سوال 7162

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
عبدالرؤف کے نام کو صرف رؤف کہنا جائز ہے؟ اور اس کے علاوہ جو بھی اللہ تعالی کےصفاتی نام ہیں اس میں سے لفظ عبد کو ہٹا کر کیا کسی انسان کو نام سے بلایا جا سکتا ہے جیسے عبدالعزیز کو عزیز کہنا عبدالجبار کو جبار کہنا عبدالرزاق اور رزاق کہنا وغیرہ۔

جواب

وہ صفات جو متعدی (عام معنی میں بندوں پر بھی اطلاق ہو سکنے والی) ہیں، ان کے ساتھ بندے کو اس صفت سے متصف کر کے پکارا جا سکتا ہے۔
لیکن جو صفات ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں اور متعدی نہیں ہیں، ان میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ ان کو بندوں پر اسی اطلاق کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
اسی طرح اسماء کے معاملے میں بھی اصول یہی ہے:
مثلاً “اللہ” صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، لہذا عبداللہ کو اللہ کہنا درست نہیں۔ اسی طرح عبدالرحمن کو رحمن کہنا بھی درست نہیں۔
البتہ بعض اسماء جیسے رؤوف، رحیم، سمیع، بصیر وغیرہ ایسے ہیں جن کا اطلاق لغوی معنی کے اعتبار سے بندوں پر بھی ہو جاتا ہے، اس لیے ان کے استعمال کی گنجائش ملتی ہے، البتہ ادب اور احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ نسبت اور فرق واضح رہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ