سوال (6288)
کیا مسجد میں چندہ مانگنا یا کسی چندہ کے لیے اپیل کرنا جائز ہے؟
جواب
شرعاً منع نہیں ہے، پہلے تمام حاجتیں اور ضرورتیں مسجد میں پوری ہوتی تھی، فقہاء کے اقوال اور انتظامی امور کی وجہ سے منع کرتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
یہ مساجد میں اپیل کرنا، اس میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ چندے وغیرہ کی اپیل کرنا، مانگنا۔ تو باقی جو اپیل کی جا رہی ہے تو اس کو پرکھنا ہے تو وہ الگ بات ہے۔ باقی اپیل کرنا مسجد میں کوئی منع نہیں ہے۔ کوئی حرج نہیں، واللہ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ
قرآن وحدیث کی ادلہ کی روشنی میں مسجد کے بنانے کا مقصد واضح ہے۔
اسی طرح مسجد میں غیر ضروری اور بلا مقصد شرعی آواز بلند کرنا آداب مسجد کے منافی اور مذموم عمل ہے۔
خاص طور پر نماز پڑھنے والے کے پاس آواز بلند کرنا حتی کہ قرآن کریم کی تلاوت تک ممنوع ہے۔
تاہم کسی اہم مقصد و ضرورت کے لئے مسجد میں صدقہ وانفاق کی ترغیب دینا جائز ہے۔
جیسا کہ قبیلہ مضر کے نہایت ضرورت مند لوگوں کے لئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مدد و تعاون کرنے پر ابھارا اور ترغیب دی۔
دیکھیے صحیح مسلم :(1017)ﺑﺎﺏ اﻟﺤﺚ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺪﻗﺔ ﻭﻟﻮ ﺑﺸﻖ ﺗﻤﺮﺓ، ﺃﻭ ﻛﻠﻤﺔ ﻃﻴﺒﺔ ﻭﺃﻧﻬﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ
یہ عمل مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے بعد ہوا ۔
اسی طرح صحیح مسلم کی ایک اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں لوگوں کو چاہیں وہ خواتین ہی ہوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
دیکھیے صحیح مسلم :(1000)
اسی حدیث کے دوسرے طریق کے الفاظ ہیں:
ﻛﻨﺖ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻓﺮﺁﻧﻲ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﺗﺼﺪﻗﻦ، ﻭﻟﻮ ﻣﻦ ﺣﻠﻴﻜﻦ
مسند أحمد کے الفاظ ہیں:
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، اﻧﺼﺮﻑ ﻣﻦ اﻟﺼﺒﺢ ﻳﻮﻣﺎ ﻓﺄﺗﻰ اﻟﻨﺴﺎء ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻓﻮﻗﻒ ﻋﻠﻴﻬﻦ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﻣﻌﺸﺮ اﻟﻨﺴﺎء۔۔۔۔۔۔۔۔ﻓﺘﻘﺮﺑﻦ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﻣﺎ اﺳﺘﻄﻌﺘﻦ
مسند أحمد بن حنبل :(8862) سنده حسن لذاته
یہ احادیث دلیل ہیں کہ بوقت ضرورت مسجد میں لوگوں کو انفاق وصدقہ کی ترغیب دی جا سکتی ہے چاہے وہ مسجد ومدرسہ کے لئے ہو یا کسی ضرورت مند مسکین طبقہ کے لئے۔
البتہ ہمارے ہاں جو رواج ہے کہ گھنٹوں کے حساب سے وقفہ سے اعلان کرتے رہنا تو طریقہ محمود معلوم نہیں ہوتا ہے۔
لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے اعلانات کی ضرورت ہی پیش نہ آنے دیں اور مساجد ومدارس کے ساتھ بروقت دل کھول کر تعاون کر دیا کریں۔ والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




