سوال 7166

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز علماء کرام رہنمائی فرمائیں ایک شخص نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوا تو عین اسی وقت صفیں درست کی جاتی ہیں، جبکہ اس نے وضو بھی کرنا ہے، اب وہ کیا کرے گا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بغیر طہارت، بغیر وضو کے نماز نہیں۔ [مسلم: 535]
لہذا وضو نہیں یے تو نماز نہیں پڑھ سکتے خواہ وہ فرض نفل نماز ہو یا نماز جنازہ۔
وضو کریں جو تکبیرات امام کے ساتھ ملتی ہیں اپنی ترتیب سے پڑھ لیں جو رہ جائیں وہ بعد میں ادا کرلیں جیسے فرض نماز میں کچھ رکعات رہ جائیں تو بعد میں ادا کرتے ہیں۔
[مسلم: 1359]

إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا”.

جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، (بلکہ) چلتے ہوئے آؤ کہ تم پر سکون طاری ہو۔ (نماز کا) جو حصہ پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو.
اگر وضو کرتے مکمل جنازہ رہ جائے تو چند لوگوں سے مل کر جماعت کروا لیں جنازہ کی یا پھر قبر پر دعا میں بس شریک ہو جائیں۔ سب پر جنازہ پڑھنا فرض تو نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بغیر وضو کے کوئی نماز نہیں ہے، لہذا اسے وضو کرنا ہو گا۔ اس کو پہلے سے اہتمام کرنا تھا، غیر ضروری طور پہ ایکٹنگ کر کے گنجائشیں نکالنا اور پھر فقہ حنفی سے فتویٰ لے لینا کہ جی تیمم کر کے شامل ہو جائیں۔ یہ ان کا اپنا بنایا ہوا دین ہے، اسلام میں کوئی نماز بغیر وضو کے نہیں ہے، اگر پانی کے استعمال میں کوئی مشقت نہ ہو۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ