سوال 7165
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم سائے کے نیچے قضائے حاجت کرنے سے بعض لوگ کہتے ہیں جنات کا خدشہ ہے اور وہ سایہ بھی عام لوگوں کے بیٹھنے کے لیے نہیں ہے اس کے بارے میں شرعی رہنمائی کریں جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق شاہراہِ عام، درختوں کے نیچے اور سائے کی جگہوں پر قضائے حاجت سے جو منع کیا گیا ہے، اس کی شرعی حکمت میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ حکم تعبدی ہے، یعنی شریعت نے منع کیا ہے تو اس کی پابندی مطلوب ہے، خواہ پوری علت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے ایذا اور تکلیف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ بددعا یا لعنت کرتے ہیں۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: “ملعون کر دینے والے کاموں سے بچو”، اور ان مقامات کا ذکر کیا گیا ہے جہاں لوگوں کو اذیت پہنچتی ہو۔
جہاں تک جنات کے خدشے کا تعلق ہے، تو یہ بحث عام سائے میں قضائے حاجت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ بلوں، جانوروں کے سوراخوں اور حشرات کے مساکن کے بارے میں آتی ہے۔ بعض اہلِ علم نے کہا کہ یہ “أماكن الهوام ومساکن الجن” یعنی جنات یا موذی مخلوقات کی رہائش گاہیں ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض نے اس کی وجہ زہریلے جانوروں کے نقصان کا اندیشہ بیان کیا ہے۔
لہذا عام سائے میں قضائے حاجت سے ممانعت کا اصل سبب لوگوں کو تکلیف پہنچنا اور حکمِ شرعی (تعبدی) ہونا ہے۔ اگر علت پوری طرح معلوم نہ بھی ہو، تب بھی بہرحال اس سے بچنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




