سوال 7082
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
1۔ گورنمنٹ گھر بنانے کے لیے فکس مارک اَپ پر قرضہ دے رہی ہے ، جو کہ 5 سال تک 5 فیصد مارک اَپ کے ساتھ اَقساط میں لوٹانے ہیں اور 5 سال کے بعد 7 فیصد مارک اَپ کے ساتھ اقساط کی صورت میں واپس کرنے ہیں، کچھ اسلامک بینکنگ سے منسلک بینک بھی دے رہے ہیں۔ کیا شرعی طور پر یہ قرضہ لینا ٹھیک ہے؟
2۔ میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں جاب کرتا ہو۔ اور وہاں کمپنی بینک سے قرضہ لیتی ہے سود پر میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ آپ جو گورنمنٹ اسکیم پر جو لون لے رہے ہیں۔ وہ سود ہے۔ تو اس نےاس کے جواب میں کہاں آپ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ بھی تو بینک سے سود لیتی ہے۔ لہذا آپ بھی اس جاب کو چھوڑ دے۔ جب کہ ہماری کمپنی جو کہ جینس کا کپڑا بناتی ہے اور ساتھ ساتھ گارمنٹس فیکٹری بھی ہے۔
کیا ہمارے لئے یہ کام جائز ہیں۔
ویسے بھی کراچی میں جتنے بھی فیکٹریاں ہیں نا وہ بینک سے ہی قرضہ لیتی ہیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
یہ بات تو بالکل صاف ہے کہ بینک کے سودی نظام کا براہِ راست حصہ بننا حرام اور ناجائز ہے۔ لیکن کسی کمپنی یا ادارے میں ملازمت کرنا، جہاں بالواسطہ (indirectly) واسطہ پڑتا ہو، اس کے جائز ہونے پر علما کا اتفاق ہے۔
ہمیں معاملات کو گڈ مڈ کر کے بحث کو الجھانا نہیں چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم موجودہ بینکنگ کو جائز کہنے والوں کو مدلل بات سے لاجواب کر دیتے ہیں، تو وہ غصے میں آ کر جذباتی ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پھر تو آپ کی مسجد اور مدرسے کا بھی اکاؤنٹ ہے، آپ کا اپنا اکاؤنٹ بھی ہے، اور کرنٹ اکاؤنٹ بھی حرام ہے! وہ چیخ چیخ کر بس بحث جیتنا چاہتے ہیں۔
اس لیے ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے براہِ راست اور بالواسطہ معاملے کے فرق کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے اور اسے واضح رکھنا چاہیے، تاکہ فضول بحث سے بچا جا سکے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




