پاکستان کے مقروض ہونے کی وجہ سے حج اور قربانی وغیرہ کا حکم
سوال:
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔۔۔
اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں
اب پوچھنا یہ ہے کہ۔۔
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں
اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔۔؟ کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔
اور ساتھ میں یہ بھی کہ ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔ اور کیا ہم حج کرسکتے ہیں کیونکہ غلام پر حج واجب نہ ہے
منجانب: ایک قرضدار، غریب، مظلوم اور محکوم عام آدمی۔۔ 🙏
جواب:
یہ میسیج کافی وائرل ہو رہا ہے، لیکن یہ سوچ و فکر اور دلیل و برہان پر مبنی رائے سے زیادہ جغت بازی محسوس ہو رہی ہے۔
مقروض پاکستان ہے، پاکستانی نہیں. لہذا ملک پاکستان قربانی نہ کرے، لیکن پاکستانیوں کو قربانی کرنی چاہیے!
اگر ملک پاکستان کے مقروض ہونے کو اہل پاکستان کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر پاکستانیوں سے زکاۃ بھی ساقط ہو جائے گی۔ کیونکہ مقروض نے قرضے کی رقم کو زکاۃ سے منہا کرنا ہوتا ہے۔
بحیثیت مجموعی پوری دنیا خاص نظاموں کی غلام ہے، لیکن اس سے مراد وہ غلامی اور رق نہیں، جس کی وجہ سے شرعی احکامات میں استثناء یا رخصت ملتی ہے۔
اگر حقیقی غلامی مراد لے کر حج ساقط کروانے کا ارادہ ہے تو پھر اپنے آقا تلاش کریں اور اپنی ساری کمائی ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا کریں اور حقیقی غلام کو یہ اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ شور مچائے کہ میں غلام ہوں، اور اگر حقیقی غلام مراد لی جائے تو اللہ تعالی معاف کرے جس لاجیک سے معاشرے کے مرد غلام ہیں، اس🔸 پاکستان کے مقروض ہونے کی وجہ سے حج اور قربانی وغیرہ کا حکم
🔸سوال:
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔۔۔
اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں
اب پوچھنا یہ ہے کہ۔
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں
اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں
اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔۔؟
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔
اور کیا ہم حج کرسکتے ہیں کیونکہ غلام پر حج واجب نہ ہے
منجانب: ایک قرضدار، غریب، مظلوم اور محکوم عام آدمی۔۔🙏
🔸جواب:
یہ میسج کافی وائرل ہو رہا ہے، لیکن یہ سوچ و فکر اور دلیل و برہان پر مبنی رائے سے زیادہ جغت بازی محسوس ہو رہی ہے۔
مقروض پاکستان ہے، پاکستانی نہیں. لہذا ملک پاکستان قربانی نہ کرے، لیکن پاکستانیوں کو قربانی کرنی چاہیے!
اگر ملک پاکستان کے مقروض ہونے کو اہل پاکستان کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر پاکستانیوں سے زکاۃ بھی ساقط ہو جائے گی۔ کیونکہ مقروض نے قرضے کی رقم کو زکاۃ سے منہا کرنا ہوتا ہے۔
بحیثیت مجموعی پوری دنیا خاص نظاموں کی غلام ہے، لیکن اس سے مراد وہ غلامی اور رق نہیں، جس کی وجہ سے شرعی احکامات میں استثناء یا رخصت ملتی ہے۔
اگر حقیقی غلامی مراد لے کر حج ساقط کروانے کا ارادہ ہے تو پھر اپنے آقا تلاش کریں اور اپنی ساری کمائی ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا کریں اور حقیقی غلام کو یہ اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ شور مچائے کہ میں غلام ہوں، اور اگر حقیقی غلام مراد لی جائے تو اللہ تعالی معاف کرے جس لاجیک سے معاشرے کے مرد غلام ہیں، اس معاشرے کی عورتیں لونڈیاں تصور ہوں گی، لہذا اس قسم کی فضول اور واہیات گفتگو سے گریز کرنا چاہیے، جس کی شریعت میں کوئی دلیل ہے نہ عقل اس کی تائید کرتی ہے!
🖋️۔۔۔ فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ معاشرے کی عورتیں لونڈیاں تصور ہوں گی، لہذا اس قسم کی فضول اور واہیات گفتگو سے گریز کرنا چاہیے، جس کی شریعت میں کوئی دلیل ہے نہ عقل اس کی تائید کرتی ہے!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




