سودائے محبت: سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ کی ایمان افروز داستان

سیدنا صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ نسلاً رومی نہیں بلکہ اصیل عرب تھے۔ ہوا یوں کہ جب آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ رومیوں نے عرب قبائل پر یلغار کر دی اور بہت سے بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا، جن میں صہیب بھی شامل تھے۔ آپ نے انھی کے درمیان پرورش پائی اور انھی کی زبان و اطوار سیکھے۔ برسوں بعد آپ کو مکہ مکرمہ لایا گیا اور غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ چونکہ آپ رومیوں کے علاقے سے آئے تھے، اس لیے اہل مکہ آپ کو ‘صہیب رومی’ کہنے لگے، ورنہ حقیقت میں آپ عربی النسل تھے۔

آپ غیر معمولی ذہانت کے مالک اور تجارت کے فن میں یکتا تھے۔ آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر آپ کے آقا نے آپ کو آزاد کر دیا اور اپنا تجارتی شریک بنا لیا۔ یوں آپ ایک غلامی کی زندگی سے نکل کر مکہ کے معزز، کامیاب اور دولت مند تاجروں کی صف میں شامل ہو گئے۔

جب نبی کریم ﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا اور آپ کے کانوں میں اس کی صدا پہنچی، تو آپ فوراً دارِ ارقم پہنچے اور حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ یہیں سے آزمائش اور حق و باطل کے معرکے کا آغاز ہوا۔ قریش نے صحابہ کرام کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا، تو حضور ﷺ نے صحابہ کو مدینہ ہجرت کا حکم دیا، اس میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

حضرت صہیب نے رختِ سفر باندھا، مگر کیا قریش انھیں یوں ہی آسانی سے جانے دیتے؟ انھیں یہ بات برداشت نہ ہوئی کہ وہ مال و دولت جو صہیب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں رہ کر کمائی تھی، ساتھ لے جانے دیں۔

قریش کے سردار آپ کے راستے کی دیوار بن گئے اور بولے: ”اے صہیب! جب تو ہمارے پاس آیا تھا تو ایک حقیر و مفلس شخص تھا، یہاں رہ کر تو نے مال و دولت سمیٹا اور اس مقام تک پہنچا۔ اب تو چاہتا ہے کہ اپنی جان اور مال دونوں لے کر یہاں سے رفو چکر ہو جائے؟ بخدا! ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔“

اب صہیب کیا کرتے؟ قریش نے ان کے مال کو ہجرت کی راہ میں رکاوٹ بنا دیا تھا۔ سوال اب انتخاب کا تھا: مال یا محبوبِ خدا ﷺ؟ دنیا یا آخرت؟ دولت کی چمک اور کفار کی رفاقت، یا سب کچھ لٹا کر مدینہ میں حضور ﷺ کی معیت؟

وہ مال جسے صہیب نے برسوں کی شبانہ روز محنت اور خون پسینے سے جمع کیا تھا! وہ دولت جس کی خاطر کئی راتیں آنکھوں میں کٹیں اور کئی دن بے سکونی میں گزرے! کیا اسے ایک لمحے میں چھوڑ دیا جائے؟ اور وہ بھی کن کے لیے؟ ان ظالموں کے لیے جنھوں نے ہمیشہ دکھ دیئے!

ہم سب جانتے ہیں کہ ’مال‘ انسان کو جان سے پیارا ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

((إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي المَالُ)). سنن ترمذي: 2336

“ہر امت کا ایک فتنہ (آزمائش) ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔”
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

((وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا)). مسلم: 2296

”مجھے تمھارے بارے میں شرک کا خوف نہیں، بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ تم دنیا (اور اس کے مال) کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ کھڑے ہو گے۔“
ہم نے اس دنیا میں دیکھا ہے کہ لوگ پیسے کی خاطر ضمیر بیچ دیتے ہیں، جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، بھائیوں کا حق مارتے ہیں اور خونی رشتوں کو دینار و درہم کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

مگر صہیب کا انتخاب کیا تھا؟

آپ اپنی سواری سے اترے، ترکش سے تیر نکالے اور کمان تھام کر گرج دار آواز میں فرمایا: ”اے گروہِ قریش! تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے بہتر نشانہ باز ہوں۔ خدا کی قسم! جب تک میرے پاس ایک بھی تیر باقی ہے تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے، اور تیر ختم ہوئے تو تلوار سے لڑوں گا۔ اب تمہاری مرضی ہے، یا تو مجھ سے لڑو، یا اگر تم چاہو تو میں اپنا سارا مال تمہارے حوالے کر دیتا ہوں، میرا راستہ چھوڑ دو۔“

انھوں نے سودا منظور کر لیا۔ آپ نے اللہ کو گواہ بنا کر اپنا تمام اثاثہ ان کے نام کر دیا اور پتا بتا دیا کہ دولت کہاں چھپائی ہے۔

دیکھا آپ نے! صہیب نے اپنی زندگی بھر کی کمائی قربان کر دی۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ ان کا دین سلامت رہے اور وہ قافلہِ محمدی ﷺ میں شامل ہو سکیں۔ جب انسان اللہ کو پہچان لیتا ہے اور ایمان کی حلاوت پا لیتا ہے، تو اس کے نزدیک مال، دنیا اور یہاں تک کہ اپنی جان کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ بقول شاعر:

وَلَيْتَ الذي بَيْني وَبَيْنَكَ عَامِرٌ
وبيني وبينَ العالَمِينَ خَرَابُ
إذا صَحَّ منك الوُدُّ فالكُلُّ هَيِّنٌ
وكُلُّ الذي فَوقَ التُّرابِ تُرابُ

کاش! میرے اور تیرے درمیان تعلق آباد رہے، چاہے تمام جہان سے میرا رشتہ ٹوٹ جائیں۔
اگر تیری محبت میسر ہے تو ہر مشکل آسان ہے، کیونکہ اس زمین پر جو کچھ بھی ہے، اس نے بالآخر خاک ہی ہونا ہے۔

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے برسوں کی ریاضت کا ثمر ایک لمحے میں لٹا دیا اور مدینہ کی طرف چل پڑے۔ آپ کا دل مسرت سے لبریز تھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ آپ نے فانی دنیا دے کر باقی رہنے والی آخرت خرید لی تھی۔

ابھی آپ مدینہ کی بستی میں داخل ہی ہو رہے تھے کہ حضور ﷺ نے آپ کو دیکھتے ہی، آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی مسکرا کر فرمایا:

((رَبِحَ الْبَيْعُ أبا يحيى، رَبِحَ الْبَيْعُ أبا يحيى)).

”اے ابو یحییٰ! تمھاری تجارت نفع بخش رہی، تمھاری تجارت نفع بخش رہی!“

سبحان اللہ! اللہ کے رسول ﷺ کو راستے کے اس واقعے کی خبر کس نے دی؟ کس نے بتایا کہ صہیب اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے لیے چھوڑ آئے ہیں؟

یہ خبر زمین و آسمان کے مالک نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے بھیجی اور وہ آیات نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جاتی رہیں گی:

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾[البقرہ: 207]

”اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے“

واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق

1️⃣ ترجیحات کا درست تعین (ایمان بمقابلہ مادہ پرستی)

اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایک مومن کی زندگی میں ایمان اور عقیدے کا مقام تمام مادی فوائد سے بلند ہونا چاہیے۔ جب صہیب رومی کو دنیاوی دولت اور اللہ کی رضا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا، تو انہوں نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اپنی برسوں کی جمع پونجی کو ٹھکرا کر ایمان کی سلامتی کو چنا۔

2️⃣حقیقی کامیابی کا معیار

دنیا کی نظر میں سب کچھ لٹا دینا ’خسارہ‘ ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں یہ ’ربح البيع‘ (نفع بخش تجارت) ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی بینک بیلنس یا جائیداد نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں سرخرو ہونا ہے۔ جس سودے میں دنیا دے کر آخرت مل رہی ہو، وہ کبھی مہنگا نہیں ہوتا۔

3️⃣ رزقِ حلال اور محنت کی عظمت

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنی محنت، ذہانت اور امانتداری سے مقام بنایا۔ ایک غلام سے مکہ کے امیر ترین تاجر بننے تک کا سفر ثابت کرتا ہے کہ اسلام محنت اور حلال طریقے سے ترقی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

4️⃣ ایثار اور بے غرضی

ہجرت کے وقت قریش نے ان کا مال ہتھیا لیا، لیکن حضرت صہیب نے ان سے الجھنے یا مال بچانے کے بجائے اسے بخوشی چھوڑ دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب مقصد بڑا ہو (یعنی اللہ کی قربت)، تو راستے کی رکاوٹیں اور مالی نقصانات چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔

5️⃣ اللہ پر کامل توکل

حضرت صہیب کو پورا یقین تھا کہ جو اللہ مکہ میں رزق دینے پر قادر ہے، وہ مدینہ میں بھی ان کا ضامن ہوگا۔ انھوں نے اسباب (مال) پر بھروسہ کرنے کے بجائے مسبب الاسباب (اللہ) پر بھروسہ کیا۔

6️⃣ عمل کی قبولیت اور غیبی تائید

جب انسان اخلاص کے ساتھ کوئی قربانی دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف قبول فرماتا ہے بلکہ اس کا چرچا آسمانوں پر بھی کرتا ہے۔ حضور ﷺ کا پیشگی استقبال کرنا اور قرآن کی آیت کا نازل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔

7️⃣ عصرِ حاضر کے لیے پیغام

آج کے دور میں یہ واقعہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے نفس کا جائزہ لیں:

💠 کیا ہم تھوڑے سے مالی فائدے کے لیے جھوٹ یا رشوت تو نہیں لے رہے؟
💠 کیا ہم اللہ کی راہ میں زکوٰۃ اور صدقات دیتے وقت “صہیبی جذبہ” رکھتے ہیں؟
💠 کیا ہم اپنے کاروبار اور معاملات میں اخلاق کو مال پر ترجیح دیتے ہیں؟

حضرت صہیب رومی کا عمل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے اور یہاں کی ہر چیز فانی ہے۔ اصل سرمایہ وہ ہے جو ہم نے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیا، وہی درحقیقت ہمارا اپنا ہے اور باقی سب دوسروں کے لیے ہے۔

ترجمہ و اضافہ: عمران صارم

یہ بھی پڑھیں: دردِ دل اور عاجزانہ درخواست