ڈیجیٹل شہرت کا فتنہ
حجاب جسے شریعت نے وقار، حیا، ستر اور تحفظِ نسواں کی علامت بنایا تھا، بدقسمتی سے عصر حاضر میں بعض حلقوں میں وہی حجاب نمائشِ ذات اور جذبِ نگاہ کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے اس پُرفتن ماحول میں باحجاب خواتین کی ایک تعداد اپنی نجی و گھریلو زندگی کے معمولات، شوہروں کے ساتھ تعلقات، روزمرہ مصروفیات، سفرناموں، کھانوں کی تراکیب، ذاتی پسند و ناپسند، حتیٰ کہ خانگی لمحات تک کو مسلسل وڈیوز اور وی لاگز کی صورت میں منظرِ عام پر لا رہی ہے۔
کہیں پسِ منظر میں موسیقی کے ساتھ حجاب اوڑھ کر ٹرینڈنگ وڈیوز بنائی جا رہی ہیں، کہیں غیر محرم مردوں کے ساتھ پوڈکاسٹس اور مخلوط نشستیں ہو رہی ہیں، کہیں لائکس، ویوز اور تبصروں کے حصول کے لیے نسوانی انداز و لہجے کو دانستہ نمایاں کیا جا رہا ہے اور کہیں اسلامی شناخت کے عنوان سے ایسی ڈیجیٹل سرگرمیاں فروغ پا رہی ہیں جو روحِ حیا اور مزاجِ شریعت سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتیں۔
حالانکہ حقیقت میں یہ طرزِ عمل اسلامی مزاجِ حیا سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔
اسلام نے عورت کو محض کپڑے کے چند ٹکڑوں میں محدود پردہ نہیں دیا بلکہ نگاہ، لہجہ، حرکات و سکنات، اظہار اور تعلقات تک ایک مکمل تہذیبِ عفت عطا کی ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں لباسِ ستر کا حکم دیا، وہیں “فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ” فرما کر اندازِ گفتگو میں بھی نزاکت و کشش سے اجتناب کی تعلیم دی۔
لہٰذا اگر حجاب کے باوجود لہجہ توجہ طلب ہو، انداز نمائش پر مبنی ہو، حرکات و سکنات غیر محرم مردوں کی دلچسپی کا سبب بنیں، یا مجالس اختلاطِ مرد و زن کا منظر پیش کریں تو یہ محض حجاب کرنے کا نام نہیں بلکہ روحِ حجاب سے تدریجی دوری ہے۔
مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض خواتین اسلام کی آڑ میں دراصل وہ مغربی فیمنسٹ فکر کے زیرِ اثر ایک ایسے طرزِ اظہار کو فروغ دے رہی ہیں جس میں نسوانی وقار کی اصل تعریف دکھائی دینا اور مرکزِ توجہ بننا قرار پاتی جا رہی ہے۔
حالانکہ اسلام نے عورت کی عظمت کو محفوظ موتی سے تعبیر کیا، نہ کہ ہر نگاہ کی زینت بننے والی شے سے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہر وہ عمل جو لوگوں کے دلوں میں فتنۂ نظر، بے جا رغبت یا غیر ضروری التفات پیدا کرے، وہ خواہ دینی عنوان ہی کیوں نہ رکھتا ہو، اصلاح سے زیادہ فتنہ کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ تنقید ہرگز اس معنی میں نہیں کہ خواتین علم، دعوت یا اصلاحی خدمات سے کنارہ کش ہو جائیں۔ تاریخِ اسلام میں خواتین نے علم، تدریس، روایتِ حدیث اور اصلاحِ معاشرہ میں عظیم کردار ادا کیا ہے۔ مگر ان تمام خدمات کی بنیاد وقار، حیا، عدمِ اختلاط اور غیر نمائشی اسلوب پر قائم تھی، نہ کہ مسلسل ڈیجیٹل نمود و نمائش پر۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان خواتین اپنے مقام و مرتبہ کو سوشل میڈیا کی وقتی مقبولیت، لائکس، ویوز اور تبصروں کے ترازو میں تولنے کے بجائے رضائے الٰہی، حیا اور سنجیدہ اسلامی شناخت کے معیار پر پرکھیں۔ کیونکہ عورت کا حقیقی حسن اُس کی آواز کی نمائش، چہرے کی کشش یا سوشل میڈیا کی شہرت میں نہیں بلکہ اُس کی عفت، متانت، فکری پختگی اور ربّ کے سامنے جواب دہی کے احساس میں مضمر ہے۔
کیوں کہ حجاب صرف لباس نہیں، ایک مکمل طرزِ فکر، ایک خاموش وقار، اور ایک مقدس حد بندی کا نام ہے اور جب حجاب نمائش بن جائے تو پھر صرف کپڑا باقی رہ جاتا ہے، روحِ حیا رخصت ہو جاتی ہے۔
✍️ کامران الہی ظہیر




