دردِ دل اور عاجزانہ درخواست

اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف اپنی بندگی و عبادت کے لیے پیدا فرمایا، اور انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی ابلاغِ دین اور لوگوں تک حق سچ پہنچانا تھا۔
لیکن افسوس! آج بہت سے لوگ دین کو پسِ پشت ڈال کر اپنی جماعت، مسلک یا قائد کے دفاع میں ہی مصروفِ عمل دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی جماعت کے دفاع کو دین سمجھ بیٹھا ہے، تو کوئی شخصیت پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ حق و باطل کا معیار ہی اپنے پسندیدہ افراد کو بنا لیا گیا ہے۔
واللہ العظیم! معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے ساتھ مباہلہ تک کی نوبت آچکی ہے، حالانکہ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی تھی:

يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا (صحیح البخاری)

لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، تنگی نہ پیدا کرو، خوشخبری دو اور نفرتیں نہ پھیلاؤ۔
مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان، مؤمن، موحد، بلکہ اپنے آپ کو پکے سچے اہلِ حدیث کہلوانے والے لوگ بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، تحقیر کرنے اور اپنی زبانوں سے نفرتیں پھیلانے میں مصروف ہیں، گویا جنت کے ٹکٹ ہمارے ہاتھ میں دے دیے گئے ہوں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دین کا اصل حُسن اخلاص، حکمت، نرمی، حسنِ اخلاق اور خیر خواہی میں ہے، نہ کہ تعصب، گروہ بندی اور شخصیت پرستی میں۔
اگر ہم واقعی دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جماعتی تعصبات سے بالاتر ہو کر کتاب و سنت کو معیار بنانا ہوگا، اختلاف میں بھی عدل، اخلاق اور دیانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہوگا۔
آج سوشل میڈیا اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ ہر طرف لوگوں کی غیبتیں، بدگوئیاں، الزام تراشیاں اور طعن و تشنیع عام ہوچکی ہیں۔
لوگوں کی عزتیں بےدریغ پامال کی جارہی ہیں، اور زبان و قلم کا استعمال اصلاح کے بجائے تذلیل، تحقیر اور کردار کشی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھے بغیر کہ ایک ایک لفظ اللہ ربّ العزّت کے ہاں لکھا جارہا ہے، دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے کو معمولی بات سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے کسی مسلمان کی عزت، جان اور مال کو انتہائی محترم قرار دیا ہے۔
ایک پوسٹ، ایک تبصرہ یا ایک ویڈیو کے ذریعے کسی کی کردار کشی کرنا، جھوٹے الزامات لگانا یا بغیر تحقیق بات آگے بڑھا دینا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ شریعت کی نظر میں بھی سخت گناہ ہے۔
قرآنِ کریم نے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی، اور نبی کریم ﷺ نے زبان کی حفاظت کو نجات کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
مگر آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ فالوورز، لائکس اور وقتی شہرت کی خاطر دوسروں کی عزتوں کو نیلام کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کو نفرت، تعصب اور کردار کشی کا میدان بنانے کے بجائے خیر، علم، اخلاق اور اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن صرف ہماری نمازیں اور دعوے نہیں، بلکہ ہماری زبان، ہماری پوسٹس اور ہمارے تبصرے بھی ہمارے خلاف یا ہمارے حق میں گواہی دیں گے ورنہ صحیح مسلم میں وارد حدیثِ مفلس اہلِ علم سے مخفی و پوشیدہ نہیں ہے۔

✍️ یاسر مسعود بھٹی

یہ بھی پڑھیں: عقیدہ و منہج سے متعلق ’متفقہ اعلامیہ‘ کا مطالعہ اور کچھ گزارشات