جلتے ہوئے گھر اور بجھتے ہوئے ضمیر

ابھی سوشل میڈیا پر ایک سانحہ زیر گردش ہے،یہ واقعہ ایک خبر نہیں بلکہ معاشرے کے ماتھے پر لکھی ہوئی وہ سیاہ سطر ہے جسے دیکھ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔
جیک آباد میں پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے کے انتقام میں درجنوں نہیں، بلکہ ایک سو سے زائد گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا،یہ محض غصے یا غیرت کا اظہار نہیں، بلکہ اجتماعی سفاکیت، قبائلی جنون، اخلاقی دیوالیہ پن اور قانون کی بے بسی کا ایسا خوفناک منظر ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔
کبھی کسی گاؤں میں جرگہ کے نام پر ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، کبھی ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر بیٹیوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں، کبھی پسند کی شادی کرنے والوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، اور کبھی پورے کے پورے خاندانوں کو اجتماعی انتقام کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ یہ کون سا معاشرہ تشکیل پا رہا ہے، جہاں ایک انسان کی ذاتی پسند پر بستیاں خاکستر کر دی جائیں؟
جہاں عدالتوں سے پہلے بندوقیں اور جرگے فیصلے سنائیں؟
جہاں قانون کتابوں اور وکیلوں کی فائلوں میں تو زندہ ہو مگر زمین پر قبائلی انا حاکم ہو؟
افسوس یہ ہے کہ ہم نے من حیث القوم غیرت کے مفہوم کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ مجھے تو یاد پڑتا کہ غیرت کبھی ظلم کا نام نہیں تھی، غیرت تو اپنی عورتوں کی عزت، اپنے کردار کی پاکیزگی، اپنی زبان کی شرافت اور اپنے ہاتھوں کو ظلم سے روکنے کا نام تھا۔
مگر اب غیرت کے نام پر گھروں کو جلانا، لاشیں گرانا، بچوں کو یتیم کرنا اور عورتوں کو بیوہ کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
یہ آگ صرف گھروں کو نہیں جلا رہی، یہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں نفرت کے الاؤ روشن کر رہی ہے۔ جو بچے آج اپنے جلتے ہوئے آشیانے دیکھ رہے ہیں، کل وہی انتقام، نفرت اور بغاوت کے پیکر بن کر معاشرے کے سامنے کھڑے ہوتے دکھائی دیں گے۔ یوں ایک ظلم کئی نئے ظلموں کو جنم دیتا ہے۔
اج والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اولاد غلام نہیں ہوتی،دین اسلام نے ان کے حقوق کا مکمل ایک چیپٹر رکھا ہے ان کے حقوق کا تحفظ کریں،ان کی نیک تربیت کریں،ان کے اندر شعور پیدا کریں، ان کے اچھے دوست بن کر مکالمہ کیا کریں، مگر ان کی زندگیوں کو اپنی انا کی بھینٹ مت چڑھائیں۔
کیوں کہ محبت، پسند اور نکاح جیسے معاملات میں ضد، جبر اور قبائلی تفاخر اکثر ایسے سانحات کو جنم دیتے ہیں جن کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔
آج کی اولاد کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ آزادی کا مطلب بغاوت نہیں، بلکہ حکمت، صبر اور احترام کے ساتھ فیصلے کرنا ہے۔ خاندان کو روند کر بنائی گئی خوشیاں اکثر عمر بھر کے زخم چھوڑ جاتی ہیں لہذا اپنی پسند کو اپنے والدین کے سامنے ادب واحترام سے پیش کریں اور اللہ سے خیر کی دعائیں بھی کریں تاکہ معاملات میں ہمیشہ خیر ہی ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے نام بھی ایک سوال ہے کہ آخر کب تک ہم تماشائی بنے رہیں گے؟
کب تک جلتے ہوئے گھروں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے رہیں گے؟
کب تک ظلم کو رواج اور بربریت کو روایت کہہ کر معاف کرتے رہیں گے؟
آج ہمیں من حیث القوم اس طرح کے رویوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھانا ہو گا کیوں کہ ان رویوں کی عقل تائید کرتی نہ دین اسلام میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے ۔
آخر میں اتنا کہوں گا کہ موجودہ حکومت اگر واقعی ریاست کہلانے کی مستحق ہے تو اسے محض بیانات، مذمتی ٹویٹس اور رسمی نوٹسز سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کیوں کہ جن ایوانوں میں اقتدار کی عیاشیاں، پروٹوکول، مفادات کی ترامیم اور سیاسی تماشے ختم نہیں ہوتے، وہاں شاید کسی جلتے ہوئے غریب کے گھر کی تپش محسوس نہیں کی جاتی۔ مگر یاد رہے جب ریاست انصاف فراہم نہیں کرتی تو پھر جنگل کا قانون جنم لیتا ہے اور جہاں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے، وہاں تہذیب صرف کتابوں میں باقی رہ جاتی ہے۔یہ ملک اس وقت صرف معاشی بحران کا شکار نہیں، بلکہ اخلاقی اور فکری زوال کی ایک ہولناک کھائی کے کنارے کھڑا ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویے، اپنی تربیت، اپنے قبائلی تعصبات اور اپنی خاموشی کو نہ بدلا تو آنے والے دنوں میں صرف گھر نہیں جلیں گے، انسانیت بھی راکھ ہو جائے گی۔

✍️ کامران الہی ظہیر