انسان اور نسیان
سورہ رحمن کی تلاوت شروع کی تو تدبر کرتے ہوئے ایک لفظ پر بصارت ٹھہر گئی ۔
وہ لفظ تھا “انسان”
سورۃ رحمن کی تیسری آیت
” خَلَقَ الاِنسَان”۔
انسان لفظ “نسیان” سے بنا ہے۔
اور نسیان “ن،س،ی” یعنی “نسی”سے جس کا مطلب ہے بھول جانا (Forgetfulness )۔
جیسا کہ بعض اہل لغت نے انسان کی تعریف ان الفاظ سے کی ہے:
سُمِّيَ الإِنسَانُ إِنسَانًا لِكَثْرَةِ نِسْيَانِهِ
“انسان کو انسان اس لیے کہا گیا کہ وہ بہت زیادہ بھولنے والا ہے”۔
اس بات کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔
ترجمہ:” اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی”۔ (سورہ طحہٰ 115)
اللہ نے انسان کو “بھول جانے والا” بنایا ہے یعنی انسان کی فطرت ایسی رکھی کہ وہ بار بار بھول جاتا ہے۔
اور اس سورت کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ اپنے “رحمن” ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک طرح کی رحمت ہی ہے کہ اُس نے انسان کو “بھول جانے والا” تخلیق کیا ہے۔
اگر انسان سب کچھ یاد رکھنے والا ہوتا تو ہم ماضی کی ہر بات کو ذہن میں اٹھائے پھرتے، ہر ہر بات یاد رکھے ہوئے زندگی کے شب و روز گزارتے۔
یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں یاد رہ چکی چند باتیں ہی اتنا بوجھل کردیتی ہیں اور اگر ہماری میموری ایسی بنائی گئی ہوتی کہ ہمیں کچھ بھی نہ بھولتا تو ہم اتنا بوجھ اٹھا کر کیسے چلتے پھرتے؟
یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اُس نے ہماری میموری ایسے ڈیزائن کی ہے کہ غیر ضروری چیزیں تو ذہن سے نکلتی ہی ہیں، بعض اوقات ہم وہ وقت، وہ تکلیف بھی بھول جاتے ہیں جس سے ہمیں بے حد دکھ پہنچا ہوتا ہے۔
لیکن اگر ایک ایک بات یاد رہتی تو ہم اپنے ہی ذہن کے شور سے پاگل ہوجاتے اور ہمیں ہر وہ گونج سنائی دیتی، جس کے لئے ہم دعا کرتے کہ کاش ہم یہ سب بھول جائیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھول جانے والا feature انسان میں آٹومیٹک ہی fit کردیا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ وہ “رحمن” ہے اور وہ اپنی تخلیق کی ہر کمزوری کو بہترین جانتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ انسان اپنی ہی باتوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔
اسی لئے اللہ رب العزت نے اس سورت میں بارہا یہ بات دہرائی کہ
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾
“تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے” ؟ ۔
✍️ کامران الہی ظہیر




