سوال 7072

ایک قطعہ زمین والد اور تین بھائیوں نے مشترکہ طور پر خریدا۔ والد کھیتی باڑی کرتے ہیں اور تینوں بیٹے ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، یعنی کل آٹھ بہن بھائی ہیں۔ ان میں سے چار بہن بھائی اس وقت شادی شدہ تھے۔ کیا یہ قطعه زمین باپ اور اِن تین بھائیوں میں ہی تقسیم ہوگا یا اس میں باقی ماندہ بہن بھائی بھی شریک ہوں گے، جبکہ انہوں نے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈالا؟
نیز بعد میں چھوٹے بھائیوں نے والد کے ساتھ مل کر زمین خریدی۔ اس میں سے کچھ حصہ والد نے اپنے نام کروایا اور باقی ماندہ حصہ چھوٹے بیٹوں کے نام کروا دیا۔ اور والد صاحب کے نام جو زمین ہے، اس کی پیداوار بھی چھوٹے بھائیوں کے پاس ہوتی ہے۔ اور بڑے بیٹے اب بھی بقدرِ استطاعت والدین کی خدمت کرتے ہیں۔
برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل فرمائیں۔

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

اصولی بات یہ ہے کہ باپ کی زندگی میں اس کی اولاد جو بھی کاروبار کرے گی وہ باپ کی ملکیت تصور ہو گا اور اس کے تمام ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہو گا۔
الا یہ کہ بعض بیٹے یا اولاد اپنا الگ کاروبار کرے یا یہ واضح کر دے کہ فلاں کاروبار میرا الگ ہے اور اس میں دوسرے حصہ دار نہیں ہیں، یا پھر باپ کو پیسے وغیرہ دیتے ہوئے یہ وضاحت کر دی جائے کہ یہ پیسے بطور قرض یا مستقل حصے کے طور پر دیے جا رہے ہیں، تو ایسی صورت میں اس مال کو باپ کی وراثت تصور کرنے کی بجائے الگ حیثیت سے دیکھا جائے گا۔
پوچھے گئے سوال کی حیثیت و نوعیت کے لحاظ سے اہلِ علم نے اس میں دو موقف اختیار کیے ہیں:
1۔ بعض اہل علم کا موقف یہ ہے کہ اس قطعہ زمین میں صرف وہی اولاد اور والد شریک ہیں جنہوں نے اپنا حصہ (پیسوں وغیرہ کی صورت میں) ڈالا ہے۔ باقی بھائیوں اور بہنوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس میں ان کے پیسے (مال وغیرہ) شامل نہیں ہیں۔
گویا ان اہل علم نے یہ سمجھا ہے کہ اولاد نے وضاحت کر دی تھی کہ یہ ہماری الگ سے زمین ہے اور یہ مشترکہ ملکیت تصور نہیں ہو گی۔
2۔ جبکہ دیگر اہل علم نے اسے پہلی اور اصولی صورت کے مطابق سمجھا ہے کہ باپ کی موجودگی میں جو بھی کاروبار ہو گا، وہ سب کا مشترکہ تصور کیا جائے گا، لہذا اس قطعہ زمین کا مالک باپ کو تصور کیا جائے گا، اور تمام اولاد بحیثیت وارث اس میں شریک ہو گی، چاہے پیسے شامل کیے ہیں یا نہیں کیے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ