سوال 7657

السلام علیکم!
سوال ہے اگر کسی شخص سے کسی قسم کا لین دین کیا جائے تو کیا اس لین کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کا ذریعہ آمدنی حلال ہے یا جائز؟ اگر ضروری ہے تو کس حد تک؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
1 : اگر اس کی آمدنی میں حرام اور حلال دونوں شامل ہیں، اور آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کو دیا جانے والا مال عین حرام مال ہے، تو محض اس شخص کی مجموعی آمدنی مشتبہ یا مخلوط ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ جائز چیز کا لین دین ناجائز نہیں ہوجاتا
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران پراگندہ بال، لمبے قد والا ایک مشرک آیا اور وہ کچھ بکریاں ہانک کر لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ بکریاں بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ دینے کے لیے ہیں؟“ (راوی کو شک ہے کہ عطیہ یا ہبہ کا لفظ کہا)۔ اس نے کہا: کچھ نہیں، بلکہ فروخت کے لیے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی۔
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 2216]
2 : اگر یقین ہو کہ یہی مال حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہے
مثلاً کسی کا چوری کیا ہوا مال، غصب شدہ مال، خیانت کی رقم، یا کسی مخصوص شخص کا چھینا ہوا مال ہے، تو اسے لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ مال حقیقتاً اس دینے والے کی ملکیت ہی نہیں

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

اور گناہ اور زیادتی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو
(سورۃ المائدہ آیت نمبر : 2)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں

إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ شَيْئًا وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَرِقَةٌ فَقَدْ شَارَکَه

ایک شخص دوسرے سے جانتے بوجھتے چوری کی چیز خریدے، تو گویا وہ بھی چوری میں شریک ہو گیا
[جزء في مسائل عن أبي عبد الله أحمد بن حنبل برواية البغوي: 53]
3 : اگر اس کی کمائی کا ذریعہ حرام ہے لیکن مال کی ملکیت اس کی ہے، تو پھر بھی اس سے تجارت کی جاسکتی ہے، صرف اس شخص کے حرام کمائی کرنے سے آپ کے ساتھ ہر جائز معاملہ خود بخود حرام یا باطل نہیں ہوجاتا

أَنَّ النَّبِيَّ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ

نبی ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار پر غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھ دی
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 2200)
مثلاً : سودی کاروبار کرنے والے شخص سے جائز اشیاء کی خرید و فروخت اور تجارتی لین دین کرنا جائز ہے، جب تک یہ یقین یا پتا نہ ہو کہ جو مال آپ لے رہے ہیں وہ بعینہ سود کی رقم یا حرام مال ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ