سوال

کیا حجامہ کروانے کے سنت دن قمری مہینے کی 17، 19 اور 21 تاریخ ہیں؟

اور کیا صرف انہی دنوں میں حجامہ کروانا چاہیے، یا اگر ضرورت ہو تو دوسرے دنوں میں بھی کروایا جا سکتا ہے؟ مہربانی فرما کر قرآن و صحیح حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

حجامہ، جسے ہم ‘کپنگ’ یا ‘سنگھی لگانا’ بھی کہتے ہیں، ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا پسندیدہ علاج ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“الشِّفاءُ في ثَلاثةٍ: شَربةِ عَسَلٍ، وشَرطةِ مِحجَمٍ، وكَيَّةِ نارٍ، وأنهى أُمَّتي عَنِ الكَيِّ”.

تین چیزوں میں شفاء ہے: شہد پینا، حجامہ کروانا اور آگ سے داغناۤ، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري:5680]

جہاں تک حجامہ کے لیے چاند کی 17، 19 اور 21 تاریخوں کا تعلق ہے، تو انہیں افضل قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ اہل علم نے ان روایات کی اسناد پر بات کی ہے اور انہیں کمزور کہا ہے، لیکن اکثر محدثین نے ان روایات کو ‘حسن’ قرار دیا ہے۔

اور اطباء نے بھی ان تاریخوں میں حجامہ کی تائید کی ہے اور اس قسم کی توجیہ کی ہے کہ ان تاریخوں میں بلڈپریشر ہائی ہوتا ہے اور حجامہ لگوانے سے وہ اعتدال میں آ جاتا ہے۔

لہذا اگر آپ کے پاس انتخاب کا موقع ہو تو ان دنوں میں کروانا بہت بہتر اور افضل ہے۔

تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان ایام کے علاوہ حجامہ نہیں ہو سکتا۔ آپ کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر حجامہ کروا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی بہترین مثال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عمل ہے جب انہوں نے حج کے سفر کے دوران احرام کی حالت میں مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر حجامہ کروایا۔ وہ ان مخصوص تاریخوں میں سے کوئی تاریخ نہیں تھی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے تحت کسی بھی دن حجامہ کروانا بالکل درست ہے۔

حجامہ بنیادی طور پر ایک علاج ہے، اس لیے اگر کسی کو تکلیف ہو یا اشد ضرورت ہو، تو وہ مہینے کی کسی بھی تاریخ کو حجامہ کروا سکتا ہے، یہ ہر حال میں جائز اور مفید ہے۔

رہی بات ان دنوں یا تاریخوں کی جن میں حجامہ سے منع کیا گیا ہے، تو ان کے بارے میں درست بات یہی ہے کہ وہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان پر پابندی کی کوئی ٹھوس شرعی دلیل نہیں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ