مسنون وضو اور غسلِ جنابت
قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل طریقہ
غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا ارادہ فرمایا تو:
1۔ پہلے دونوں ہاتھ دھوئے۔
2۔ پھر شرمگاہ کو دھویا۔
3۔ پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر رگڑا اور دھویا۔
4۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔
5۔ پھر چہرہ دھویا۔
6۔ پھر کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے۔
7۔ پھر سر پر پانی ڈال کر بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچایا۔
8۔ تین مرتبہ سر پر پانی ڈالا۔
9۔ پھر پورے جسم پر پانی بہایا۔
10۔ آخر میں جگہ بدل کر پاؤں دھوئے۔
(صحیح البخاری: 249)
نوٹ: بغیر جگہ بدلے اسی جگہ پربھی پاؤں دھوئے جاسکتے ہیں۔
اہم نوٹ:
❖ غسل میں سر کا مسح نہیں ہے،
کیونکہ حدیثِ مبارکہ میں لم یمسح کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
(سنن نسائی: 422)
اسی طرح حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
غسلِ جنابت کے وضو میں سر کے مسح کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری)
❖ غسل کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، الاّ کہ شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے۔
دلیل: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کے بعد الگ وضو نہیں کرتے تھے۔
(جامع الترمذی: 107)
❖ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک صاع (تقریباً 2کلو 100گرام) پانی سے غسل کرتے تھے۔
(جامع الترمذی:3956)
مسنون وضو کی مکمل ترتیب
① بسم اللہ پڑھنا
وضو کے آغاز میں بسم اللہ پڑھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بسم اللہ کہتے ہوئے وضو شروع کرو۔
(سنن نسائی: 78)
② دونوں ہاتھ دھونا
پہنچوں تک دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئیں۔
(صحیح البخاری: 158)
③ کلی اور ناک میں پانی
ایک چلو پانی لیں:
– آدھے سے کلی کریں
– آدھا ناک میں ڈالیں
– بائیں ہاتھ سے ناک صاف کریں
(صحیح البخاری: 191)
④ چہرہ دھونا
پورا چہرہ تین مرتبہ دھوئیں۔
(صحیح مسلم: 235)
⑤ ڈاڑھی کا خلال
ایک چلو لے کر ٹھوڑی کے نیچے سے ڈاڑھی میں خلال کریں۔
(جامع الترمذی: 31)
⑥ ہاتھ دھونا
– پہلے دایاں ہاتھ کہنی سمیت تین بار
– پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت تین بار دھوئیں۔
(صحیح البخاری: 1934)
نوٹ: یاد رہے کہ کہنیوں کو دھوتے وقت ہاتھ کی انگلیوں سے لیکر کہنیوں سمیت تک بازو اچھی طرح دھویا جائے گا۔
⑦ سر کا مکمل مسح
دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصے سے شروع کرکے گدی تک لے جائیں، پھر واپس اسی جگہ لائیں جہاں سے شروع کیا تھا۔
(صحیح البخاری: 175)
⑧ کانوں کا مسح
شہادت کی انگلیاں کانوں کے اندر اور انگوٹھے کانوں کے پیچھے پھیرے جائیں۔
(سنن ابن ماجہ: 439)
⑨ پاؤں دھونا
– پہلے دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھوئیں۔
– پھر بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھوئیں۔
(صحیح البخاری: 1934)
ضروری تنبیہات:
🔹 وضو کے آغاز میں صرف بسم اللہ ہی پڑھنی چاہیے، الرحمٰن الرحیم کا اضافہ سنت سے ثابت نہیں۔
🔹 اگر بسم اللہ بھول جائیں اور دورانِ وضو یاد آجائے تو فوراً پڑھ لیں، وضو دہرانے کی ضرورت نہیں۔
🔹 ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا چاہیے۔
🔹 کلی اور ناک کے لیے ایک ہی چلو سے پانی لینا افضل ہے، البتہ الگ الگ پانی لینا بھی جائز ہے۔
نوٹ: جب ناک میں پانی ڈالا جائے تو اس کو سانس کے ساتھ اوپر کھینچا جائے ، تاکہ پانی ناک کے آخر تک چلا جائے ۔ صرف ناک کے کناروں کو پانی لگانے سے ہمارا یہ عمل مکمل نہیں ہوگا، کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ:
وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ
(جامع الترمذی: 788)
🔹 ڈاڑھی کے خلال کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے تک لایا جائے، اور کنگھی کرنے کی طرح اپنی انگلیاں ڈاڑھی میں پھیر کر اس کو تر کیا جائے۔
🔹 کانوں کے لیے الگ پانی لینے کی ضرورت نہیں۔
🔹 سر کا مسح صرف ایک مرتبہ سنت ہے، تین مرتبہ نہیں۔
🔹 گردن کا مسح نہیں کرنا چاہیے کیونکہ گردن کے مسح کی حدیث ضعیف ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“گردن کے مسح والی حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔”
🔹 بعض لوگ وضو میں پہلے دایاں بازو دھوتے ہیں پھر بایاں، اس کے بعد دوبارہ دایاں اور پھر بایاں دھوتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ طریقہ درست نہیں،
بلکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے دایاں بازو تین مرتبہ دھویا جائے، پھر بایاں بازو تین مرتبہ دھویا جائے اور اسی طرح پاؤں کو دھونے کا بھی مسئلہ ہے۔
وضو کے بعد کی مسنون دعائیں:
① جنت کے آٹھ دروازوں والی دعا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص یہ دعا پڑھے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔”
(صحیح مسلم: 234)
آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے والی حدیث ضعیف ہے۔
(سنن ابی داؤد: 170)
نوٹ: بعض لوگ دعا پڑھتے ہوئے اپنی نظر اور شہادت والی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں، یہ عمل بالکل بھی درست نہیں اور نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
② دوسری دعا:
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
(سنن نسائی، عمل الیوم واللیلۃ)
اہم مسائل:
🔹 نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد (تقریباً 525 گرام) پانی سے وضو کرتے تھے۔
(جامع الترمذی:3956)
🔹 ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
(صحیح مسلم: 270)
🔹 ہر نماز کے لیے نیا وضو فرض نہیں، البتہ افضل ہے۔
🔹 دورانِ وضو بات چیت کی جا سکتی ہے، البتہ لغویات سے بچنا چاہیے۔
(صحیح مسلم: 631)
🔹 اعضائے وضو کو ایک، دو یا تین مرتبہ دھونا سب ثابت ہے، لیکن اس سے زیادہ دھونا جائز نہیں بلکہ باعثِ گناہ ہے۔
یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ پیغمبر رضی اللہ عنھم کا اکثر عمل تین مرتبہ دھونا تھا اور افضل بھی یہی ہے۔
چند جدید مسائل:
• بیت الخلاء میں وضو کرنا درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
• اگر واش روم میں بیت الخلاء کا حصہ علیحدہ ہو اور وضو والی جگہ علیحدہ ہو تو پھر الگ جگہ پر بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر واش روم میں وضو والا حصہ قضائے حاجت والی جگہ سے متصل (جڑا ہوا) ہو تو پھر بھی بسم اللہ پڑھنا درست ہے۔
• اگر وضو کے دوران میں کسی شخص نے انگوٹھی یا گھڑی پہنی ہوئی ہو تو بازو دھوتے ہوئے انگوٹھی اور گھڑی کے نیچے والے حصے کو ہلا کر جلد کو اچھی طرح سے تر کرنا ضروری ہے، اسی لیے اس مسئلہ میں خوب احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ اگر ناخن کے برابر بھی جلد خشک رہ جائے تو وضو ضائع اور نتیجتاً نماز بھی باطل ہو جاتی ہے۔
• دوران وضو میں اگر کسی کے ہاتھ پر پٹی لگی ہو یا مکمل بازو پر پلستر لگا ہو تو اس کی دو صورتیں بنتی ہیں:
① اگر انگلیوں کے کناروں سے لے کر کہنی سمیت سارے حصے پر پٹی لگی ہوئی ہے تو پھر اس کو تو دھونا ممکن ہی نہیں، تو اس کو ویسے ہی چھوڑ دیں گے اور پانی نہیں لگائیں گے۔
نوٹ: بعض لوگ یہاں یہ بیان کرتے ہیں کہ پٹی پر مسح کر لیا جائے ، لیکن یہ درست نہیں ہے، کیونکہ پٹی پر مسح کرنے کی کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔
② پٹی اگر آدھے بازو پہ ہو اور آدھے پر نہ ہو تو پھر جتنا حصہ پٹی کے بغیر ہے اس کو دھونا چاہیے اور باقی کو ویسے ہی چھوڑ دینا چاہیے۔
• اگر کسی نے پاؤں پر موزے یا جرابیں پہن رکھی ہوں تو شریعت نے ان پر مسح کرنے کی رخصت دی ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو تر (گیلا) کرکے دونوں پاؤں پر پھیر لیا جائے۔
مسح کرنے کے حوالے سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی انسان نے جوتے پہن رکھے ہوں جو ٹخنوں تک ہوں تو ان جوتوں پر بھی مسح کیا جا سکتا ہے،
دلیل: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
تَوَضَّأَ النَّبِيُّ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، وَالنَّعْلَيْنِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
(سنن ابی داؤد: 159)
✍️ ترتیب و تدوین:
یاسر مسعُود بھٹی




