عالمی سیاست میں دوہرا معیار امریکہ اسرائیل کا کردا
بین الاقوامی سیاست کا منظرنامہ جتنا بھی پیچیدہ ہے، اس کے اندر ایک تلخ حقیقت بار بار اپنا اظہار کرتی ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک کے اصول کبھی مستقل نہیں ہوتے، وہ حالات، مفادات اور جغرافیائی ضروریات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ آج جن جنگی شعلوں کی لپیٹ میں ہے، وہ اس حقیقت کا تازہ ترین اور خون آلود ثبوت ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائیاں ہیں، جنہیں بین الاقوامی قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کے باوجود علاقائی استحکام کا نام دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف ایران کا ردِ عمل ہے جو بظاہر دفاع کے نام پر کیا جا رہا ہے مگر اس کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ان سارے اہداف اور طریقہ کار کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ عالمی سیاست میں انصاف کی بجائے طاقت حاکم ہے، اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا، مشرقِ وسطیٰ اور اس جیسے دوسرے خطے امن کا خواب دیکھتے رہیں گے۔
جب سے امریکہ پر ایک ایسے صدر کی مسند آرائی ہوئی ہے جسے کامیڈین کہنا بعید از قیاس نہیں ہے، اس کا طاقت اور عقل کے درمیان توازن بگڑ کر رہ گیا ہے۔ اس کے بیانات میں دھمکیاں، پالیسیوں میں جارحیت اور فیصلوں میں وہ سنجیدگی اور دوراندیشی دکھائی نہیں دیتی جو کسی صدر کے وقار کے لیے لازم ہوتی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ دنیا سے امن کے نوبل انعام لینے کی بھیک مانگ رہا ہے تو دوسری طرف پوری انسانیت کو نئی تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا حتیٰ کہ ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے بیانات تک دے چکا ہے۔
یہ صرف بیانات نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے وہی پرانی امریکی تاریخ کی پرانی عادت ہے کہ ڈھونڈنے سے بہانہ مل جاتا ہے، اور پھر اس بہانے کے تحت کوئی بھی اقدام جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) واضح طور پر کہتا ہے کہ “تمام رکن ریاستیں اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی دوسری ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہیں گی۔لیکن جب یہ خلاف ورزی طاقتور ریاست کرتی ہے تو سلامتی کونسل میں ویٹو پاور اسے بے اثر کر دیتی ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو امریکہ کی عسکری مداخلتوں کی ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے۔ لیبیا میں 2011 کی مداخلت، جسے انسانی حقوق کا تحفظ کا نام دیا گیا، اس جنگ نے ایک مستحکم ریاست کو خانہ جنگی اور غلامی کی منڈیوں میں تبدیل کر دیا۔ شام کی خانہ جنگی میں امریکی مداخلت نے داعش جیسی تنظیموں کو ختم کرنے کے بجائے پیچیدگیاں بڑھائیں۔ افغانستان کی جنگ تو اس پوری داستان کا شاید سب سے بڑا اور المناک باب ہے کیوں کہ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں تقریباً 2,40,000 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 70,000 سے زائد عام شہری تھے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر شروع ہونے والی یہ جنگ خود ایک ایسی جنگ میں بدل گئی جس میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اور آخرکار امریکہ کو وہاں سے انخلاء کرنا پڑا۔
1945 میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کو ایٹمی دھماکوں کے ذریعے راکھ کر دینا محض ایک جنگی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا داغ تھا جسے تاریخ کبھی نہیں مٹا سکتی۔ ایک اندازے کے مطابق 1,40,000 (ہیروشیما) اور 74,000 (ناگاساکی) افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تابکاری کے طویل مدتی اثرات نے لاکھوں کو مزید متاثر کیا۔ یہ سیاہی بھی امریکہ کے حصے میں آئی۔
اسی تسلسل کی ایک دردناک کڑی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ ہے، جسے بے گناہ ہونے کے باوجود برسوں سے پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔ ان پر کوئی قابلِ ثبوت الزام ثابت نہ ہو سکا، پھر بھی انہیں امریکی جیل میں طویل قید میں رکھا ہوا ہے، یہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق تشدد اور قانونی بے راہ روی کی ایک مثال ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کے دوران تقریباً 4,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے صرف 2 فیصد پر مشتبہ عسکریت پسند ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا تھا، باقی عام شہری تھے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کی احمقانہ حرکت بھی حالیہ ماہ کا شرمناک واقعہ ہے،یہ سب اسی ذہنیت کی کڑیاں ہیں کہ ہم کر سکتے ہیں، اس لیے جائز ہے۔
اسی امریکہ کے گٹھ جوڑ سے ظلم و بربریت کے ریکارڈ قائم کرنے والی ریاست اسرائیل نے فلسطینیوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، وہ دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ غزہ میں برسوں سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ایک تہائی بچے تھے اور حالیہ حملوں میں ایک ماہ کے اندر غزہ میں 10,000 سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت تھی یہ وہ زخم ہیں جو آج تک تازہ ہیں۔
یہاں دوہرا معیار سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر سخت پابندیوں، دباؤ اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی متعدد رپورٹوں کے باوجود کہ ایران نے جوہری معاہدے (JCPOA) کی خلاف ورزی نہیں کی، امریکہ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ جبکہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام پر جاری مظالم اور لبنان میں ہونے والی کارروائیوں پر امریکہ کا رویہ یکسر مختلف ہے نہ صرف پابندیاں ختم ہیں بلکہ سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی جاتی ہے۔
یہ تضاد محض پالیسی کا فرق نہیں بلکہ ایک دہشت گرد سوچ کی عکاس ہے،
ایران کے معاملے میں خطرے کا بیانیہ اس قدر شدت سے پیش کیا جاتا ہے کہ عالمی برادری کو اس کے خلاف اقدامات پر آمادہ کیا جا سکے، جبکہ اسرائیل کے معاملے میں وہی اصول خاموش ہو جاتے ہیں۔
یونائیٹڈ نیشن جیسے عالمی ادارے بھی اس کشمکش میں اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کو حاصل ویٹو پاور انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مثلاً 2023-24 میں غزہ پر جنگ بندی کی متعدد قراردادیں امریکی ویٹو کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔ فلسطین کے علاقوں، خصوصاً غزہ میں انسانی بحران اور لبنان کی سرزمین پر کشیدگی اس امر کی واضح مثال ہیں کہ عالمی نظام میں اصولوں کی بجائے طاقت کا توازن زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل نے ایک موقع پر کہا تھا: “جب بین الاقوامی قانون کمزوروں کے لیے ہے اور طاقتوروں کے لیے نہیں، تو وہ قانون نہیں رہتا وہ ایک آلہ بن جاتا ہے”۔ یہ جملہ آج کے مشرقِ وسطیٰ پر بالکل صادق آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات کا ذکر تو بہت کیا جاتا ہے، مگر عملدرآمد ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ امریکہ نے اب تک دو سو سے زائد جنگوں میں حصہ لیا ہے، لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے، کئی آزاد ممالک میں رجیم چینج کیا ہے، لیکن دہشت گردی کا لیبل ہمیشہ باقی دنیا پر چسپاں کیا جاتا ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر کیے جانے والے فیصلوں کی قیمت ہمیشہ عام انسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
جب تک عالمی سیاست میں طاقت کو حق پر فوقیت حاصل رہے گی، اس طرح کے تضادات جنم لیتے رہیں گے، اور دنیا ایک منصفانہ نظام کے خواب کی تعبیر سے محروم ہی رہے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی معنوں میں ایک ایسا نظام قائم کرے جہاں قانون اور انصاف سب کے لیے یکساں ہوں۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں:
1۔ سلامتی کونسل سے ویٹو پاور کا خاتمہ یا اسے دو تہائی اکثریت سے اوور رائیڈ کرنے کا طریقہ کار بنایا جائے۔ اس کے بغیر کوئی بھی قرارداد طاقتور ملک کی مرضی کے خلاف منظور نہیں ہو سکتی۔
2۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو مزید موثر بنایا جائے اور اسے طاقتور ممالک کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار دیا جائے۔ موجودہ صورت حال میں ICC پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ صرف افریقہ اور کمزور ممالک میں کام کرتا ہے۔
3۔ مغربی میڈیا کی یک طرفہ رپورٹنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل میڈیا پلیٹ فارمز کو مضبوط کیا جائے۔ تعلیمی نصاب میں بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اصولوں کو شامل کیا جائے۔
4۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو ایک مؤثر فورم بنایا جائے جو صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ فلسطین اور دیگر مظلوم علاقوں کے لیے مشترکہ سفارتی، معاشی اور قانونی حکمت عملی مرتب کرے۔
5۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں کو مالی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر طاقتور ممالک کے خلاف رپورٹیں شائع کر سکیں۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون انصاف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگر طاقت کا یہی رخ رہا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے اور شاید اس بار نقصان پہلے سے کہیں زیادہ ہو۔ پائیدار امن آج بھی انسانیت کی سب سے بڑی آرزو بنا ہوا ہے، اور یہ آرزو تبھی پوری ہو سکتی ہے جب طاقتور اپنے استحقاق کو چھوڑ کر انصاف کو راہ دیں۔ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے دوہرے معیار پر قائم رہیں گے، مشرقِ وسطیٰ میں خونریزی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کا سب سے بڑا خمیازہ عام انسانوں کو بھگتنا پڑے گا۔
✍️ کامران الہی ظہیر




