سوال
بعض برادریوں میں رواج ہے کہ لڑکی کی شادی کے موقع پر باپ ایک رقم وصول کرتا ہے اور وہ رقم بیٹی کو نہیں دیتا بلکہ خود رکھ لیتا ہے۔ کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
نکاح میں مقرر کیا جانے والا مہر شرعاً خالصتاً عورت کا حق اور اس کی ملکیت ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے مہر کو بیوی کا مالی حق قرار دیا ہے، لہٰذا اصل قاعدہ یہ ہے کہ اس میں کسی دوسرے کو شریک کرنا درست نہیں۔
اگر نکاح کے وقت باپ اپنے لیے کسی رقم کا مطالبہ کرے جس کے نتیجے میں بیٹی کے مہر میں کمی واقع ہو، تو یہ صورت ناجائز اور ظلم کی ایک شکل ہے؛ کیونکہ اس سے عورت کے حق میں کمی آتی ہے۔ اسی بنا پر امام شافعی رحمہ اللہ اور بعض دیگر اہلِ علم نے تصریح فرمائی ہے کہ ایسی شرط فاسد ہے اور عورت کو مہرِ مثل دیا جائے گا تاکہ اس کا حق مکمل طور پر ادا ہو۔
البتہ بعض اہلِ علم، مثلاً امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ، نے باپ کے لیے بعض صورتوں میں گنجائش ذکر کی ہے، اور حدیث: “أنت ومالك لأبيك”.
”تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں“ ۔
[سنن ابن ماجة: 2292، وصححه الألباني في:التعليقات الحسان:411]
اور حدیث:
“إنَّ أطيبَ ما أكَل الرَّجُلُ مِن كَسْبِه، وإنَّ ولَدَه مِن كَسْبِه”.
انسان کے لیے پاکیزہ ترین کمائی وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے کمائی ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی ہاتھ کی کمائی ہے۔ [سنن النسائي: 4451، سنن أبي داود: 3528، وصححه الألباني في إرواء الغليل:1626]
جیسی احادیث سے استدلال کیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے:
{قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ}
اس نے (موسیٰ ؑ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ان شاء اللہ تم مجھے نیک آدمی پاؤ گے۔ [القصص: 27]
اس قسم کے دلائل کی روشنی میں بعض اہل علم نے اس کے جواز کا موقف اپنایا ہے۔
تمام دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نکاح کے بدلے میں رقم وصول نہ کرنا بہتر ہے، البتہ اگر عورت کا ولی فقیر اور مستحق ہو تو وہ درج ذیل امور کا خیال رکھتے ہوئے رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے:
1۔ ولی کا رقم طلب کرنا اس کی بیٹی کے لیے تکلیف یا حرج کا باعث نہ ہو۔
2۔ بیٹی کے حقِ مہر میں کمی واقع نہ ہو۔
3۔ اسے کاروبار اور ذاتی نفع اندوزی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ




