اعلامیہ اور اتفاقی موقف جاری کرنے کا بنیادی مقصد شاید یہی ہوتا ہے کہ ایسا معتدل اور مبنی بر انصاف موقف پیش کیا جائے جو جامع و مانع ہو اورجو جدل و مخاصمت کے دروازے کو بند کرنے والا ہو، لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ اعلامیہ آتے ہی لوگ مزید مورچہ زن ہو کر ایک دوسرے پر طعن و تشنیع شروع کر دیتے ہیں، گویا یہ کبار کا علمی موقف نہیں، بلکہ صغار کا تیار کردہ اسلحہ ہے، جو ایک فریق کو بطور کمک فراہم کیا گیا ہے کہ دوسروں پر چڑھ دوڑیں۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اعلامیہ جات کی تاریخ سے یہ طالبعلم بہت حد تک واقف ہے. وللہ الحمد۔
اس لیے میں کچھ باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں:
1۔ جس بھی اعلامیے پر کسی عالم دین اور بالخصوص کبار کے دستخط ہوں، تو بہت بعید ہے کہ وہ اس عالم دین کی اجازت کے بغیر لگا دیے گئے ہوں۔ اس حوالے سے علمائے کرام کی مختلف اقسام ہیں:
مثلا کچھ تو لفظ بہ لفظ مکمل پڑھتے اور سنتے ہیں اور پھر تائید کرتے ہیں، بعض باقاعدہ اس میں تبدیلیاں بھی کرواتے ہیں۔
بعض مکمل پڑھنے کی بجائے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اعتماد کا اظہار کر دیتے ہیں، مثلا ان سے دستخط لینے والا ان کے لیے بہت معتبر ہوتا ہے، یا اعلامیہ لکھنے والے کی شخصیت پر انہیں اعتماد ہوتا ہے، یا انہیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں علمائے کرام نے تائید کی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، میں بھی اس سے اتفاق کرتا ہوں۔[1]
لہذا کسی بھی اعلامیہ کے ساتھ کبار علمائے کرام کے دستخط ہوں، تو اس میں فورا اس قسم کی بات غیر مناسب ہے کہ علماء کا نام دھکے سے استعمال کر لیا گیا ہے۔ وغیرہ۔
ایک تو یہ بات درست نہیں ہوتی، دوسرا اس سے علمائے کرام کی ذات پر مختلف سوالات اٹھتے ہیں، تیسرا یہ غلط رویہ عام ہوتا ہے کہ جس بھی بات سے آپ کو اتفاق نہ ہو، آپ علمائے کرام کے بارے میں الٹا سیدھا بولنا شروع کر دیں۔
لہذا کوئی بھی اعلامیہ، آپ کو اس سے اتفاق ہے یا اختلاف، اس میں موجود کبار اہل علم کے بارے میں ہرزہ سرائی نری نادانی اور حماقت ہے۔
2۔ لیکن اسی بات کا دوسرا پہلو بھی لازمی ذہن میں رکھیں کسی اعلامیے کے اندر کسی عالم دین کا نام آ جائے، اس وجہ سے اس بات پر اصرار درست نہیں کہ اس کا وہی موقف ہو گا جو اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ میرے علم کی حد تک جتنے بھی اعلامیے جاری ہوتے ہیں، ان میں علمائے کرام نے خود کچھ نہیں لکھا ہوتا، بلکہ بعض نوجوان اہل علم کسی چیز کو لکھ کر ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
اس بات کو ملحوظ رکھنا کیوں ضروری ہے؟
کیونکہ کسی موقف کو خود لکھنا یا کسی کے لکھے ہوئے کی تائید کرنا، دونوں میں بہرصورت فرق ہے۔ مثلا عالم دین کی تعبیرات و اصطلاحات، موقف کے اندرجامعیت و شمول ہوتا ہے، اہلِ فتوی عموما افراط و تفریط کا شکار ہوئے بغیر معتدل اور متوازن رائے پیش کرتے ہیں، جبکہ ظاہر ہے کسی نوجوان یا جونیئر کی گفتگو میں ان سب امور کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بہر صورت پھر بھی ایک نوجوان اپنی طرف سے لکھے اور ایک نوجوان کو کبار علماء کی تائید حاصل ہو، دونوں میں بہرصورت فرق ہے۔
3۔ اعلامیہ جات کے حوالے سے یہ بھی تلخ حقیقت موجود ہے کہ بعض دفعہ علمائے کرام مجلس کے اندر موجود اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں[2]، لیکن تحریر کرتے وقت اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن وہ عالم دین خاموش رہتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ ایک ایک بندے کو جا کر بتائیں کہ دیکھیں میں نے تو کہا تھا کہ میرا یہ موقف نہیں یا یہ تبدیلی کریں، لیکن انہوں نے تبدیلی کی ہی نہیں ہے۔[3]
میں اسی قسم کی ایک مجلس میں شریک تھا، وہاں کوئی پچیس سے تیس علمائے کرام تھے، اس میں ایک موضوع پر لمبی چوڑی گفتگو ہوئی، بعد میں ایک موقف بنا کر پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ سب کی باتوں کا خلاصہ اور متفقہ بیانیہ ہے، حالانکہ اس میں بعض باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا تھا، جن میں کچھ باتیں اس عالم دین کی بھی تھیں جنہیں اس دستاویز میں ’رئیس’’ مشرف‘ اور ’سرپرست اعلی’ جیسے القاب کے ساتھ لکھا گیا تھا، سب نے دستخط اور سائن کر دیے، اور ان علماء نے بھی کر دیے، جن کے اختلافی نوٹس کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ کسی نے ضرورت نہیں سمجھی کہ میں کہوں کہ آپ نے میری مکمل بات شامل کیوں نہیں کی، سوائے ایک نوجوان کے، اس نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں، لہذا اس کی بات کا بہت برا منایا گیا اور ایک طریقے سے اس کو مجلس سے باہر کر دیا گیا۔
بعد میں بعض ان لوگوں نے بھی نوجوان کی تائید کی، جو خود اندر دستخط کر آئے تھے…!
4۔ اگر آپ کو اوپر والی بات سمجھ آ چکی ہیں تو اگلی بات یہ سمجھیں کہ جب بھی کوئی اعلامیہ جاری ہو تو اختلاف کی صورت میں براہ راست ان علمائے کرام کو ملنے کی کوشش کریں، جو آپ کے نزدیک معتبر اور قابل اعتماد ہیں، اور ان سے حقیقت حال کو جاننے کی کوشش کریں۔
ان کی وضاحت سے ہی بہت حد تک بات واضح ہو جائے گی، لیکن یاد رکھیں اتفاق کی صورت کبھی بھی ان کی اجازت کے بغیر ان کا نام استعمال نہ کریں اور اختلاف کی صورت میں کبھی ان کی توہین نہ کریں۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں ہلاکت و گمراہی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس قسم کے متفقہ فتاوی اور اعلامیہ جات کی مخالفت میں درجنوں علماء کی توہین کا ارتکاب کیا اور اللہ رب العالمین نے ان کی تحریر و تقریر سے برکت کو ختم کر دیا۔
5۔ کسی بھی اعلامیے کے اندر جھول یا کمزوری ہو تو اس کا براہ راست ذمہ دار کون ہے؟ اس کے براہ راست ذمہ دار عموما اعلامیہ مرتب کرنے والے ہوتے ہیں اور کسی حد تک اس قسم کی مجالس منعقد کروانے والے ہوتے ہیں، یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو باقاعدہ ہر چیز کو پلان کرتے اور سیناریو لکھتے ہیں اور پھر ہر سین کو مہارت سے اس کے اندر فٹ کرتے ہیں، تاکہ ساری گفتگو اور کاروائی کا وہی پیغام اور خلاصہ نکلے، جو وہ دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں۔
علمائے اہل حدیث کا حالیہ متفقہ بیانیہ مرتب کرنے والے لوگ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں اور یہ اعلامیہ کس طرح منظر عام پر آیا؟
درج ذیل چیزوں پر غور کریں، آپ کو سمجھ آ جائے گی اس کے محرکین و مسودین کس قسم کے لوگ ہیں:
الف:وہ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اہل حدیث کے ہاں اخوانیت اور تکفیر قابل مذمت ہے، جبکہ تبدیع و تجریح نام کا کوئی انحراف روئے زمین پر موجود نہیں۔
وہ فتنہ جس نے پاکستان کے علامہ احسان الہی ظہیر، مفتی مبشر ربانی اور دیگر عالم اسلام کے عبد اللہ بن جبرین، بکر ابو زید، اسحاق الحوینی جیسے اکابرین کو منہج سے نکالا، وہ فتنہ جس کو نصیحت کرنے کے لیے شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ کو دو بار ’رفقا أہل السنۃ بأہل السنۃ’ جیسی کتاب لکھنی پڑی!
ابھی کل کی بات ہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی حفظہ اللہ کے بارے میں طوفانِ بدتمیزی بپا کیا گیا، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ایک ایسا موقف دیا جو تبدیع و تجریح کے فتنے میں مبتلا ان لوگوں کو پسند نہیں تھا، جن میں سے بعض کے نام اس اعلامیے کے اندر موجود ہیں!
اس فتنے کی روک تھام میں اس اعلامیہ کے اندر اشارہ تک نہیں؟ کیا سب علماء اس سے ناواقف ہیں یا پھر مرتب کرنے والے خود اس فکر پر کاربند ہیں؟!
ب: اسی طرح انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ رافضیت اور ان کی ہمنوائی ایک بہت بڑی گمراہی ہے، لیکن ناصبیت اور ان کی ہمنوائی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حسینیت اور یزیدیت کے نام سے ایک فتنہ کچھ عرصہ پہلے شروع ہوا تھا، وہ بھی اس وجہ سے زیادہ بگڑا، کیونکہ اس کے ماسٹر مائنڈ اسے سنوارنے کی بجائے بگاڑنے میں دلچسپی رکھتے تھے!
ج: وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ فلسطین، جہاد، اتحاد امت کا نام لیکر ایران کی حمایت یا سعودیہ پر حملے ہی غلط اور گمراہی ہے… لیکن بدعت و اخوانیت پر تنقید کی آڑ میں فلسطینی مجاہدین پر تنقید یا قضیہ فلسطین کی مخالفت کوئی مسئلہ نہیں ہے!
د: ان کے نزدیک اتحاد امت کے نام پر ہونے والا انحراف بہت بڑا مسئلہ تھا، جس میں اعلامیہ کے اندر تنبیہ لازمی تھی، لیکن اس کے برعکس جماعتوں، تنظیموں، افراد اور شخصیات کی تبدیع کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، لہذا اس کو ذکر نہیں کیا گیا۔
ھ: اعلامیے کے اندر بجا طور پر خروج و تکفیر کی مذمت کی گئی، لیکن اپنے ان بھائیوں اور علماء کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی جو بعض حکومتوں کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے ہیں، افغانستان کے اندر حکومتی سرپرستی میں سلفیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ اعلامیے میں اس حوالے سے کیا رہنمائی ہے؟ اگر آج ہم کسی وجہ سے پابندِ سلاسل علماء اور حکومتوں کے عتاب کا شکار مسلمانوں کے حق میں بولنے سے احتراز کرنا شروع ہو گئے ہیں، کل کو کوئی مرزا جہلمی جیسا جاہل اٹھ کر ابن تیمیہ، احمد بن حنبل، سعید بن جبیر وغیرہ پر منہجی تلوار لہرا دے گا کہ یہ سب بھی خارجی و تکفیری تھے!
ز: اعلامیہ میں سوشل میڈیائی بحوث کو بنیاد بنا کر شخصیات کو ٹارگٹ کیا گیا، جس کی دومثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، اعلامیہ میں خامنائی کی طرح موت کی خواہش کرنے والوں کی مذمت کی گئی، اس سے مراد مولانا عمر صدیق صاحب ہیں، کیا مناسب نہیں تھا کہ اتنے سارے لوگوں میں سے کوئی ایک دو ان سے رابطہ کرکے پوچھ لیتے کہ آپ کا موقف کیا ہے؟ کیونکہ ان کے بقول انہوں نے کفر کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوے شہادت کی موت کی تمنا کی تھی ، انہیں بلا کر یا رابطہ کرکے اس کی تصدیق کر لی جاتی، تاکہ اگر وہ اس کی کوئی معقول توجیہ بتا دیتے تو ان کی بات مان لی جاتی ورنہ ان کی اصلاح کر دی جاتی۔
اعلامیہ میں سوشل میڈیا کے ایسے لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا، جنہیں بزرگ علماء اور کبار اہل علم جانتے ہی نہیں ہیں، جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ اعلامیہ کبار کا تیار کردہ نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے جذباتی نوجوانوں کا ہے، مثلا اس میں ایک فکر کا رد کیا گیا کہ بعض لوگ خود سلفی تو کہتے ہیں لیکن اہل حدیثیت کا انکار کرتے ہیں، یہ کس کا موقف ہے؟ یہ سوشل میڈیا پر ایک صاحب کی گفتگو ہے، جسے اعلامیے میں درج کر دیا گیا ہے۔
ح: اعلامیے کے حوالے سے ایک عجیب بات یہ سامنے آئی کہ یہ کسی بھی معتبر پلیٹ فارم سے نشر نہیں ہوا، بلکہ اکثریت ہنوز ا س کے مندرجات تک سے ناواقف ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث، وفاق المدارس، کلیۃ القرآن پھولنگر، لجنۃ الإفتاء والبحث العلمی، قاری صہیب احمد صاحب کسی ایک بھی ذمہ دار فرد یا پلیٹ فارم سے یہ اعلامیہ نشر نہیں کیا گیا، پھر بھی یہ پورے سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا، تو اس کے پیچھے کون افراد ہیں؟ اس میں اس بات کا بھی اضافہ کر لیں کہ جس مجلس میں یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں شرکت اور دعوت نامہ کئی دن تک گروپوں میں نشر ہوتا رہا، جس میں کہیں بھی اس قسم کے کسی اعلامیے کا ذکر تک نہیں تھا! اچانک یہ اعلامیہ کہاں سے آ گیا؟
ان سب باتوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اعلامیہ کے مرتبین و مسودین اورناشرین کس درجے اور لیول کے لوگ ہیں اور وہ اس طرح کے اعلامیوں سے کس قسم کا کام لینا چاہتے ہیں؟
کیا اتنے واضح جھول اور جھکاؤ کبار اہل علم کے اندر ہو سکتے ہیں؟ تو کیا اس قسم کی چیزیں مرتب کرکے، اختلاف کرنے والوں کو کبار کی مخالفت پر محمول کرنا یہ علماء کا عزت و احترام ہے یا مطلب برآری ہے؟
اعلامیہ کے اندر پہلے غلطی یہ کی گئی کہ اسے علماء کی شایانِ شان تیار نہیں کیا گیا ، موضوعات کا احاطہ نہیں کیا گیا، اس کے لب و لہجے پر توجہ نہیں دی گئی، حالات حاضرہ کو سامنے نہیں رکھا گیا اور اب دوسرا بلنڈر یہ ہے کہ جو بھی اعلامیہ پر اعتراض کرے، اس کا خود سامنا کرنے کی بجائے اسے ’کبار علماء’ سے اختلاف یا ان پر تنقید کا رخ دے دیا جائے۔[4]
6۔ اعلامیہ کے اندر یہ نصیحت اور تجویز پیش کی گئی کہ جن کے اندر اخوانیت اور روشن خیالی اور اس قسم کے انحرافات ہیں، انہیں اپنے پلیٹ فارم اور تنظیموں اور جماعتوں میں جگہ نہ دی جائے، کیا مناسب نہیں تھا کہ جو اہل حدیثیت کے نام پر مدخلیت، ظاہریت یا منہج سلف سے انکار کی روش اپناتے ہیں ان کے بارے میں بھی واضح موقف پیش کر دیا جاتا۔
7۔ اعلامیہ میں بہت اچھا کیا گیا کہ اتحادِ امت کی اہمیت کا اقرار کیا گیا اور ساتھ توحید و سنت سے تمسک کو بجا طور ذکر کیا گیا، لیکن بہت مناسب ہوتا کہ ساتھ اس کی کچھ مثالیں بھی ذکر کر دی جاتیں کہ فلاں شخصیات اور اداروں کا کردار بطور مثال اور نمونہ ہے، عام لوگ ان کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھ سکتے کہ توحید و سنت سے تمسک قائم رکھتے ہوئے کس طرح اتحاد امت پر عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے۔
جو لوگ امام ابو حنیفہ جیسے اکابرین کے ساتھ رحمہ اللہ کا لاحقہ لگانا منہج اور غیرت کی کمزوری سمجھتے ہیں، انہیں اتحاد کا ضابطہ طے کرنے پر لگا دینا ایسے ہی ہے، جیسے کسی جماعت اسلامی کے فرد کو رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام کے مسئلے میں متوازن رائے لکھنے کا کہہ دیا جائے!
اعلامیہ میں ذکر کردہ ہمارے بعض کبار مشایخ دیگر مسالک کے بیماری، غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں، جبکہ اسی اعلامیہ میں ذکر کردہ بعض دیگر نام ایسا کرنے والوں کو عقیدہ و منہج کی غیرت سے عاری قرار دیتے ہیں۔ کیا دستخط کرنے والے تمام علمائے کرام کو اس بات سے اتفاق ہے؟
اعلامیہ کی مجلس میں وفاق المدارس السلفیہ، مرکزی جمعیت اہل حدیث، قرآن وسنہ موومنٹ وغیرہ جماعتیں اور ادارے شامل تھے، جو اعلانیہ طور پر دیوبندی، بریلوی، جماعت اسلامی حتی کہ شیعہ حضرات کے ساتھ مشترکہ پروگرامز اور مجالس میں شریک ہوتے ہیں، جبکہ اسی اعلامیہ میں دستخط کرنے والے کئی لوگ آئے روز سوشل میڈیا پر ان جماعتوں اور ان سے منسلک ایسی شخصیات کو ’سہولت کار‘ اور ’منہج سلف‘ سے ہٹے ہوئے قرار دیتے ہیں…!
وفاق المدارس کے ذمہ دار چوہدری یاسین ظفر صاحب [5]اتحاد امت کی مجالس میں شرکت کرتے ہیں، انہوں نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے ماتھے کو بوسہ دیتے ہوئے اس ’بدعتی‘ کی تعظیم کی، لیکن ان کا اسم گرامی اس اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں بھی شامل ہے، اور انہیں کے ساتھ ان لوگوں کا بھی شامل ہے، جو اس قسم کی چیزوں کو عقیدہ و منہج کے منافی قرار دیتے ہیں… اس سب کو اضطراب، تضاد یا کیا سمجھا جائے؟!
اعلامیہ کے روح رواں اور مشرف کے طور پر حافظ مسعودِ عالم حفظہ اللہ کا اسم گرامی موجود ہے، اور اعلامیے میں کہا گیا کہ عرب و عجم کے تکفیری اور اخوانی لوگوں کو پروموٹ کرنے والوں کا منہج اہل حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ اور صورت حال یہ ہے کہ حافظ صاحب محترم کی ویڈیوز موجود ہیں، جس کے اندر وہ ان شخصیات کی تعریف و توصیف اور تذکرہ خیر کر رہے ہیں، جنہیں اعلامیہ کی رو سے تکفیری و اخوانی قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلامیہ میں کبار کے ساتھ جن صغار کے دستخط موجود ہیں،کیا وہ بتانا پسند کریں گے کہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی، ڈاکٹر ادریس زبیر جیسے لوگوں کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتے ہیں؟ اور جب ان شخصیات کو ہماری جماعتوں، تنظیموں اور چینلز کے ذریعے پروموٹ کیا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے یہ موقعین اہل علم یوتھ کلب، الہدی وغیرہ کی دعوت پر ان کے پروگرامز میں جاتے ہیں تو کیا ایسا کرنے والے کبار و صغار موقعین اس اعلامیہ کی رو سے منحرف اور سہولت کار نہیں ٹھہرتے؟
8۔ اعلامیہ میں فرمایا گیا کہ کسی بھی مسئلے میں رائے دینے سے پہلے اکابر علماء کی طرف رجوع کیا جائے، لیکن جب بھی اس قسم کا کوئی اعلامیہ جاری ہوتا ہے تو اس کی بنیاد پر بعض لوگ باقاعدہ پراپیگنڈہ اور طعن و تشنیع کا ایک سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور اس سے وہ باتیں بھی نکالتے ہیں جو سرے سے اس میں موجود ہی نہیں ہیں، مثلا بعض لوگوں نے اعلامیہ میں حاشیے لگا کر نیچے بعض شخصیات کے نام لکھے ہوئے ہیں کہ اعلامیہ کی رو سے فلاں شخصیات منحرف ہیں اور ان کی تائید کرنے والے منحرف ہیں۔ اعلامیہ میں مذکور کبار اہل علم اس رویے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
9۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ اعلامیہ اور اتفاقی موقف جاری کرنے کا بنیادی مقصد شاید یہی ہوتا ہے کہ ایسا معتدل اور مبنی بر انصاف موقف پیش کیا جائے جو جامع و مانع ہو اورجو جدل و مخاصمت کے دروازے کو بند کرنے والا ہو…! اس لیے بہت مناسب ہو گا کہ ایمرجنسی میں اعلامیہ جاری کرنے کی بجائے، جن موضوعات پر اختلاف رائے ہو، اس کے لیے مختلف لوگوں کو مقالہ جات اور تحریریں لکھ کر جمع کروانے کی ذمہ داری دی جائے، پھر ان مقالہ جات اور تحریروں کو اہل علم کو بھیج دیا جائے، تاکہ جس موضوع پر سوشل میڈیا وغیرہ پر جذباتی اور ایمرجنسی اور ارتجالی گفتگو ہو رہی ہوتی ہے، اسی پر ایک اکیڈمک اور تحقیقی دستاویز بھي تیار ہو جائے۔
کسی ایک طرف کو اعلامیے کی مار مارنے کی بجائے مناسب ہو گا کہ کبار مشایخ کی خدمت میں دونوں طرف کا موقف پیش کر دیا جائے، مشایخ درست موقف والے کی حوصلہ افزائی فرما دیں اور غلط کی اصلاح فرما دیں۔
10۔ اعلامیہ میں یہ بات بھی تشنہ رہی کہ مسلک اہل حدیث اور منہج سلفیت کے حاملین کے مابین اختلاف رائے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ کیا یہ درست رویہ ہے کہ جہاں ایک سے زیادہ آراء ہوں، وہاں ایک فریق دوسرے کے خلاف ’متفقہ اعلامیہ‘ جاری کر دے؟ اسی طرح اس بات کی بھی وضاحت کرنی چاہیے کہ مسلک اہل حدیث کی رو سے ہر شخص کا معصوم ہونا اور سو فیصد ہونا لازمی ہے، یعنی اگر کوئی کسی ایک دو مسائل میں مسلک اہل حدیث سے ہٹ کر کوئی موقف اختیار کرے تو اس کی اس غلطی کی اصلاح کی جائے گی یا پھر اس شخص سے براءت کا اظہار کیا جائے گا؟
حرفِ اخیر:
آخر میں گزارش ہے کہ اس اعلامیے کے ’مرتبین’ اور ’ماسٹر مائنڈ’ کو چاہیے کہ اس پر مزید محنت کریں اور اس میں اپنی ذات سے اٹھ کر تمام آراء اور مواقف کا احاطہ کریں، مسلک و منہج کو ذات کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے خود کو اہل حدیث اور ان کے مابین اتحاد و اتفاق کے لیے قربان کریں، ورنہ اس کے حالیہ ورژن سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ مسلک اہل حدیث صدیوں کی تاریخ رکھنے والا اجتہادی مکتب فکر نہیں جس میں کسی بھی حق یا باطل کا معیار کتاب وسنت اور سلف صالحین ہیں، بلکہ یہ ایک پرائیوٹ ادارہ ہے جس کے مہتمم و منتظم صاحب اپنے ملازمین اور منسلکین کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بنا دیتے ہیں کہ بھائی یہ کرنا ہے اور وہ نہیں کرنا، اتفاق ہے تو یہاں رہو، ورنہ جاؤ کہیں اور کام کرو۔
بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ اخوانیت و تکفیریت کے ردِ عمل میں سعودی علمی معاشرہ جس کیفیت سے دو تین دہائیاں پہلے گزر چکا تھا، پاکستان ابھی اس ابتدائی دور سے گزر رہا ہے۔ یعنی اخوان المسلمون وغیرہ کے رد میں تبدیع و تجریح کا فتنہ لانچ ہوا اور بظاہر یہی سمجھا گیا کہ اخوانیت و تکفیریت کے رد کے نام پر جو بھی کر دیا جائے گا، اسے درست سمجھ لیا جائے گا اور کسی حد تک یہ ہوا بھی، لیکن بہت جلد وہاں یہ شعور بیدار ہو گیا کہ ایک فتنے کے خاتمے میں دوسرا فتنہ زور پکڑ رہا ہے۔ لہذا بکر ابو زید نے هجر المبتدع، حكم الانتماء إلى الجماعات والأحزاب، تصنیف الناس بین الظن والیقین جیسی کتابیں لکھیں اور افراط و تفریط کے آگے بند باندھا۔
تکفیریت و اخوانیت کے رد میں پیش پیش ایک بڑا نام شیخ ربیع بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ کا تھا، انہوں نے سید قطب کے رد میں ایک تفصیلی کتاب مرتب کی اور شیخ بکر ابو زید کی خدمت میں بھیج دی کہ اس کی تصدیق و تائید فرما دیں۔
شیخ پڑھتے ہی پکار اٹھے کہ آپ تو دوسری طرف غلو کا شکار ہو چکے ہیں اور محض تکفیر و اخوانیت کی تردید میں آپ نے باطل اتہامات کا پلندہ تیار کر ڈالا ہے اور یہ بھی ساتھ بتایا کہ مجھے مسودے سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سارا کام آپ کا اپنا نہیں، بلکہ آپ نے بعض نوجوانوں اور طالبعلموں سے یہ کام کروا کر پوری کتاب مرتب کی ہے!
’متفقہ اعلامیہ’ کی بعض بے ربط عبارتیں اور ان کا اسلوب دیکھتے ہی شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ کی وہ مکمل تحریر ذہن میں تازہ ہو گئی۔
خیر اس خط پر شیخ ربیع کی طرف سے تردید میں ایک اور تفصیلی کتاب لکھی گئی اور شیخ بکر ابو زید جو ان کے نزدیک ’موقعین’ کے درجے کے تھے وہ اخوانی قرار پائے!
حالیہ ’متفقہ اعلامیہ’ کی خامیوں اور کوتاہیوں کا تدارک نہ کیا گیا تو بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ آئندہ وہ ساری تاریخ دوبارہ دہرائیں گے خلیجی اور عربی ممالک جس سے گزر چکے ہیں! واللہ المستعان وعلیہ التکلان
بعض اطراف سے یہ بھی تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ لوگ بھی اعلامیہ کی مخالفت کر رہے ہیں، جو خود کو اہل حدیث کہلواتے ہوئے شرماتے ہیں، ایسے سب احباب سے گزارش ہے کہ شرمانے والے شرماتے ہوں گے، اللہ ان کی اصلاح فرمائے، اسی طرح کچھ جہلاء علمائے کرام کو گالیاں دے کر اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں، اللہ ان کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کی توفیق دے۔
لیکن الحمد للہ ایسے علماء اور طلبہ موجود ہیں جنہیں مسلک اہل حدیث اور سلفیت اور علما سے انتساب پر فخر ہے، اور وہ اس قسم کے ناقص اور جانبدارانہ اعلامیہ جات کے مقابلے میں دلائل و براہین کی روشنی میں معتدل اور متوازن موقف پیش کر سکتے ہیں۔ وللہ الحمد
استدعا:
ہمارے ہاں عموما مسائل پر ہنگامی حالات میں گفتگو کی جاتی ہے او راس کے بعد کوئی دوسرا ہنگامہ ہونے تک انتظار کیا جاتا ہے، حالانکہ عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے کہ اہل علم و حلم اور ارباب اختیار و اقتدار، مفتیان و قائدین سر جوڑ کر بیٹھیں اور سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد ایک رہنما دستاویز جاری کریں، جس میں مسائل دبانے کی بجائے انہیں حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں میں سے کسی ایک کو بلانے کی بجائے فریقین کو دعوت دی جائے، مضامین و موضوعات تقسیم کرکے انہیں حکم دیا جائے کہ تیاری کرکے گفتگو کریں۔ اور پھر ایک نتیجہ اور خلاصہ نکال کر پیش کیا جائے کہ فلاں فلاں مسائل اتفاقی ہیں جن میں سب نے درج ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ فلاں فلاں نکات میں معتبر اختلاف موجود ہے اور اس میں یہ یہ آراء ہیں۔ امید ہے اس سے اتحاد و اتفاق کے رویے پروان چڑھیں گے، جبکہ اختلاف کرنے کا رویہ اور سلیقہ بھی سمجھنے اور سیکھنے کو ملے گا۔ اللہ رب العالمین توفیق عطا فرمائے۔
تعصب، جمود، جانبداری، اختلاف کو حل کرنے کی بجائے دبانا، یہ سب رویے ہمیں وقتی طور پر فائدہ مند نظر آ سکتے ہیں، لیکن یہ خامیاں کسی بھی مسلک، مکتبِ فکر اور تنظیم کی موت پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔
اگر اہلِ حدیث واقعتا ایک زندہ و جاوید اور مثبت سوچ اور طرز فکر ہے تو بحیثیت مسلمان، بحیثیت پاکستانی، امت ، مسلک، جماعت، تنظیم ہر لیول پر کس طرح چلنا ہے، اس میں رہنمائی ہونی چاہیے۔ کیا اس مسلک میں صرف اپنی اپنی مسجد اور حجرے میں بیٹھ کر اپنے ہم نوالہ و پیالہ لوگوں کے ساتھ گفتگو کرنا ہی علمی و تحقیقی لیاقت ہے؟ کیا ہمارا یہی کام ہے کہ ہم حجروں میں بیٹھ کر اعلامیے اور فتوی لکھیں اور چند لوگوں سے داد و تحسین سمیٹیں اور باہر نکل کر ملکی و قومی سطح پر دوسروں سے معذرت کرتے پھریں؟!
نوجوان اور کبار، علماء اور قائدین، محققین و مناظرین، واعظین و خطباء اہل حدیث میں الحمد للہ ہر قسم کی صلاحیتیں موجود ہیں، ان سب کو ملا کر خود کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ پارٹی بازی کرکے ایک دوسرے کو گرانا ہمارا مقصد ہے۔
حافظ خضر حیات
ادارے جن میں لفظِ ’اہل حدیث’ موجود نہیں![6]
شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے چند سال پہلے ایک نکتہ اٹھایا تھا کہ ہمارے ادارے ’اہل حدیث‘ نام کیوں استعمال نہیں کرتے؟
اس کے علاوہ بھی مختلف لوگوں کی طرف سے یہ آوازیں آتی رہتی ہیں کہ دیکھیں فلاں فلاں لوگ اپنے ناموں میں اہل حدیث لفظ استعمال نہیں کرتے۔
اہل حدیثوں میں ایک نمایاں نام محترم جناب ہشام الہی ظہیر صاحب کا ہے، انہوں نے اعلامیہ کی تائید کی آڑ میں یہ کہا کہ جن جماعتوں اور اداروں کے ناموں میں لفظ اہل حدیث نہیں ہے، وہ اپنی نسبت اور حسب و نسب پر شرمندہ ہیں، کیا علمائے کرام اس قسم کے جذباتی بیانات دیتے ہیں؟
ایک طرف لوگوں کو ناموں میں ’اہل حدیث‘ نہ رکھنے کی بنیاد پر حسب و نسب اور نسبت پر شرمندہ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ملاحظہ کریں کہ بڑے بڑے ادارے جو عام طور پر اس قسم کے جذباتی بیانیوں اور اعلامیوں کو پروموٹ کرتے ہیں، ان میں کہیں لفظ اہل حدیث نظر نہیں آتا۔
آئیں اس قسم کے کچھ اداروں کی فہرست ملاحظہ کریں:
1۔ حال ہی میں عقیدہ و منہج پر متفقہ اعلامیہ نشر کرنے والی لجنۃ کے لیٹر پیڈ پر ’لجنۃ الإفتاء والبحث العلمی’ اور کلیۃ القرآن اور مرکز الاصلاح وغیرہ چار پانچ نام موجود ہیں، لیکن لفظ اہل حدیث کہیں موجود نہیں ہے۔
2۔ ایو یحیی نور پوری صاحب اور شیخ غلام مصطفی ظہیر صاحب اور ان کے تلامذہ و مریدین ہر وقت اس چیز کی اہمیت بیان کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے چینل اور ادارے دونوں کا نام ’الاصلاح’ ہے۔ لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
3۔ گوجرانوالہ سے بعض اہل علم پوری دنیا کا منہج ناپ رہے ہوتے ہیں، ان کے اداروں کے نام دیکھیں: دار ابی الطیب، ام القری وغیرہ، لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
4۔ الوفاء للتربیۃ والتعلیم نامی ایک ادارہ ہے، جن کے ہاں اہل حدیثیت اور سلفیت کا معیار کافی مشکل ہے، اس ادارے کے لوگو، نام وغیرہ میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
5۔ معروف ٹی وی چینل ’پیغام’ اسی طرح ایک اور چینل ہے ’الاحسان’ ان میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
6۔ اس کے علاوہ زم زم ٹرسٹ، اسوہ فاؤنڈیشن، المدرار وغیرہ یہ سب وہ نام اور ادارے ہیں، جن میں وقتا فوقتا اہل حدیث کبار و صغار علمائے کرام نظر آتے رہتے ہیں، ان میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
7۔ کراچی میں شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی جیسے مشایخ کی طرف نسبت رکھنے والے کئی ایک ادارے ہیں جیسا کہ المدینۃ اسلامک سنٹر، البیان یونیورسٹی، مجلہ البیان، اذان انسٹیٹوٹ، الھجرہ، البروج وغیرہ اس میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟ کراچی میں اہل حدیث کا سب سے بڑا ادارہ بلکہ پورے پاکستان میں نمایاں اداروں میں سے ایک مدرسہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ہے، اس میں لفظِ اہل حدیث کدھر ہے؟
8۔ کچھ اور انسٹیٹیوٹس بھی میری نظر میں آ رہے ہیں، جن سے منسلک نوجوان ہر وقت اس قسم کے راگ الاپتے رہتے ہیں، جیسا کہ الناجحون، تلمیذ، الحافی، مبارک اکیڈمی وغیرہ، ان میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
9۔ شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے ایک نام ’دفاع علماء’ کا ذکر کیا تھا، انہیں لوگوں نے اپنی پرانی تنظیم کی بحالی سے پہلے نئی تنظیم بنائی تو اس کا نام ’دفاع اسلام و پاکستان’ رکھا تھا، لفظ اہل حدیث سے بے وفائی کی وجہ؟ پرانی تنظیم کی بحالی سے ہٹ کر جتنے بھی ادارے ہیں ان میں لفظ اہل حدیث کدھر ہے؟
10۔ جتنے نئے تعلیمی ادارے منظر عام پر آ رہے ہیں، کالجز، یونیورسٹیز کے پلان بن رہے ہیں، کسی ایک کے نام میں لفظ اہل حدیث دکھا دیں!
الغرض لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ہر وقت دوسروں کو یہ سکھاتے اور سمجھاتے رہتے ہیں کہ لفظ اہل حدیث کا استعمال بہت زیادہ لازمی اور ضروری ہے، لیکن خود اپنے اداروں کے ناموں سے وہ سب غیر اہل حدیث نظر آتے ہیں!
کیا یہ سارے لفظ اہل حدیث سے شرمندہ لوگ ہیں؟
اسی نظر سے آپ انڈیا حتی کہ سعودیہ کے اداروں پر بھی نظر ڈالیں تو اس سے بہت مختلف صورت حال نظر آئے گی، جو ہمارے ہاں بعض لوگوں کی طرف سے بنا دی جاتی ہے۔
یہ تحریر منظر عام پر آتے ہیں ہی وہی لوگ جو ہر جگہ راگ الاپتے تھے کہ لفظ اہل حدیث ہونا بہت ضروری ہے اور دوسروں کی نیتوں پر حملہ آور ہوتے تھے، انہوں نے مختلف تاویلات و توجیہات پیش کرنا شروع کر دیں، اور مجھے کہا گیا کہ میرا اعترا ض سطحی ہے۔
میں مانتا ہوں کہ اعتراض سطحی ہے ، لیکن اس سطحی اعتراض کی ابتدا کس نے کی تھی؟ یہ تحریر تو الزامی تھی، اگر الزامی تحریر میں سطحیت ہے تو آپ کو اپنے اصل اعتراض کی سطحیت کا بھی تو خیال رکھنا چاہیے۔
جتنی تفصیلات و توجیہات اپنے لیے سوچی ہوئی ہیں اگر اسی طرح وسعت و گنجائش سے دوسروں کے متعلق بھی سوچ لیا جائے تو بہت سارے اختلافات کی نوبت نہیں آئے گی۔ اپنے لیے فقیہانہ نکات اور دوسروں کے لیے سطحی اتہامات!
حافظ خضر حیات
[1] ۔ البتہ اس میں مزید تفصیل بھی ہے جو آئندہ نمبر (3)میں آ رہی ہے۔
[2] ۔ جیسا کہ حالیہ اعلامیہ کے متعلق بعض شخصیات کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسی مجلس میں اس سے عدم اتفاق کا اظہار کر دیا تھا۔ ہمارے ہاں عموما موافقین کا نام ذکر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، حالانکہ بالخصوص جس مسئلے سے متعلق ہم یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ یہ ’متفقہ‘ موقف ہے، وہاں اگر کوئی اختلافی رائے ہو تو اس کی طرف بھی اشارہ ہونا چاہیے۔
[3] ۔ حالیہ اعلامیہ سے جس طرح اہل علم نے اعلان براءت یا رجوع کیا ہے، یہ بہت ہی نادر صورت حال ہے، عموما ایسی صورت حال نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
[4] ۔ بلکہ اب جب اس اعلامیے سے رجوع و براءت کی باتیں ہور ہی ہیں تو کبار کی عزت و احترام کے بعض نام نہاد محافظ الٹا کبار پر طعن و تشنیع کرنا شروع ہوگئے ہیں! فیا لَلعَجب!
[5] ۔ بعد میں وفاق المدارس اور چوہدری یاسین صاحب حفظہ اللہ اور ان کے رفقاء نے وضاحت کر دی کہ وہ اعلامیہ کے مندرجات سے واقف نہیں تھے، جونہی انہیں اطلاع ملی، انہوں سے اس سے عدمِ اتفاق کا اظہار کر دیا۔
[6] ۔ اس تحریر کا براہ راست اعلامیہ کے ساتھ تعلق نہیں، لیکن چونکہ بہر صورت اعلامیہ کے ضمن میں ہی اس موضوع کو بھی شروع کیا گیا، تو اس لیے اس تحریر کو بھی اس کے پسِ منظر کے ذکر کے ساتھ یہاں درج کیا جا رہا ہے۔




