تاریخ کے دریچوں سے؛
کشمیر میں “غلامِ فلاں” طرز کے ناموں کی شرعی حیثیت پر علمائے اہل حدیث کے مابین مکالمہ:
کشمیر کی تاریخ میں تحریکِ اہل حدیث ایک ایسی اصلاحی تحریک کے طور پر ابھری جس نے نہ صرف عقیدہ و عمل کی تطہیر کا علَم بلند کیا بلکہ فکری بیداری، دعوتی شعور اور علمی استحکام کی ایک نئی فضا بھی قائم کی۔ اس تحریک کے قافلۂ علم و دعوت میں دو نام نہایت درخشاں نظر آتے ہیں: مولانا عبد الغنی شوپیانی (ف ۱۹۶۵ء) اور مولانا غلام نبی مبارکی (ف ۱۹۷۹)۔ رحمہما اللہ تعالیٰ۔ ان دونوں بزرگوں نے ایک ایسے پُرآشوب دور میں تحریک کی رہنمائی کی جب اہلِ حدیث ہونا خود ایک جرم سمجھا جاتا تھا اور اس نسبت سے وابستہ افراد طرح طرح کی تہمتوں، فتووں اور سماجی مقاطعے کا نشانہ بنتے تھے۔ برصغیر کے دیگر علاقہ جات کی طرح وادئ کشمیر میں بھی تحریک پر ایک مشکل دور گزرا ہے جس میں تحریک اور تحریک سے وابستہ خواص و عوام کے خلاف شدید مخالفت کا بازار گرم تھا۔ کہیں مسجدوں سے اخراج کے فتوے صادر ہو رہے تھے تو کہیں مقدمات و نزاعات کے ذریعے اہلِ حدیث عوام کے حوصلے پست کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ اسی ماحول میں سرینگر کے ایک عالم نے عربی زبان میں “النجوم الشہابیۃ رجوماً للوھابیۃ” کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا، جسے بعد ازاں حاجن کے عالم مولانا صدیق اللہ حاجنی نے کشمیری نظم میں منتقل کیا۔ یہ منظوم تصنیف “ردِ وہابی” کے نام سے معروف ہوئی۔
رسالہ زینتِ طاقِ نسیاں بن چکا تھا کہ اسی اثنا میں کسی مخلص اہلِ حدیث فرد کی نظر سے گزرا تو بدکلامی اور اعتراضات دیکھ کر اس کے دل میں شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی۔ معاملہ اہلِ علم کے سامنے رکھا گیا اور سب کی نظریں تحریک کے دو مردانِ کار، مولانا عبد الغنی شوپیانی اور مولانا غلام نبی مبارکی صاحبان کی جانب اٹھیں۔ مولانا مبارکی نے یہ ذمہ داری مولانا شوپیانی کے سپرد کرتے ہوئے گویا یوں کہا:
“جل لیکھیو رد نامۂ خناس
یُتھ بچن شرکۂ نش عوام الناس”
چنانچہ مولانا عبد الغنی شوپیانی نے “الرطب الجنی في رد هفوات الحاجني” (طبع اول ۱۹۴۹) کے نام سے ایک جامع اور مدلل منظوم جواب تحریر فرمایا جس میں نہ صرف اعتراضات کا تعاقب کیا گیا بلکہ منظوم پیرایۂ اظہار میں علمی وقار اور ادبی شائستگی کا بھی عمدہ نمونہ پیش کیا گیا۔ اسی رسالے میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ وہابیہ “عبد النبی” جیسے ناموں کو کفر و شرک قرار دیتے ہیں۔
ناؤ عبد النبی کرُن چِھ ونان
کفر تَے شرک نجدئے نادان
مولانا عبد الغنی صاحب شوپیانی نے جواب میں مشاہیر علمائے اسلام کی تصریحات سے ثابت کیا کہ ایسے ناموں میں شرک کا شائبہ ہے اور ان سے گریز چاہئے۔ البتہ مولانا شوپیانی کا یہ جواب مولانا مبارکی صاحب پر شاق و گراں گذرا اور انہوں ایسے ناموں کے جواز پر ایک رسالہ “غلام نبی” تیار کیا۔ مولانا عبد الغنی شوپیانی نے اس رسالہ کے جواب میں رسالہ “کلامِ نبی بجواب غلامِ نبی ” لکھا اور یوں ایک مکالمہ اور بحث شروع ہوگئی۔ مولانا شوپیانی نے اپنے جوابی رسالے کی تمہید میں اس طرف یوں اشارہ کیا ہے، “۔۔۔۔۔سلف صالحین میں ایسے ناموں کا مطلق رواج نہ تھا، ایسے ناموں میں بدعت کا احتمال بھی ہے اور شرک کا بھی۔ کتاب چھپ چکنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ بعض افراد بلکہ اعیانِ اہل حدیث پر ناگوار گزرا ہے کیونکہ ان کے ایسے ہی نام ہیں جو ان کو اپنے باپ دادا کے رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔” صوفی احمد مسلم صاحب نے بھی اس رساکشی کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں ،”قبل الزوال اور بعد الزوال کی مخالفانہ تحریروں اور تقریروں نے اس چھوٹی سی جماعت کو تفرقہ اور انتشار کا شکار بنایا۔ اس کشمکش کے اثرات ابھی باقی ہی تھے کہ ایک مسئلہ مزید اختلاف کا سبب بنا۔ یہ مسئلہ غلام نبی، غلام رسول ہمچو قسم کے نام کے جواز و عدم جواز کا تھا۔ اس پر بھی کئی برس تک کافی گرما گرمی رہی۔ مولانا مبارکی نے “غلام نبی” کے نام سے ایسے ناموں کے جواز پر اور مولانا عبد الغنی نے “کلام نبی” کے نام سے عدم جواز پر رسالہ شائع کیا۔ یہ دونوں رسالے بھی علمی مباحث کا ایک اچھا خاصہ نمونہ ہیں۔”
مولانا مبارکی صاحب کا بنیادی مقدمہ اس بات پر کھڑا تھا کہ لفظ “غلام” کے معنی “عبد” کے نہیں بلکہ فرزند، جوان اور خادم کے ہیں، اس لیے ایسے ناموں سے شرک کا شائبہ جاتا رہتا ہے۔
مولانا عبد الغنی صاحب کی رائے یہ تھی کہ کم از کم اردو اور فارسی میں لفظ “غلام” بمعنی “عبد” ہی مستعمل ہے اور اس سے فرزند، خادم اور خاکسار کے معنی کشید کرنا مشکل ہے۔ عربی میں اگرچہ “غلام” کے معنی فرزند اور خادم کے آتے ہیں لیکن یہاں ناموں کی ترکیب فارسی ہے اور ان پر عربی معانی منطبق کرنا درست نہ ہوگا۔ مولانا شوپیانی لکھتے ہیں، “۔۔۔۔کتبِ شروح اور تراجم میں کئی مقامات پر غلام کی تفسیر عبد سے کی گئی اور عبد کا ترجمہ غلام سے ہوا تو میں سمجھ گیا کہ دونوں کا مطلب اور معنی ایک ہی ہے خاصکر فارسی اور اردو زبان میں”۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں، “۔۔۔۔اوپر کی عبارت سے واضح ہوگیا کہ عربی میں غلام مضاف و منسوب کے دو ہی معنی ہوسکتے ہیں- بندہ یا بیٹا۔ غلامك أي عبدك او صبيك (تحفة الأحوذي)۔ پس تیسری کوئی ایسی صورت ثابت نہیں جس میں غلام کو مضاف بنا کر مضاف الیہ کی تعظیم پائی جاتی ہو۔ رہا فارسی اور اردو تو اس میں لفظ غلام سوائے بندہ کسی اور معنی میں آتا ہی نہیں۔ اگر کسی نے نوکر کے معنی کئے ہیں تو صرف اپنے تخمین اور قیاس سے کیا ہے ورنہ کثرتِ استعمال لفظِ “غلام” بندہ کے معنی میں ہی پائی جاتی ہے۔۔۔۔”
بہرحال رسالہ “کلامِ نبی” چھپنے کے بعد مولانا مبارکی صاحب نے خاموشی اختیار کی اور یہ مباحثہ تحریراً آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں طرف اس بحث میں نہ دشنام تھی، نہ تحقیر کا شور بلکہ دلیل، تحقیق اور علمی اسلوب کی پاسداری نمایاں تھی۔ مولانا عبد الغنی صاحب شوپیانی کے موقف کی تائید شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ صاحب رحمانی مبارکپوی (صاحبِ مرعاۃ المفاتیح) اور مولانا ابو القاسم سیف بنارسی جیسے کبار علمائے اہل حدیث نے بھی کی۔

سہیل خالق

یہ بھی پڑھیں: بھینس کی قربانی کے جواز کے علماء کرام