سوال (1111)

وضو کے بعد تولیہ وغیرہ سے جسم صاف کرنا منع ہے؟

جواب

وضو کے بعد تولیہ وغیرہ استعمال کرنے کا تعلق معاملات سے ہے، اور معاملات میں اصل اباحت (جواز) ہے، الا یہ کہ منع کی دلیل آجائے۔
بعض لوگ اس حدیث سے تولیہ وغیرہ کے استعمال کا منع ثابت کرتے ہیں :

“قال الإمام البخاري :حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى،قَالَ: أَخْبَرَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَى،قَالَ: أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ،عَنْ سَالِمٍ،عَنْ كُرَيْبٍ،مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَضُوءًا لِجَنَابَةٍ،فَأَكْفَأَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا،ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ،ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوِ الحَائِطِ،مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا،ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ،وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ،ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ المَاءَ،ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ،ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا،فَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ”.

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا :ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا،انھوں نے کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا،انھوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا انھوں نے سالم کے واسطہ سے،انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے،انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا،انھوں نے ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا،انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ ﷺ نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔پھر شرمگاہ دھوئی۔پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا۔پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا۔پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے۔حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے۔
جبکہ اس ہی روایت سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تولیہ استعمال کرتے تھے ، وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تولیہ استعمال کرتے تھے تو آپ کی بیوی نے آپ کے سامنے تولیہ پیش کیا، اگر استعمال نہ کرتے ہوتے تو وہ تولیہ پیش نہ کرتیں، بس اس دن آپ نے تولیہ استعمال نہیں کیا ہے۔

فضیلۃ العالم عبد الخالق سیف حفظہ اللہ

ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس پر باب قائم کیا ہے۔

“المندیل بعد الوضوء و بعد الغسل”

اسی طرح دارمی رحمۃ اللّٰہ سنن میں اس پر باب قائم کرتے ہیں “المندیل بعد الوضوء”
یہ امر عادی ہے ، آدمی چاہے تو استعمال کر لے ، چاہے تو نہ کرے ۔

فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ