سوال
ایک گائے کے پیدائشی طور پہ دانت نہیں نکلے اب وہ مکمل تیار ہو چکی ہے، اس کی داڑھیں موجود ہیں لیکن دانت نہیں ہیں۔
مالک اب اس گائے کی قربانی کرنا چاہتا ہے حصہ ڈالنے والے اعتراض کرتے ہیں کے اس کے تو دانت ہی نہیں ہیں تو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ قربانی کے لائق ہے یا نہیں؟
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
قربانی کے جانور میں جو عیوب مانعِ صحت ہیں، شریعتِ مطہرہ نے ان کو واضح طور پر بیان فرما دیا ہے۔ جن عیوب کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے، وہی عیوب قربانی کے جواز میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن امور کے بارے میں شریعت خاموش ہے، اصل قاعدہ یہ ہے کہ وہ جواز پر محمول ہوں گے، الا یہ کہ وہ کسی منصوص عیب کے قائم مقام ہوں۔
لہٰذا اگر کسی جانور کے دانت ظاہر نہ ہوئے ہوں، مگر یہ بات ثابت ہو کہ اس کی عمر شرعاً مکمل ہو چکی ہے، جیسا کہ گائے نے دو سال مکمل کر لیے ہوں اور تیسرا سال شروع ہو چکا ہو تو محض دانتوں کا ظاہر نہ ہونا قربانی سے مانع نہیں ہوگا؛ کیونکہ دانتوں کا نہ آنا بذاتِ خود ان عیوب میں شامل نہیں جن کو شریعت نے قربانی کے لیے ناجائز قرار دیا ہے۔
البتہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بعض لوگ جان بوجھ کر دانت توڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے پیدائشی طور پہ ہی دانت نہیں نکلے، ایسے جانور کی شرعی طور پر قربانی درست نہ ہو گی، لہذا اس کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ




