سوال 7086
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اگر کسی کی صرف بیٹیاں ہی ہوں اور وہ اپنے آخری وقت میں یہ وصیت کر جائے کہ میری ساری جائیداد میری بیٹیوں کی ہے میرے مرنے کے بعد والدین بھی زندہ نہ ہو تو پھر وراثت کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جن ورثاء کے حصے شریعت میں مقرر کر دیے گئے ہیں ان کے متعلق وصیت جائز نہیں اور اگر کوئی ایسی وصیت کر بھی دے تو نہ اس کی کوئی حیثیت ہو گی اور نہ وہ نافذ کی جائے گی۔
البتہ اگر ایسی صورت ہے کہ بیٹی کے علاوہ ورثاء میں کوئی بھی موجود نہ ہو مرنے والے کے حقیقی رشتہ دار جو وارث بن سکتے ان میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں تو پھر وصیت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سب کچھ خود ہی بیٹیوں کو مل جائے گا لیکن دیگر ورثاء موجود ہوں تو ایسی وصیت کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی اور وراثت طے شدہ حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
فضیلۃ الباحث طارق رشید وہاڑی حفظہ اللہ
سائل: کون کون وارث ہیں اس شخص کے اگر زندہ ہوں سب تو ان کو کتنا کتنا حصہ جائے گا؟
جواب: اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو اگر صرف ایک ہی بیٹی ہے تو کل وراثت کا نصف اور ایک سے زیادہ بیٹیاں ہیں تو کل وراثت کا دو تہائی انہیں ملے گا یعنی تین حصے کر کے ان میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کر دیں اور تیسرا حصہ باقی ورثاء میں۔
اولاد میں اگر صرف بیٹیاں ہیں تو باقی بچنے والا حصہ *الاقرب فالاقرب* کے تحت قریبی رشتہ دار کو ملے گا۔
اگر مرنے والے کی بیوی بھی نہیں والدین اور دادا دادی، نانا نانی بھی نہیں تو بیٹیوں کو دے کر باقی بچ جانے والا حصہ مرنے والے کے بہن بھائیوں کو ملے گا، بہن بھائی بھی نہ ہوں تو وہ حصہ بھتیجے بھانجے کو یا چچا تایا کو ملے گا وہ بھی نہ ہوں تو ان کے بیٹے کو ملے گا اور اگر کوئی بھی قریبی رشتہ دار نہ ہو تو پھر وہ حصہ بھی بغیر کسی وصیت کے ہی بیٹیوں کو مل جائے گا۔
فضیلۃ الباحث طارق رشید وہاڑی حفظہ اللہ
سائل: باقی بچنے والا حصہ اس کے والدین زندہ ہیں بھائی زندہ ہیں بھتیجے بھی زندہ ہیں بہنیں بھی ذندہ ہیں۔
ابھی تیسرا حصہ ان سب کو دیں یا کوئی مخصوص شرط شریعت میں ہے اور بیوی کا کتنا حصہ ہوگا؟
جواب: پہلے سوال کے شروع میں آپ نے کہا تھا کہ والدین بھی زندہ نہ ہو، اب آپ نے کہا کہ والدین زندہ ہیں
اگر والدین زندہ ہیں اور بیوی موجود ہے اور بیٹیاں ہیں تو چھٹا حصہ والد کا اور چھٹا حصہ والدہ کا اور بیوی کا آٹھواں حصہ ہو گا باقی بیٹیوں کا اس کے علاوہ بہن بھائی بھتیجے وغیرہ محروم رہیں گے
جب زیادہ قریبی رشتہ موجود ہو تو دور والا محروم ہو جاتا ہے جب اپنے گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو پھر بہن بھائی یا چچا تایا تک بات پہنچتی ہے۔
فضیلۃ الباحث طارق رشید وہاڑی حفظہ اللہ




