“بھینس کی قربانی کے جواز کے علماء کرام”
علمائے اہلِ حدیث کو بھینس کی قربانی کے مسئلہ میں اتنی سختی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اس کی وجہ یہ کہ ہمارے متعدد اسلاف جواز کے قائل تھے جن میں سرِفہرست امام اہل السنہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللّٰہ کا نام آتا ہے اسی طرح شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ اور ان کے ارشد تلامذہ حافظ ابنِ قیم الجوزیہ،امام ابنِ کثیر،امام قرطبی،امام ابنِ حزم،امام نووی،امام ابنِ منذر،امام ابنِ قدامہ،امام حافظ ابنِ قطان فاسی،شیخ ابنِ باز،شیخ صالح العثیمین،شیخ صالح الفوزان، شیخ ابنِ عبدالرحمٰن الجبرین،شیخ عبدالرحمٰن سحیم،شیخ عبدالمحسن العباد،
برصغیر کے علماء کرام میں سے رئیس المناظرین مولانا ثناء اللہ امرتسری، شیخ الحدیث عبیداللہ رحمانی مبارکپوری،مولانا اسماعیل سلفی،مولانا مفتی عبدالرحمٰن کیلانی،محدث العصر حافظ زبیر علی زئی،حافظ عبدالمنان نورپوری،حافظ محمد گوندلوی رحمھم اللّٰہ
اور اسی طرح علمائے احناف میں سے علامہ عینی حنفی،علامہ ابن بزاز کردری حنفی،امام کاسانی،ابن عابدین شامی،امام مرغینانی رحمھم اللّٰہ۔
“بھینس کی قربانی کے جواز کے علماء کرام”
شیخ الشیوخ سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ،
شیخ العرب والعجم حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ، استاذ العلماء حافظ محمد عبداللہ محدث بڈھیمالوی رحمہ اللہ،
شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود جلال پوری رحمہ اللہ،
شیخ الحدیث حضرت حافظ احمداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ،
شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ،
شہیدِ عالمِ اسلام علامہ احسان الہی ظہیر شھید رحمہ اللہ
شیخ الحدیث رفیق اثری رحمہ اللہ جلال پور،
شیخ الحدیث عبدالحمید ہزاروی رحمہ اللہ
اور دیگر جید ،محقق اور ثقہ اہل علم(جنھوں نے اپنی تمام تر زندگیاں قرآن و حدیث، فقہ ،سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھاتےاور فتاوی دیتے ہوئے بسر کی )بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل تھے.
اور حافظ محمد عبداللہ محدث بڈھیمالوی رحمہ اللہ، حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ بھینس اور کٹے کی خود بھی قربانی کرتے رہے ہیں.
حافظ عبد العزیز علوی رحمہ اللّٰہ شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ فیصل آباد، شیخ الحدیث مفسر قرآن حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰہ،
زندہ شیوخ الحدیث میں سے
شیخ الحدیث فضیلة الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللّٰہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ ثناء اللہ زاھدی حفظہ اللّٰہ
شیخ الحدیث غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ،شیخ حافظ ابویحییٰ نور پوری حفظہ اللّٰہ،شیخ الحدیث مفتی عبدالرحمن عابد حفظہ اللہ،شیخ الحدیث مفتی عبدالولی خان صاحب حفظہ اللّٰہ
اور دیگر شیوخ بھی اس کے قائل ہیں.
نوٹ :
بھینس اور کٹے کی قربانی بالإجماع جائز ہے۔ عدم جواز کا مؤقف ماضی قریب میں ہی سامنے آیا ہے۔ سلف میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔۔۔
✍️ یاسر مسعود بھٹی
یہ بھی پڑھیں: اہل حدیث کے جلسوں کی حالت




