سوال 7686

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال پوچھنا تھا کہ ہمارے علاقے میں لوگ زمین مونجی کے ٹھیکے پر لے لیتے ہیں مثلاً پچیس تیس من کے ٹھیکے پر کیا ایسا ٹھیکہ جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مونجی یعنی دھان یا چاول کی متعین و معلوم فصل کو اگر بطور قیمت دیا جائے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی کو پیسے دے کر اس کی زمین ٹھیکے پر لی جاتی ہے۔
بعض احادیث کے ظاہر میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس کا محل اور مراد مختلف ہے۔ واللہ اعلم.

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
پیسوں کے عوم یا متعین مقدار جنس کے عوض زمین ٹھیکہ پر دینا جائز ہے۔
زمین ٹھیکے پر دینا مطلقا منع نہیں ہے۔ ممانعت والی روایات کا تعلق صرف ایک خاص صورت میں ہے کہ انسان اس طرز پر ٹھیکہ پر دے کہ اس جگہ سے لے کر اس جگہ تک کی پیداوار کاشت کرنے والے کی ہوگی اور فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک کی پیداوار ٹھیکہ پر دینے والی کی ہوگی۔ اس شرط پر زمین ٹھیکہ پر دینا منع تھا کیونکہ ممکن ہے کہ کاشت کرنے والا اپنے حصہ کی جگہ پر زیادہ بہتر طریقہ سے ہل وغیرہ چلائے اور زمین کے مالک والے حصہ میں کم۔ باقی مطلقا سونے چاندی، نقدی رقم وغیرہ کے عوض زمین ٹھیکہ پر دینا بالکل صحیح ہے۔
[صحیح مسلم : 3953]

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا قَالَ کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ عَلَی أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ہم انصار میں سے زیادہ محاقلہ والے تھے اور زمین اس شرط سے کرایہ پر دیتے تھے کہ یہاں کی پیداوار ہمارے لئے اور یہ ان کے لئے کبھی یہاں پیداوار ہوتی اور وہاں نہ ہوتی تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کردیا بہرحال چاندی کے بدلے دینے سے ہمیں منع نہیں کیا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ