سوال 7087

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مدرسے کے طلبہ کے لیے ایک دودھ فروش بھائی روزانہ ایک کلو دودھ بغیر قیمت کے دینا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں مدرسے کے کسی بچے کو روز بھیج دیا کریں دودھ لینے کے لیے، جب وہ بچہ دکان پر آئے تو اندر بیٹھ کر قرآن یا سورہ یسین پڑھ دیا کرے پھر دودھ کے کر مدرسے چلا جائے. سوال یہ کہ اس میں شرعاً کوئی حرج ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
یہ اہل بدعت کا شعار ہے اس طریقے سے قرآن خوانی کروانا۔ فرد کی ہو یا افراد کی ہو۔ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس معاملے میں دو تین بنیادی باتیں سمجھنے والی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اسے ‘مفت’ کہنا ہی غلط ہے؛ یہ مفت کہاں ہوا؟ وہ ایک کلو دودھ دے رہے ہیں اور بدلے میں ایک سروس لے رہے ہیں، یعنی ایک طالب علم وہاں جا کر وقت دے گا اور قرآن خوانی کرے گا۔ اگر آپ موزانہ کریں تو ایک کلو دودھ کی قیمت زیادہ ہے یا اس طالب علم کے وقت اور محنت کی؟ یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے اور ایک طرح کی ہوشیاری معلوم ہوتی ہے جس میں اہل قرآن کے وقت کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی۔ اگر ڈیل کرنی ہے تو سامنے رکھ کر سیدھی بات کرنی چاہیے۔
دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل شرعی طور پر بھی مسنون نہیں ہے۔ قرآن خوانی کا یہ طریقہ درست نہیں۔ اگر دکاندار کو اپنے رزق میں برکت چاہیے تو انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ آپ اللہ کے دین کے طالب علموں کو دودھ پلائیں گے تو برکت تو ویسے ہی آ جائے گی، کیونکہ وہ بچے ہر وقت قرآن ہی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے دکان پر جا کر بیٹھنا ضروری نہیں ہے، ورنہ کل کو کوئی کہے گا کہ میری جیب میں بیٹھ کر پڑھیں تاکہ یہاں برکت آ جائے۔
اصل میں لوگوں کی نظر میں ایک کلو دودھ کی قیمت تو ہے، مگر قرآن پڑھنے والوں کے وقت کی کوئی اہمیت نہیں، اسی لیے وہ اسے فری کا نام دے کر ایسی شرطیں رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں سے بالکل دور رہنا چاہیے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: کیااِس پر قیاس نہیں ہو سکتا کہ قراء حضرات گھروں میں قرآن کی ٹیوشن پڑھانے جاتے ہیں پھر ان کو تنخواہ یا گندم وغیرہ دی جاتی ہے؟
جواب: دیکھیں، یہاں دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پڑھانے کی اجرت لینا درست ہے؟ تو جی ہاں، اس کی بالکل گنجائش ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بس بہتر یہ ہے کہ اسے “فری” یا محض احسان سمجھنے کے بجائے باقاعدہ طے کر لیا جائے؛ یعنی ایک طرف سے پڑھانے کی ذمہ داری ہو اور دوسری طرف سے اس کا معاوضہ، تاکہ دونوں کو معلوم ہو کہ یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے۔
رہی بات دوسری، کہ کیا اس طرح غیر مسلموں کے ہاں رائج ‘قرآن خوانی’ کے تصور کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں، وہ جائز نہیں ہوگا۔ جہاں تک گھروں میں جا کر ٹیوشن پڑھانے کا تعلق ہے، تو وہ تو تعلیم و تربیت کا حصہ ہے جس میں کوئی برائی نہیں اور اہل حدیث حضرات بھی اسے درست سمجھتے ہیں۔
اصل مسئلہ وہاں آتا ہے جہاں لوگ خاص طور پر ختم یا ایصالِ ثواب کے لیے گھروں میں پارے پڑھنے جاتے ہیں، ہم اسے درست نہیں مانتے۔ لیکن اگر دکان کا مالک یا وہاں کام کرنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی قاری صاحب آئیں اور انہیں باقاعدہ قرآن پاک پڑھنا سکھائیں، تو یہ تو خالص تعلیم ہے اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ