سوال

میرا ایک سوال ہے میرا بھائی پنڈی سے گوجرانوالہ تک اپنے آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کے لیے سفر کر رہا ہے، یہ آرمی سلیکشن کا امتحان ہے۔ آپ کو وہاں 4 دن رہنا ہے اور پانچویں دن وہاں سے جانا ہے۔ یہ ایک بہت سخت عمل ہے کیونکہ وہ آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر جانچتے ہیں۔  پوچھنا یہ تھا کہ کیا تین دن کا روزہ چھوڑنا جائز ہے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

یہ برخوردار جو ISSB ٹیسٹ کے لیے سفر کر رہا ہے، وہاں اس نے چار دن قیام کرنا ہے اور پانچویں دن واپسی ہے۔ یہ کتنا ہی سخت عمل کیوں نہ ہو، لیکن محض سختی یا مشقت روزہ چھوڑنے کا سبب نہیں بنتی۔

شریعت میں روزہ چھوڑنے کی رخصت سفر یا مرض کی حالت میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 “وَمَنۡ کَانَ مَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ”. [البقرۃ: 185]

اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رخصت یا تو سفر کی وجہ سے ہے یا مرض کی وجہ سے۔ اس کے علاوہ کسی عام مشقت، امتحان، ڈیوٹی وغیرہ کو روزہ چھوڑنے کا سبب قرار نہیں دیا گیا۔

مذکورہ صورت میں شرعی سفر نہیں بنتا، اس لیے کہ وہاں چار دن قیام کرنا ہے۔ جو شخص کسی جگہ چار دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرے وہ مقیم کے حکم میں ہوتا ہے، اس لیے مقیم کو افطار کی رخصت نہیں ہوتی، رخصت کا تعلق سفر کیساتھ ہے۔ اور مرض بھی نہیں ہے، بلکہ صرف امتحان اور جانچ کا مرحلہ ہے، خواہ وہ کتنا ہی کڑا کیوں نہ ہو۔ لہٰذا ہمارے رجحان کے مطابق اس بنیاد پر تین دن کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔

البتہ اگر دورانِ امتحان واقعی کوئی ایسی حالت پیدا ہو جائے کہ روزہ رکھنے سے شدید نقصان کا اندیشہ ہو تو اس وقت مرض کی بنا پر افطار کی اجازت ہوگی، اور بعد میں ان دنوں کی قضا لازم آئے گی۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ