سوال 7161

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جانوروں کے لیے جو اگایا گیا ہو کیا اس چارے پر عشر ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مسئلے پر پہلے بھی ایک دفعہ گفتگو ہوئی تھی، اور غالباً مفتی عباس سعیدی رحمہ اللہ کے حوالے سے بات ہوئی تھی۔ خلاصہ یہ تھا کہ اگر چارہ صرف جانوروں کو کھلانے کے لیے لگایا گیا ہو اور اسے بیچا نہ جاتا ہو، تو اس پر عشر نہیں ہے۔
البتہ اگر اسے بیچا جاتا ہو، تو پھر وہ مالِ تجارت کے طور پر شمار ہو سکتا ہے، جس پر زکوٰۃ آئے گی۔ یا یہ صورت بھی درست ہے کہ پیداوار ہونے کی وجہ سے پہلے عشر یا نصف العشر ادا کر دیا جائے، کیونکہ زرعی پیداوار میں اصل حکم عشر یا نصف العشر ہی کا ہوتا ہے۔
لہذا اصل چیز مقصد کو دیکھنا ہے:
اگر صرف جانور پالنا اور انہیں چارہ کھلانا مقصود ہے، تو پھر عشر نہیں۔
اور اگر بیچنا بھی مقصود ہے، تو پھر حکم مختلف ہوگا اور عشر یا زکوٰۃ کا اعتبار کیا جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ