سوال 7602
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم ایک شخص جو مردانہ کمزوری کا شکار ہے اور اس کا علاج ہے لیکن وہ شخص کرواتا نہیں کبھی کبھار اپنی بیوی سے قربت حاصل کر لیتا ہے جس سے بیوی کی جنسی خواہش پوری نہیں ہوتی تو کیا بیوی اس نیت سے حق زوجیت سے انکار کر سکتی ہے تاکہ وہ شخص اپنا علاج کروا لے یا یہ بیوی ایسا کرنے پر گنہگار ہوگی اس بارے میں رہنمائی فرما دیں اللہ تعالی اپ کو عزتوں اور برکتوں سے نوازے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ سوال عجیب ہے.
شریعت میں نکاح محض مرد کی ضرورت پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ بیوی کا بھی یہ شرعی حق ہے کہ اس کی فطری خواہش پوری ہو اور وہ گناہ یا فتنے سے محفوظ رہے۔ قرآنِ مجید کا اصول ہے:
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ (البقرۃ: 228)
یعنی عورتوں کے بھی مردوں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر۔
لہذا شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی کو عفت و پاکدامنی فراہم کرے۔ اگر شوہر کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا علاج ممکن ہے، تو علاج کروانا اس کے ذمے اخلاقی اور شرعی تقاضا ہے تاکہ وہ اپنی بیوی کو نقصان اور فتنے میں نہ ڈالے۔ اصولی قاعدہ ہے:
“لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ”
(نہ نقصان اٹھایا جائے، نہ دیا جائے)۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ شوہر اپنا علاج کیوں نہیں کروانا چاہتا؟ اگر اسے واقعتا وظیفہ زوجیت ادا کرنے میں دلچسپی نہیں تو پھر بیوی کا انکار اس کے لیے مزید دوری کا سبب بن سکتا ہے۔
بہر صورت عورت کو چاہیے کہ محبت اور حکمت سے شوہر کو سمجھایا جائے کہ علاج کوئی بری چیز نہیں ہے اور یہ رشتہ دونوں کے اطمینان کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر شوہر ضد یا لاپروائی پر قائم رہے اور بیوی کو گناہ یا فتنے کا اندیشہ ہو، تو شریعت نے عورت کو قانونی چارہ جوئی (خلع یا فسخِ نکاح) کا پورا حق دیا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




