اہل حدیث کے جلسوں کی حالت
اہلِ علم و ادب کی مجالس اپنی اصل کے اعتبار سے کبھی محض اجتماعات یا مجمع آرائی کا نام نہیں رہیں بلکہ یہ امت کی فکری تشکیل، علمی تربیت اور روحانی تطہیر کا ایک سنجیدہ اور باوقار ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ جب کسی مجلس کا مقصد خالصتاً اللہ رب العزت کی رضا، علم کی نشر و اشاعت اور عوام کی اصلاح ہو تو وہاں نہ مقابلہ بازی پیدا ہوتی ہے، نہ خطابت کا شور غالب آتا ہے اور نہ ہی شخصیات کو نمایاں کرنے کا رجحان جنم لیتا ہے۔ یہی وہ اصولی بنیاد تھی جس پر برصغیر پاک و ہند میں اہلِ علم کی روایت استوار تھی، جہاں گفتگو کا محور قرآن و سنت، استدلال،علمی انداز اور فہم سلف ہوا کرتا تھا۔
خالصتاً اللہ رب العزت کی رضا مندی و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بجا لائے جانے والے امور دین و دنیا میں کبھی بھی اہل علم و فضل اور اہل علم و فن تقابل کی راہ اختیار نہیں کرتے، کیونکہ جب قلب و ذہن میں مقصود و مطلوب فقط باری تعالیٰ کا قرب اور عامی افراد کو علمی و اصلاحی فائدہ پہنچانا ہو وہاں ایسے رویے جنم نہیں لیتے۔ لیکن آج منبر و محراب اور جلسہ گاہوں کا منظرنامہ اس اصولی روایت سے ہٹ کر ایک عجیب قسم کی نمائشی اور غیر سنجیدہ فضا میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں علم کی وقاریت پس منظر میں اور ہنگامہ آرائی پیش منظر میں آ چکی ہے۔
دینی جماعتیں اور مختلف دینی مقاصد کے لیے ان کی سرگرمیاں بجا طور پر تائید کی مستحق ہیں اور ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ امر نہایت قابلِ افسوس ہے کہ یہی حلقے بعض اوقات ایسے طرزِ عمل میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کی توقع ایک عام فرد سے بھی نہیں کی جا سکتی، چہ جائیکہ وہ دین کے نام پر ہوں۔ انہی مظاہر میں ایک نمایاں پہلو جلسوں میں نعروں کے ساتھ استقبال کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، جو بظاہر عقیدت کا اظہار محسوس ہوتا ہے مگر درحقیقت علمی مجلس کے وقار کے منافی ہے۔
اکثر یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک مقرر قرآن و حدیث کی روشنی میں نہایت سنجیدگی سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے اور عین اسی وقت کسی شخصیت کی آمد پر مجمع بے قابو ہو کر نعرے بازی شروع کر دیتا ہے، مائیک پر شور ڈال دیا جاتا ہے یا ترانے بلند کر دیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرزِ عمل کا کوئی شرعی یا اخلاقی جواز کیا ہے؟ اگر یہی طرز کسی دنیاوی پلیٹ فارم پر اختیار کیا جائے تو اسے توہین سمجھا جائے، لیکن دینی جلسوں میں اسے جوشِ عقیدت کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بعض اوقات جذباتی افراد مقرر کے ہاتھ سے مائیک تک چھین لیتے ہیں، جو علمی مجلس کی صریح بے حرمتی ہے۔
یہ کیفیت اس بات کی غماز ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ اور منظم طرزِ عمل نہیں بلکہ ایک وقتی جذباتی ابال ہے، جسے خاموشی کے ذریعے قبولیت دی جا رہی ہے، حتیٰ کہ گویا اس پر ایک غیر اعلانیہ “اجماعِ سکوتی” قائم ہو چکا ہے۔ اگر اس کی اصلاح نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں انہی حرکات کو دلیل بنا لیں گی اور “إنا وجدنا آباءنا علی أمة” کی نفسیات ایک بار پھر غالب آ جائیں گیں۔
اسی طرح دیگر پہلو بھی اسی زوال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جلسوں کا کئی کئی دن جاری رہنا، ساری رات کے پروگرام، مگر اس کے باوجود عوام کی عملی زندگی پر کوئی اثر نہ ہونا، یہ واضح کرتا ہے کہ اصل مقصد کہیں کھو چکا ہے۔ مقررین کا اشتہارات میں نام نمایاں نہ ہونے پر شرکت سے گریز کرنا، بھاری معاوضوں اور پرتکلف کھانوں کا مطالبہ کرنا، یہ سب اخلاص کے اس معیار سے انحراف کی علامات ہیں جس کی دعوت دی جاتی ہے۔
خالص علمی نوعیت کی تقریبات، مثلاً جامعات میں سال کے آخر میں تقریب صحیح بخاری میں بھی ایسے خطباء کو مدعو کیا جاتا ہے جو اس کتاب کے علمی مقام اور اس کے دقیق مباحث سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے، جس سے علمی سطح مزید متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر پروگراموں کی تشہیر، تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت ایک نمایاں رجحان بن چکی ہے، حتیٰ کہ خواتین کے حلقوں میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اپنے پروگراموں کو نمایاں انداز میں پیش کیا جائے، حالانکہ اصل مقصد اصلاح اور تعلیم ہونا چاہیے، نہ کہ نمائش اور مقابلہ آرائی۔
اسی تناظر میں ایک اور نہایت حساس اور قابلِ توجہ پہلو مردوں کا خواتین کے سامنے بیٹھ کر خطاب کرنا ہے، جو بعض جگہوں پر ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں شریعت کے واضح تقاضے موجود ہیں کہ حجاب اور پردے کا مکمل اہتمام کیا جائے۔ تعلیم دینے والا الگ ہو اور خواتین الگ ہوں۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر خواتین درس دینے والے کے بالکل سامنے بغیر کسی پردہ حائل کئے بیٹھی ہوتی ہیں، جو ایک طرح کا اختلاط ہے اور شرعی حدود سے متصادم ہے،کیونکہ جس طرح مرد کو کسی نامحرم عورت کو دیکھنے کی اجازت نہیں، اسی طرح عورت کے لیے بھی کسی نامحرم مرد کو بلا ضرورت دیکھنا درست نہیں۔ جب ایک مرد سامنے کھڑا ہو اور خواتین مسلسل اسے دیکھ رہی ہوں تو یہ صورت یقیناً ان حدود کے خلاف ہے جو شریعت نے مقرر کی ہیں۔ اسی طرح بعض دینی پروگراموں میں، خصوصاً میڈیا پر، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے پروگراموں میں مرد حضرات کی آزادانہ آمد و رفت ہوتی ہے، جو پردے کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
چند وہ تجاویز جن کو مد نظر رکھنے سے ہمارے جلسوں کی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے۔
وہ چند درج ذیل ہیں:،
۱۔ تقریر میں وہی بات کہی جائے جو معتبر ہو، اور قرآن مجید، معتبر احادیث یا صحابہ کے قول وفعل سے ثابت ہو۔
فقہاء کرام نے اصول متعین کر دیا ہے کہ چار ہی چیزیں دلیل شرعی ہیں:
(۱) کتاب اللہ
(۲) سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (۳)
اجماع اُمت
(۴) اور قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا جانے والا قیاس
(الموافقات للشاطبی: 165/3
بدقسمتی سے بعض مقررین غیر معتبر روایات کو اس طرح نقل کرتے ہیں، گویا یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے،جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا:
جس نے میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کی اُس نے دوزخ میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا
(بخاری حدیث نمبر: 3461)
2۔ کرامت حق ہے اور کسی بزرگ بلکہ عام انسان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے، جو خلاف ِعادت ہو؛ لیکن یہ دلیل شرعی نہیں ہے، اور اگر قرآن وحدیث سے اس کی تائید نہ ہوتی ہو تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، چاہے کتنے ہی بڑے بزرگ کے بارے میں منقول ہو، اس لئے ایسی باتوں کو عوامی جلسوں میں بیان کرنے سے بچنا چاہئے، کیوں کہ عوام میں اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ بزرگوں سے منقول کو ن سی بات ہمارے لئے قابل عمل ہے اور کون سی بات ہمارے لئے قابل عمل نہیں ہے۔
3۔ آج کل ایک مزاج جلسوں میں شعر خوانی کا بھی ہوگیا ہے، اس کے لئے خوش آواز نوجوانوں کو دعوت دی جاتی ہے، کافی وقت اشعار سننے اور سنانے میں ضائع کیا جاتا ہے اور اب اس سے آگے بڑھ کر مقررین خود بھی اپنے خطابات میں اشعار کا ڈھیر لگا دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبات میں اشعار نہیں پڑھے، علامہ عز الدین بن عبدالسلام نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ، عیدین یا دوسرے خطبوں میں کبھی اشعار نہیں پڑھے،بلکہ ہمیشہ آپ کے خطاب میں قرآنی آیات اور سلیس انداز پر نصیحت کی باتیں ہوتی تھیں:
لم ینقل عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہ القی اشعارا فی خطبہ (کالجمعۃ او العید او غیرھا) بل کان خطابہ یعتمد علی الوحی والبلاغۃ النبویۃ
(فتاویٰ عز الدین عبدالسلام: 194)
البتہ چوں کہ جائز مضمون پر مشتمل اشعار کا کہنا، پڑھنا، سننا اور سنانا جائز ہے؛ اس لئے اگر موقع کی مناسبت سے ایک دو شعر کہیں پڑھ دیا جائے جو اچھے مضامین پر مشتمل ہوں تو اس کی گنجائش ہے؛ مگر وہ اشعار بھی عبرت آموز اور صالح مضامین پر مشتمل ہوں، اشعار پڑھنے کی کثرت نہ ہو، اور جو لوگ نعت پڑھتے ہیں، وہ بھی مضمون کے تقدس کا لحاظ رکھیں۔
4۔ غیر ضروری اور بے مقصد کانفرنسوں کو محدود کیا جائے، طویل اور غیر مؤثر پروگراموں سے اجتناب کیا جائے، اور ان کی جگہ مختصر، بامقصد اور تربیتی نوعیت کے دروس کو فروغ دیا جائے۔
5۔ ہر مسجد میں ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر ایسے دروس کا اہتمام کیا جائے جن میں ایک مستند عالم دین محدود وقت میں جامع گفتگو کرے۔
6۔ موضوعات کا انتخاب معاشرتی ضرورت کے مطابق ہو، اور سوال و جواب کی نشست کو لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ عوام کے حقیقی مسائل سامنے آ سکیں۔
7۔ مجالس کو نعروں، شور و غوغا اور نمود و نمائش سے پاک رکھا جائے، غیر سنجیدہ اور محض جذباتی خطابت کرنے والے افراد سے اجتناب کیا جائے۔
8۔ اشتہارات کو سادہ رکھا جائے۔
9۔ خواتین اور بچوں کے لیے الگ، باوقار اور شرعی تقاضوں کے مطابق پروگرام ترتیب دیے جائیں۔
10۔ ہر جماعت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنے جلسوں کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے، جس میں اس قسم کی ہلڑ بازی، بے نظمی، اختلاط اور دیگر غیر مناسب رویوں کو روکا جائے۔
ان تمام امور کا مجموعی جائزہ یہی بتاتا ہے کہ مسئلہ محض چند جزوی کوتاہیوں کا نہیں بلکہ ایک مجموعی فکری اور عملی انحراف کا ہے۔ دعوت و تبلیغ ایک عظیم وعلمی فریضہ ہے اور اس کی ادائیگی میں اخلاص، حکمت اور شرعی حدود کی پابندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مختلف جماعتیں اپنی جگہ خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن طریقہ کار میں اصلاح ناگزیر ہے۔
اگر ان امور پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو اندیشہ یہی ہے کہ دینی مجالس اپنی اصل روح سے محروم ہو کر محض ایک شور زدہ اور نمائشی اجتماع بن جائیں گی، جہاں آواز تو بہت ہوگی مگر اثر نہیں، اور مجمع تو ہوگا مگر اصلاح کا نور مفقود ہوگا۔
✍️ کامران الہی ظہیر




