شیخ الاسلام، فاتحِ قادیان مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کامختصر تعارف

برصغیر کی دینی و علمی تاریخ میں مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ مفسرِ قرآن، محدث، فقیہ، مناظر، خطیب، صحافی اور داعی کی حیثیت سے معروف ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسلام کی دعوت، قرآن و سنت کی تعلیم، باطل نظریات کے علمی رد اور مسلمانوں کی دینی و اصلاحی رہنمائی میں صرف کیا۔ بالخصوص فتنہ قادیانیت کے مقابلے میں آپ کی جدوجہد نے آپ کو ’’فاتحِ قادیان‘‘ کے لقب سے شہرت عطا کی۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کا مذہبی و فکری ماحول مختلف مناظرانہ تحریکوں اور مذہبی اختلافات سے متاثر تھا۔ عیسائی مشنری سرگرمیاں، آریہ سماج کی تبلیغ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے مسلمانوں کے علمی حلقوں میں اہم موضوعات بنے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے قلم، زبان، تدریس، صحافت اور مناظرے کے ذریعے اسلامی عقائد کا دفاع کیا۔ آپ کی جدوجہد کا نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ نے اپنے موقف کی تائید میں علمی استدلال اور تحریری مباحث کو بنیادی اہمیت دی۔

خاندانی پس منظر، ولادت اور ابتدائی حالات:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے آباؤ اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا اور وہ کشمیری برہمنوں کے معروف ’’منٹو‘‘ خاندان سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ آپ کا آبائی وطن ریاستِ کشمیر کا علاقہ ڈور بیان کیا جاتا ہے، جو تحصیل اسلام آباد، موجودہ اننت ناگ، کے علاقے میں واقع ہے۔ خاندانی روایات کے مطابق، آپ کے آباؤ اجداد نے تقریباً چودھویں صدی عیسوی میں سلطان زین العابدین شاہِ کشمیر کے عہد میں اسلام قبول کیا تھا۔ آپ کے والدِ محترم شیخ خضر جو اور تایا اکرم جو پشمینے کی تجارت کرتے تھے۔ ڈوگرہ راجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں پیش آنے والے حالات اور معاشی مشکلات کے باعث یہ خاندان تقریباً 1860ء میں کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب کے تاریخی شہر امرتسر میں آباد ہو گیا۔مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی ولادت جون 1868ء، مطابق 1287ھ، میں امرتسر میں ہوئی۔ ابھی آپ کی عمر تقریباً سات برس تھی کہ والدِ محترم کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد تایا اکرم جو اور بڑے بھائی محمد ابراہیم نے آپ کی کفالت کی۔ بڑے بھائی نے آپ کو کپڑوں کی رفوگری کا ہنر سکھایا، جس کے ذریعے دونوں بھائی روزی کماتے تھے۔ ابھی آپ کی عمر چودہ برس ہوئی تھی کہ والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں۔

زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ:
کم عمری ہی میں والدین کی وفات اور معاشی ذمہ داریوں نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ آپ رفوگری کے کام میں مصروف تھے کہ ایک بزرگ عالم اپنا قیمتی چوغا رفو کروانے لائے۔ دورانِ گفتگو وہ آپ کی ذہانت، فطانت اور برجستہ جوابات سے متاثر ہوئے اور آپ کو نصیحت کی:

’’میاں صاحبزادے! علم حاصل کرو، تمہارا دماغ سلجھا ہوا ہے۔ اگر نہ پڑھو گے تو اپنے نفس پر ظلم کرو گے۔‘‘

اس نصیحت نے آپ کے دل میں حصولِ علم کا شوق بیدار کیا۔ چنانچہ آپ نے معاشی ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ یہی فیصلہ آگے چل کر آپ کی زندگی کا رخ بدلنے کا سبب بنا اور آپ ایک معروف عالم، مفسر، مناظر اور صحافی کی حیثیت سے سامنے آئے۔

تعلیمی اسفار اور سندِ فراغت:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے مختلف علمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ آپ کے تعلیمی سفر میں امرتسر، وزیر آباد، دہلی، سہارنپور، دیوبند اور کان پور کے نام نمایاں ہیں۔ ان اسفار کے دوران آپ نے متعدد اساتذہ سے استفادہ کیا اور دینی علوم کے ساتھ عربی زبان، نحو، منطق اور معقولات کی تعلیم بھی حاصل کی۔

امرتسر: ابتدائی تعلیم:
امرتسر میں آپ نے مولانا احمد اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ ان سے شرحِ جامی اور منطق کی کتاب قطبی سمیت مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ یہ تعلیم آپ کے آئندہ علمی سفر کی بنیاد ثابت ہوئی۔

وزیر آباد: حافظ عبد المنان وزیر آبادی رحمہ اللہ سے استفادہ
علمِ حدیث کی تحصیل کے لیے آپ وزیر آباد پہنچے، جہاں حافظ عبد المنان وزیر آبادی رحمہ اللہ کی درس گاہ قائم تھی۔ آپ نے ان سے درسی اور حدیثی کتابیں پڑھیں اور 1889ء، مطابق 1307ھ، میں سندِ فراغت و اجازت حاصل کی۔
حافظ عبد المنان وزیر آبادی رحمہ اللہ کی تدریسی خدمات اور علمی مقام نے مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی علمی و دعوتی خدمات کے حوالے سے بھی یہ نسبت خاص اہمیت رکھتی ہے۔

دہلی: شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں:
وزیر آباد سے دہلی پہنچ کر آپ نے شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ وہاں آپ نے اپنی سابقہ سند پیش کی اور شیخ الکل سے بھی سند و اجازت حاصل کی۔ دہلی کا یہ قیام آپ کے علمی سفر کا اہم مرحلہ تھا، جہاں آپ کو برصغیر کے ممتاز محدثین میں سے ایک کی علمی صحبت نصیب ہوئی۔

سہارنپور اور دار العلوم دیوبند:
بعد ازاں آپ نے مظاہر العلوم سہارنپور میں کچھ عرصہ قیام کیا اور پھر دار العلوم دیوبند کا رخ کیا۔ وہاں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ سے معقولات و منقولات کی کتابیں پڑھیں اور دورۂ حدیث میں شرکت کی۔
دورانِ تعلیم آپ اپنے اساتذہ سے علمی سوالات کیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق، رخصت کے وقت شیخ الہند نے آپ سے فرمایا:

’’ثناء اللہ! طلبہ تمہاری شکایت کرتے تھے، لیکن خوش ہو جاؤ کہ جسے اللہ کچھ عطا فرماتا ہے، اس سے حسد بھی کیا جاتا ہے۔‘‘

یہ واقعہ آپ کی علمی استعداد اور دورانِ تعلیم پیش آنے والے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے اساتذہ کرام:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اپنے علمی سفر کے دوران برصغیر کے متعدد ممتاز اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:
1۔ حافظ عبد المنان وزیر آبادی رحمہ اللہ
2۔ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ
3۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ
4۔ مولانا احمد حسن کانپوری رحمہ اللہ
5۔ مولانا احمد اللہ امرتسری رحمہ اللہ
6۔ مولانا غلام رسول قلعوی رحمہ اللہ
7۔ حافظ محمد عبداللہ غازی پوری رحمہ اللہ
8۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمہ اللہ

مدرسہ فیضِ عام، کان پور:
دیوبند سے فراغت کے بعد آپ کان پور گئے اور مولانا احمد حسن کانپوری کے درس میں شریک ہوئے۔ شعبان 1310ھ، مطابق 1892ء، میں آپ نے آٹھ ممتاز طلبہ کے ساتھ دستارِ فضیلت حاصل کی۔

مولوی فاضل کا امتحان:
1902ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ اس طرح آپ کی دینی تعلیم کے ساتھ رسمی امتحانی اسناد کا سلسلہ بھی آگے بڑھا۔

ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جماعتی و قومی خدمات:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی سرگرمیاں درس و تدریس اور مناظرے تک محدود نہ تھیں۔ آپ نے مختلف علمی، دینی اور قومی اداروں کے ساتھ بھی کام کیا اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے متعلق متعدد معاملات میں حصہ لیا۔

ندوۃ العلماء کی بنیاد اور اصلاحی سرگرمیاں:
شعبان 1310ھ، مطابق 1892ء، میں کان پور کے جس اجلاس میں آپ کی دستار بندی ہوئی، اسی اجتماع کے حوالے سے ندوۃ العلماء کے قیام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ آپ کو اس ادارے کے ابتدائی اراکین میں شمار کیا جاتا ہے اور آپ اس کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔1913ء میں ندوۃ العلماء کے اندر پیدا ہونے والے بحران کے موقع پر دہلی میں اصلاحی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے سپرد کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ اس موقع پر مولانا شبلی نعمانی اور حکیم اجمل خان جیسی شخصیات بھی موجود تھیں۔

آل انڈیا اہلِ حدیث کانفرنس:
23 دسمبر 1906ء کو آرہ، بہار، میں آل انڈیا اہلِ حدیث کانفرنس کے قیام کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے پہلے صدر مولانا عبداللہ غازی پوری اور ناظمِ اعلیٰ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ مقرر ہوئے۔ آپ نے اس تنظیم کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اکتوبر 1921ء میں لاہور کے اجلاس میں آپ کو ’’سردارِ اہلِ حدیث‘‘ کا لقب دیے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

جمعیۃ العلماء ہند:
1919ء میں جمعیۃ العلماء ہند کے قیام کے سلسلے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی کوششوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا پہلا اجلاس امرتسر میں منعقد ہوا۔ اس طرح آپ کی سرگرمیوں کا دائرہ دینی تعلیم و دعوت کے ساتھ اجتماعی و تنظیمی امور تک بھی پھیلا ہوا تھا۔

تحریکِ آزادی اور مسلم لیگ:
1919ء میں سانحۂ جلیانوالہ باغ کے بعد امرتسر میں مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر آپ استقبالیہ کمیٹی کے صدر رہے۔ آپ آل انڈیا نیشنل کانگریس کی امرتسر شاخ کے صدر بھی رہے۔ اپنے صحافتی پلیٹ فارم کے ذریعے آپ نے ملکی حالات اور آزادیِ ہند سے متعلق امور پر اظہارِ خیال کیا۔

مؤتمرِ عالمِ اسلامی، مکہ مکرمہ 1926ء:
1926ء میں سلطان عبدالعزیز بن سعود کی دعوت پر مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے مؤتمرِ عالمِ اسلامی میں آپ کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ اس اجتماع میں برصغیر کے اہلِ حدیث کی نمائندگی کے حوالے سے آپ کا نام لیا جاتا ہے۔ اس شرکت نے آپ کو برصغیر سے باہر ہونے والی بعض علمی و دینی سرگرمیوں سے بھی جوڑا۔

فقہی خدمات اور فتاویٰ نویسی:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو فتویٰ نویسی بھی ہے۔ آپ سے مختلف شرعی، فقہی اور معاشرتی مسائل کے بارے میں سوالات کیے جاتے تھے، جن کے جوابات آپ کے علمی و صحافتی کام کا حصہ بنے۔ ان فتاویٰ میں عبادات، معاملات، خاندانی مسائل، دینی اختلافات اور روزمرہ زندگی سے متعلق مختلف سوالات زیرِ بحث آتے تھے۔
آپ کے فتاویٰ کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ ان میں اپنے عہد کے علمی اور معاشرتی مسائل کی جھلک ملتی ہے۔ مولانا نے مسائل کے جواب میں قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوئے اپنے فہم کے مطابق شرعی دلائل پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے فتاویٰ کو بعد میں ’’فتاویٰ ثنائیہ‘‘ کے عنوان سے جمع و مرتب کیا گیا، جو آپ کی فقہی خدمات کے مطالعے کے لیے اہم علمی سرمایہ ہے۔ فتاویٰ ثنائیہ کا مطالعہ مولانا کے فقہی رجحانات، استدلال کے انداز اور اپنے زمانے کے دینی سوالات سے ان کی واقفیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

اخلاق، کردار، حلم اور پیکرِ عزیمت:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اخلاق، حلم، مہمان نوازی اور مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک تھا۔ آپ علمی اختلافات میں مضبوط موقف رکھتے تھے، لیکن ذاتی معاملات میں عفو و درگزر کی مثالیں بھی آپ سے منسوب ہیں۔

قاتل پر احسان اور حسنِ سلوک کا نادر واقعہ:
نومبر 1937ء میں قمر بیگ نامی ایک شخص نے مسجد مبارک، امرتسر، کے باہر مولانا پر تیز دھار گنڈاسے سے حملہ کیا۔ اس حملے میں آپ کے سر پر گہرا زخم آیا۔ مقدمے کے بعد مجرم کو چار سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
روایت کے مطابق، جب مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کو معلوم ہوا کہ قمر بیگ کے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تو آپ نے اپنے ذاتی وسائل سے اس کے اہلِ خانہ کے لیے خفیہ طور پر پچاس روپے ماہانہ بھیجنے شروع کر دیے۔ جیل میں قمر بیگ کو جب اس حسنِ سلوک کا علم ہوا تو وہ نادم ہوا۔ رہائی کے بعد مولانا کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگنے اور مسلکِ اہلِ حدیث اختیار کرنے کا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ آپ کے تذکروں میں عفو و درگزر اور انسانی ہمدردی کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

حاضر جوابی:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی حاضر جوابی بھی معروف تھی۔ ایک روایت کے مطابق، ایک سکھ رہنما نے آپ سے بھیڑ اور سور کی ظاہری مشابہت کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر دونوں کی شکلیں ملتی ہیں تو بھیڑ کا گوشت حلال اور سور کا گوشت حرام کیوں ہے؟
روایت میں مولانا کا جواب اس انداز میں نقل کیا جاتا ہے کہ محض ظاہری مشابہت کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا معیار نہیں؛ اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اسی اصول کو واضح کرنے کے لیے آپ نے خاندانی رشتوں کی ظاہری مشابہت کی مثال بھی دی۔یہ حکایت آپ کی برجستہ گفتگو اور سوال کے بنیادی نکتے کی طرف توجہ دلانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

تقسیمِ ملک، عظیم صدمات، ہجرت:
1947ء میں تقسیمِ ہند کے دوران امرتسر میں شدید بدامنی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلا۔ اس ہنگامہ خیز دور میں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ اور ان کے خاندان کو بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کی زندگی کے اس مرحلے سے متعلق تذکروں میں چند بڑے صدمات کا ذکر ملتا ہے:
– آپ کے جوان صاحبزادے مولوی عطاء اللہ رحمہ اللہ کی سکھوں کے ہاتھوں شہادت کا بیان ملتا ہے۔
– آپ کا قیمتی کتب خانہ اور ’’ثنائی برقی پریس‘‘ جل کر تباہ ہو گیا۔
– آپ کو امرتسر چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ اس سفر میں آپ کی مالی حالت نہایت دشوار تھی اور روایت کے مطابق، آپ کے پاس صرف پچاس روپے نقد تھے۔
کتب خانے اور پریس کی تباہی اس عالم کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی جس نے اپنی زندگی علم و قلم کی خدمت میں گزاری تھی۔ اس کے باوجود آپ نے حالات کے سامنے ہمت نہ ہاری۔ پاکستان پہنچنے کے بعد لاہور، گوجرانوالہ اور پھر سرگودھا میں قیام کا ذکر ملتا ہے۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے نمایاں تلامذہ و مستفیدین:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تدریسی، تصنیفی، صحافتی اور مناظرانہ سرگرمیوں سے مختلف اہلِ علم اور دیگر شخصیات نے استفادہ کیا۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:
1۔ مولانا محمد داؤد راز دہلوی رحمہ اللہ
2۔ مولانا عبدالمجید سوہدروی رحمہ اللہ
3۔ مولوی عطاء اللہ امرتسری رحمہ اللہ
4۔ مولانا عبدالحق سلفی رحمہ اللہ
5۔ مولانا محمد سلیمان گوجرانوالہ رحمہ اللہ
6۔ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ
7۔ مولانا عبدالغفور وزیر آبادی رحمہ اللہ
8۔ مولانا عبدالقادر حصاری رحمہ اللہ

مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی و تصنیفی خدمات:

🔹️تفسیری خدمات اور قرآن مجید سے شغف
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی خدمات میں تفسیرِ قرآن کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ نے قرآن مجید کے فہم، آیات کے باہمی ربط، قرآنی استدلال اور اپنے عہد کے فکری و مذہبی اعتراضات کے جواب میں متعدد تحریری کاوشیں کیں۔

📚 تفسیر القرآن بکلام الرحمن
یہ آپ کی اہم عربی تفسیری تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی منہج قرآن مجید کی آیات کی تشریح دوسری متعلقہ آیات کی روشنی میں کرنا ہے، جسے ’’القرآن يفسر بعضه بعضًا‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

📚 تفسیرِ ثنائی
تفسیرِ ثنائی مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی معروف اردو تفسیر ہے، جو آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں سلیس ترجمے، ربطِ آیات، قرآنی استدلال اور مختلف تفسیری آرا کے تجزیے کو اہمیت دی گئی ہے۔ سرسید احمد خان کی بعض تفسیری آرا، خصوصاً معجزات، ملائکہ، معراج اور دعا سے متعلق مباحث پر بھی تنقید ملتی ہے۔
اس تفسیر کی جلدیں درج ذیل ہیں:
1۔ جلد اول: سورۃ الفاتحہ تا سورۃ البقرہ۔
2۔ جلد دوم: سورۃ آل عمران تا سورۃ النساء۔
3۔ جلد سوم: سورۃ المائدہ تا سورۃ الاعراف۔
4۔ جلد چہارم: سورۃ الانفال تا سورۃ الحجر۔
5۔ جلد پنجم: سورۃ بنی اسرائیل تا سورۃ الفرقان۔
6۔ جلد ششم: سورۃ الشعراء تا سورۃ یٰسین۔
7۔ جلد ہفتم: سورۃ الصافات تا سورۃ النجم۔
8۔ جلد ہشتم: سورۃ القمر تا سورۃ الناس۔

📚 دیگر تفسیری و قرآنی تصانیف
🔹️آیاتِ متشابہات:
متشابہ آیات اور ان کی تشریح سے متعلق مباحث۔
🔹️بیان الفرقان علی علم البیان:
قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت اور علمِ بیان سے متعلق عربی تصنیف۔
🔹️تفسیر بالرائے:
مختلف مذہبی و فکری حلقوں کی تفسیری آرا اور تاویلات پر تنقیدی مباحث۔
🔹️برہان التفاسیر:
پادری سلطان محمد پال کی کتاب ’’سلطان التفاسیر‘‘ میں پیش کیے گئے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی تحریر، جس کے مباحث ہفت روزہ ’’اہلِ حدیث‘‘ میں قسط وار شائع ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
📚 موضوعات کے لحاظ سے تصانیف
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے آریہ سماج کے مذہبی نظریات اور قرآن مجید و اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں متعدد کتابیں اور رسائل تحریر کیے۔
1۔ حق پرکاش
2۔ ترکِ اسلام
3۔ مقدس رسول
4۔ مباحثہ دیوریا
5۔ حدوثِ دنیا
6۔ الرکوب السفینہ فی مباحثۃ الکینۃ
7۔ نمازِ اربعہ
8۔ القرآن العظیم
9۔ رجم الشیاطین بجواب اساطیر الأولین
10۔ بحثِ تناسخ
11۔ قرآن اور دیگر کتب
12۔ باعثِ سرور در مباحثہ جیل پور
13۔ محمد رشی
14۔ نکاحِ آریہ
15۔ کتاب الرحمن
16۔ حدوثِ وید
17۔ الہام
18۔ سوامی دیانند کا علم و عقل
19۔ مرقع دیانندی
20۔ تبرِ اسلام
21۔ ثمراتِ تناسخ
22۔ جیا دوید
23۔ فتحِ اسلام یعنی مناظرہ خورجہ
24۔ الہامی کتاب
25۔ ثنائی پاکٹ بک
26۔ اصولِ آریہ
27۔ تحریفِ آریہ
28۔ تعلیم الاسلام
29۔ ہنود، آریہ اور مولانا امرتسری
30۔ ہندوستان کے دورِ اصلاح
31۔ مجموعہ رسائل بؤیدِ قرآن
32۔ الفوز العظیم
33۔ مباحثہ نائن
34۔ ایشور بھکتی
35۔ مباحثہ گوشت خوری
36۔ آریہ دھرم کا فوٹو
37۔ ثبوتِ قرآنی گاؤ
38۔ وید اور سوامی دیانند
39۔ ابدی نجات
40۔ اظہارِ حق
41۔ کتابِ روح
42۔ حدوثِ مادہ
43۔ وید کا بھید
44۔ شدھی توڑ
45۔ اخبارِ مسلمان
46۔ ویدک ایشور کی حقیقت
📚 ردِ قادیانیت
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کے خلاف تحریروں، مناظروں اور صحافت کے ذریعے طویل جدوجہد کی۔ اسی علمی و مناظرانہ کردار کے حوالے سے آپ ’’فاتحِ قادیان‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے۔
47۔ الہاماتِ مرزا
48۔ بگوآتِ مرزا
49۔ صحیفہ محبوبیہ
50۔ فاتحِ قادیان
51۔ آفتِ اللہ
52۔ فتحِ ربانی و مباحثہ قادیانی
53۔ مرقع قادیانی
54۔ چیستانِ مرزا
55۔ زارِ قادیان
56۔ عقائدِ مرزا
57۔ فتحِ نکاحِ مرزائیاں
58۔ تاریخِ مرزا
59۔ عجائب علمی مرزا
60۔ شہادتِ مرزا
61۔ مراقِ مرزا
62۔ فیصلہ مرزا
63۔ علمِ کلامِ مرزا
64۔ تحفہ احمدیہ
65۔ بطشِ قدیر بر قادیانی تفسیرِ کبیر
66۔ ناقابلِ منصف مرزا
67۔ رسائلِ اعجازیہ
68۔ ضرورتِ مسیح
69۔ نکاحِ مرزا
70۔ قادیانی مباحثہ دکن
71۔ نکاتِ مرزا
72۔ تعلیماتِ مرزا
73۔ محمد قادیانی
74۔ بہاء اللہ اور مرزا
75۔ مکالمہ احمدیہ، جلد اول
76۔ محمود مصلح موعود
77۔ شاہ انگلستان اور مرزا قادیانی
78۔ ابابیلِ مرزا
79۔ تفسیر نویسی کا چیلنج اور افراد
📚 حدیث، فقہ، تقلید اور علمی اختلافات
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے حدیث و سنت کی حجیت، اتباعِ رسول، اجتہاد و تقلید اور فقہی اختلافات سے متعلق متعدد تحریری مباحث پیش کیے۔
80۔ حدیثِ نبوی اور تقلیدِ شخصی
81۔ علمِ الفقد
82۔ تقلیدِ شخصی اور سلفی
83۔ تکذیب المفقرین
84۔ فقہ اور فقیہ
85۔ اجتہاد و تقلید
86۔ اصلی حنفیت اور تقلیدِ شخصی
87۔ تنقیدِ تقلید
88۔ اھدائے اہلِ حدیث
89۔ معقولاتِ حنفیہ
90۔ تلفیقِ شخصی
91۔ اصول الفقہ، عربی
92۔ قلعہ شکن بجواب باطل شکن
93۔ علمِ غیب کا مسئلہ
94۔ وہابیت پر بطلان
95۔ وفات النبی بجواب حیات النبی
📚 تائید و حمایتِ اہلِ حدیث
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اہلِ حدیث کے مذہب، اس کے علمی اصولوں اور حدیث و سنت سے وابستگی کی وضاحت کے لیے بھی تحریری خدمات انجام دیں۔
96۔ اہلِ حدیث کا مذہب
97۔ فتوحاتِ اہلِ حدیث
98۔ اسلام اور اہلِ حدیث
99۔ آمین و رفع الیدین
100۔ فاتحہ خلف الامام
101۔ شمعِ توحید
102۔ نورِ حیدر
📚 تنقیدی اور مناظرانہ تصانیف
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اپنے عہد کے مختلف علمی، مذہبی اور فکری مباحث پر بھی قلم اٹھایا۔ ان تصانیف میں قرآنی استدلال، حدیث کی حجیت، اتباعِ سلف، خلافت اور مختلف تحریکوں کے افکار پر گفتگو ملتی ہے۔
103۔ الکلام المبین فی جواب الأربعین
104۔ دلیل الفرقان بجواب اہل القرآن
105۔ فیصلہ آریہ
106۔ حجیتِ حدیث اور اتباعِ رسول
107۔ خاکساری تحریک اور اس کا بانی
108۔ نافہم منصف
109۔ کم علم منصف
110۔ خطاب بہ مودودی
111۔ اتباعِ سلف
112۔ خلافتِ محمدیہ
113۔ خلافت و رسالت
114۔ دکھیے دل کی داستان
115۔ مظالمِ روہڑی بر مظلومِ امرتسری
116۔ اہلِ حدیث کی امانت بجواب وہابیوں کی امامت
117۔ برہان الحدیث باحسن الحدیث
118۔ برہان القرآن
📚 عامۃ المسلمین، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تحریروں میں اصلاحِ معاشرہ، اسلامی طرزِ زندگی، حج، مسلمانوں کی اجتماعی صورتِ حال اور مختلف دینی مسائل پر بھی گفتگو ملتی ہے۔
119۔ عزت کی زندگی
120۔ میل ملاپ
121۔ سماکم المسلمین
122۔ عیدِ میلاد النبی کی شرعی حیثیت
123۔ اسلام کیا چاہتا ہے
124۔ تہذیب
125۔ تعلیم القرآن
126۔ رہبرِ حجاج
127۔ تحریکِ وہابیت پر ایک نظر
128۔ حیاتِ مسنونہ
129۔ مسئلہ حجاز پر نظر
130۔ سلطان ابن سعود، علی برادران اور مؤتمر
📚 سیرت، اخلاق اور علمی و ادبی تصانیف
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی خدمات میں سیرتِ نبوی، اخلاق اور ازدواجی زندگی سے متعلق عنوانات بھی شامل ہیں۔
131۔ خصائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم
132۔ ہدایہ الزوجین
📚 ردِ عیسائیت اور مسیحی اعتراضات کے جوابات
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے عیسائی مشنریوں کی طرف سے اسلام، قرآن مجید اور نبوت پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں بھی علمی و تحریری خدمات انجام دیں۔
133۔ تقابلِ ثلاثہ
134۔ اسلام اور مسیحیت
135۔ توحید، تثلیث اور راہِ نجات
136۔ جواباتِ نصاریٰ
137۔ مناظرہ الٰہ آباد
138۔ تفسیر سورۃ یوسف و تحریفاتِ بائبل
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی خدمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے عہد کے مذہبی و فکری مباحث میں بھرپور حصہ لیا۔ تفسیرِ قرآن میں آیات کے باہمی ربط اور قرآنی استدلال کو اہمیت دی، حدیث و سنت کی تائید میں تحریری کام کیا، اہلِ حدیث کے مذہب کی وضاحت کی اور قادیانیت، آریہ سماج اور عیسائی مشنریوں کے اعتراضات کے جواب میں متعدد کتابیں اور رسائل تحریر کیے۔

وفات:
سرگودھا میں قیام کے دوران فروری 1948ء میں آپ پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ بالآخر 15 مارچ 1948ء، مطابق 4 جمادی الاولیٰ 1367ھ، کو آپ کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 80 برس بیان کی جاتی ہے۔
آپ کی وفات سے برصغیر کی علمی، دعوتی اور صحافتی دنیا ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گئی جس نے کئی دہائیوں تک قلم، زبان اور تدریس کے ذریعے دینی خدمات انجام دیں۔ آپ کی زندگی کا بڑا حصہ علمی مباحث، مذہبی مناظروں، تفسیر، صحافت اور اصلاحی سرگرمیوں میں گزرا۔

مشاہیرِ اسلام کا خراجِ تحسین:
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی علمی و دعوتی خدمات کو مختلف اہلِ علم، ادیبوں اور دینی رہنماؤں نے سراہا۔ ان سے منسوب چند اقوال ذیل میں درج ہیں:

🔹️سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ:
’’مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبان اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا، اس کی مدافعت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتا، وہ وہی ہوتے۔۔۔‘‘

🔹️مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ:
’’مولانا ثناء اللہ امرتسری کی وفاتِ حسرت آیات سے دنیا سے حاضر جوابی ختم ہو گئی۔ اگر رات کو کوئی نیا فتنہ پیدا ہو جائے تو مولانا ثناء اللہ صبح اس کا دندان شکن جواب دے سکتے تھے۔‘‘

🔹️مولانا عبدالمجید سوہدروی رحمہ اللہ:
’’آپ کو اگر خاتم المناظرین بھی کہہ دیا جائے تو شاید نامناسب نہ ہو۔‘‘

🔹️علامہ رشید رضا مصری رحمہ اللہ:
’’مولانا ثناء اللہ برصغیر ہند میں اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے وکیل اور رجلِ الٰہی ہیں۔‘‘

🔹️سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ:
’’میرے نزدیک اسلام کی صداقت و حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ثناء اللہ جیسا زیرک، معاملہ فہم اور ذہین انسان اسلام کا علمبردار ہے۔‘‘

یہ اقوال مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے علمی مقام اور دعوتی خدمات کے بارے میں ان کے معاصرین اور بعد کے اہلِ علم کی قدر شناسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی زندگی علم، دعوت، مناظرہ، تفسیر اور صحافت کے متعدد پہلوؤں کا مجموعہ تھی۔ آپ نے اپنے زمانے کے مذہبی و فکری مباحث میں بھرپور حصہ لیا، قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کیا اور اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں بڑی تعداد میں کتابیں اور مضامین تحریر کیے۔آپ کی علمی میراث میں تفسیری تصانیف، مناظرانہ کتابیں، فقہی مباحث، صحافتی خدمات اور علمی و دعوتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان خدمات کا مطالعہ برصغیر کی دینی و فکری تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں اخلاص، علمِ نافع، حق گوئی اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ناشر: حافظ امجد ربانی