دیکھتے رہتے تھے کہ میں اداروں پر بڑی سخت تنقید کیا کرتا تھا!
خود شیخ رحمہ اللہ کی زندگی میں بھی یہ چیز نظر آتی ہے کہ جس طرح ان کی صلاحیتیں تھیں، اس حساب سے انہیں کسی بھی جماعت یا ادارے میں کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں ملا، لہذا انہوں نے پھر مرکز الحسن کی بنیاد رکھی، اللہ کی مرضی کہ اس ادارے کے حوالے سے ان کے جو خواب تھے، وہ ان کو پورا نہ کر سکے، ورنہ شیخ کی صحت اور زندگی وفا کرتی تو کوئی بعید نہ تھا کہ ’دار الحدیث۔ لاہور’ جیسے کسی نام سے ایک ایسا شاندار ادارہ وجود میں آتا، جس سے پوری دنیا کے لیے طالبان حدیث اور محدثین تیار ہوتے!
شیخ رحمہ اللہ کی دوسری نصیحت کی عملی صورت بہت مشکل لگتی ہے۔ کیونکہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑا کام کرنے کے لیے آپ کو ٹیم اور قابلِ اعتماد لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ تب تک ممکن نہیں، جب تک آپ دوسروں پر اعتماد نہ کریں! اور اعتماد کی ایک شکل یہ ہے کہ آپ دوسروں کو باقاعدہ اپنے پراجیکٹس کا معاون اور ملازم نہیں، بلکہ حصے دار بنائیں۔
جب آپ کسی چیز کو مکمل اپنے نام کروا لیتے ہیں، تو بہت سارے لوگ آپ کے ساتھ چلنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں!
بہر صورت شیخ کی زندگی کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو یہ دوسری نصیحت بھی ان کے تجربات کا نچوڑ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ اگر واقعتا وہ خود اس طرز پر چلتے تو ہو سکتا ہے کہ ان کی رفتار آہستہ ہوتی، لیکن یقینا ان کی زندگی کے آخری ایام اتنے کڑے اور مشکل نہ گزرتے اور انہیں پے در پے یوں صدمے برداشت نہ کرنا پڑتے!
چند نا سمجھ اور گھامڑ لوگوں نے اس بات کو انتہائی زیادہ گھٹیا رخ دیا ہے اور بالکل سطحی انداز سے ڈیل کیا ہے حالانکہ یہ ایک راسخ عالمِ دین اور محدثِ جلیل کی پوری زندگی کا نچوڑ، تجربات و مشاہدات کا وہ خاکہ تھا، جس میں اس نے پوری زندی لگا کر رنگ بھرا تھا، اور یہ ایسا پودا تھا، جسے پوری زندگی اپنی دعوتی، تحقیقی، تصنیفی، تعلقاتی صلاحیتوں کے خون سے سینچا تھا، جس کے لیے اپنی اولاد اور شاگردوں کو تیار کیا تھا، لیکن جب اس کے پھل دینے کی باری آئے تو یہ چند ناسمجھوں کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔

#خیال_خاطر

شیخ رحمہ اللہ سے متعلق مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔