سوال 7140

اگر مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے، اور ران بھی ستر میں شامل ہے، تو پھر اس حدیث کو کیسے سمجھا جائے جس میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ کی ران یا پنڈلی سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ اسی حالت میں رہے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے کپڑا درست فرما لیا؟
اس حدیث میں اگرچہ احتمال ہے لیکن بعض احادیث معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ ران ہی سے کپڑا ہٹا ہوا تھا کیونکہ احادیث میں مرد کو آدھی پنڈلی تک کپڑا رکھنے کا حکم بھی ملتا ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
عمومی طور پر جو ادلہ ہیں، وہ یہی بتاتے ہیں کہ “الفخذ عورة” یعنی ران ستر میں داخل ہے۔ البتہ کبھی کبھار کپڑے کا کسی عذر یا وجہ سے ہٹ جانا ایک الگ معاملہ ہے۔ احادیث میں سواری کے دوران کپڑا ہٹنے کا ذکر بھی ملتا ہے، اور یہ بھی ذکر ہے کہ آپ ﷺ کنویں کی منڈیر پر تشریف فرما تھے اور کپڑا کچھ ہٹا ہوا تھا، اگرچہ اس روایت میں ران اور گھٹنے دونوں کا احتمال موجود ہے۔ لہذا اصول یہ ہے کہ: “إذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال” یعنی جب کسی دلیل میں احتمال آ جائے تو اس سے قطعی استدلال کمزور ہو جاتا ہے۔
اس بنا پر ران بہرحال ستر میں داخل ہے، اس کا اہتمام اور خیال رکھنا چاہیے۔ آج کل لوگ شارٹ وغیرہ پہنتے ہیں، گھر میں پہن سکتے ہیں، لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ گھٹنے سے نیچے ہو، یا کم از کم گھٹنے کو ضرور ڈھانپ رہی ہو۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ