سوال 7094

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ
معزز شیوخ عظام اک رہنمائی درکار ہے کہ حج یا عمرہ میں طواف کے لیے وضو کی شرط ہے یا نہیں اور اگر دوران طواف وضو ٹوٹ جائے تو طواف جاری رکھا جائے گا یا چھوڑ دیا جائے؟

جواب

وعليكم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اكثر علماء کے نزدیک طواف کے لیے وضو ضروری ہے لیکن احناف اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ کا موقف ہے کہ وضو مستحب ہے البتہ وضو کے بغیر بھی طواف ہو جاتا ہے۔
ابن عثيمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فالقول الراجح الذي تطمئن إليه النفس: أنه لا يشترط في الطواف الطهارة من الحدث الأصغر، لكنها بلا شك أفضل وأكمل واتباعاً للنبي صلى الله عليه وسلم، ولا ينبغي أن يخل بها الإنسان لمخالفة جمهور العلماء في ذلك، ولكن أحياناً يضطر الإنسان إلى القول بما ذهب إليه شيخ الإسلام، مثل: لو أحدث أثناء طوافه في زحام شديد، فالقول بأنه يلزمه أن يذهب ويتوضأ ثم يأتي في هذا الزحام الشديد، لا سيما إذا لم يبق عليه إلا بعض شوط: فيه مشقة شديدة، وما كان فيه مشقة شديدة ولم يظهر فيه النص ظهوراً بيِّناً: فإنه لا ينبغي أن نُلزم الناس به، بل نتبع ما هو الأسهل والأيسر ؛ لأن إلزام الناس بما فيه مشقة بغير دليل واضح منافٍ لقوله تعالى: يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر. البقرة / 185 انتهى من ” الشرح الممتع ” (7 / 300).

خلاصہ یہ ہے کہ بلا وضو طواف کرنا مناسب نہیں، البتہ اگر کبھی کبھار مجبوری کی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ طواف درمیان میں چھوڑ کے وضو کرنا مشکل ہو یا طواف بالکل اختتام کے قریب ہے اور دوبارہ وضو کر کے نئے سرے سے شروع کرنے میں مشقت ہو تو پھر ابن تیمیہ وغیرہ کے موقف پہ عمل کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
طواف کے لیے وضو مستحب ہے۔

فَقَالَ قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ ﷺ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ [بخاری: 1641]

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ معظمہ آئے تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ آپ نے وضو کیا،پھر کعبہ کا طواف کیا۔
لیکن طواف کے لیے وضو لازم نہیں ہے۔ لہذا اگر دوران طواف وضو ٹوٹ جائے تو طواف جاری رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں۔ لاحرج
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ