سوال 7163

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ! قربانی کی قبولیت کے لیے جس طرح قربانی کے جانور کا عیبوں سے پاک ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، کیا اسی طرح انسان کا کردار اور اس کا مال بھی عیوب، حرام اور بددیانتی سے پاک ہونا ضروری نہیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عمل کی قبولیت کے لیے ان چیزوں کا ہونا لازم ہے:
1: عمل کرنے والا مسلمان ہو عقیدہ توحید پر ہو
2: عمل میں اخلاص ہو
3: عمل سنت کے مطابق ہو
4: مالی عبادت ہے تو مال حلال ہو
اگر کوئی شخص قربانی کررہا ہے اور اس کے اس عمل میں یہ سب چیزیں پائی جاتی ہیں تو اس شخص کی قربانی بالکل صحیح ہے۔ باقی کوئی اور عیب گناہ ہیں اس میں تو اس کی وجہ سے اس کی قربانی باطل نہیں۔ جس طرح قربانی کے لیے بھی چند عیب متعین ہیں اس کے علاؤہ کوئی اور عیب ہو تو قربانی صحیح ہے۔ [ابوداود: 2802، سندہ صحیح]
یہی اصل اصول و قاعدہ ہے۔
مثلا اگر کوئی شخص گانے سنتا ہے تو ہم کہیں گے اسے گانے سننے کا کبیرہ گناہ ملتا ہے لیکن اگر وہ قربانی یا صدقہ جیسی نیکی کرتا ہے تو اس کی نیکی اس کے گانے سننے کی وجہ سے رد نہیں کی جاسکتی۔ عین ممکن ہے کہ دیگر نیکیوں میں مزید آگے بڑھنے کی وجہ سے اسے گناہ چھوڑنے کی بھی توفیق مل جائے۔ جیسے نماز بے حیائی برے کاموں سے روکتی ہے۔ [العنکبوت: 45]
ھود#114

اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ‌ؕ ذٰلِكَ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ.

یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔
لہذا اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ قربانی کرنے والا معصوم عن الخطا ہو ، اس میں کوئی برائی ہو ہی نا پھر ہی قربانی کرے، پھر تو انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور قربانی نا کر پاتا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ