شیخ القرآن مولانا ابو زکریا سید عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
قرآن مجید کی تعلیم و تفسیر کے لیے برصغیر کے اہلِ علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان شخصیات میں شیخ القرآن مولانا ابو زکریا سید عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس، دوراتِ تفسیر، اشاعتِ سنت، دعوتِ توحید اور تصنیف و تالیف میں گزارا۔ آپ کی معروف تصنیف (تفسیر احسن الکلام) پشتو زبان میں قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ اس کے علاوہ اصولِ تفسیر، قرآنی مقاصد، آیات و سورتوں کے باہمی ربط، حدیث اور دیگر دینی موضوعات پر بھی آپ کی تصانیف ملتی ہیں۔ تدریسی خدمات کے ساتھ دینی اداروں کا قیام، دوراتِ تفسیر کا اہتمام اور طلبہ کی علمی تربیت بھی آپ کے نمایاں کارناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
نام و نسب اور خاندانی پس منظر:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کا نام سید عبدالسلام بن مولانا عبدالرؤف رستمی ہے۔ آپ کی کنیت ابو زکریا تھی اور آپ شیخ القرآن والحدیث کے لقب سے معروف تھے ۔
نسب نامہ:
سید عبدالسلام بن عبدالرؤف بن سید قدرت اللہ بن سید نصر اللہ بن سید محمد سمیع اللہ بن سید محمد شاہ سدھومی، المعروف اخون بابا، بن سید بھائی خان، المعروف کونگی بابا، بن سید علی خان، المعروف ألو خان، بن سید احمد بن سید حسن علاؤ الدین بن سید محمد گیسو دراز بن سید علی بن سید محمد ایوب بن سید نائب بن سید نور الدین بن سید محمد باجر بن سید علی فرد الدین بن سید محمد مسعود بن سید محمد حمزہ بن سید محمد علی بن سید محمد اسماعیل بن سید محمد اصغر بن ابراہیم بن زین العابدین بن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم، علاقہ سدھوم سے تھا۔ ایک روایت کے مطابق، آپ کے بزرگ دعوت و تبلیغ کی غرض سے بلوچستان کے علاقے قندھار سے رستم آئے اور پھر وہیں سکونت اختیار کرلی۔ آپ کے والد مولانا عبدالرؤف رحمہ اللہ مقامی مسجد میں امامت کرتے تھے اور معمولی زمین داری کے ذریعے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ گھر میں مسجد اور دینی تعلیم سے تعلق پہلے ہی موجود تھا، چنانچہ اسی ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی اور دینی تعلیم کی طرف رغبت پیدا ہوئی۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں بعض مآخذ میں 1938ء، جب کہ بعض میں 1936ء، بمطابق 1355ھ، درج ہے۔ ایک بیان کے مطابق، آپ رمضان المبارک میں پیر کے دن رستم کے محلے بیراونڈ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں آپ کو دینی تعلیم کے لیے مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ رستم کا دینی ماحول، مسجد سے خاندانی وابستگی اور علاقے میں جاری تعلیمی روایت نے آپ کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ آگے چل کر یہی شوق قرآن مجید کی تدریس و تفسیر کے لیے آپ کی طویل جدوجہد کا ذریعہ بنا۔
ابتدائی تعلیم اور مدرسہ فیض الاسلام:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم رستم کے مدرسہ فیض الاسلام میں حاصل کی۔ اس مدرسے کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد مشہور مجاہد حاجی صاحب ترنگزئی نے رکھی تھی۔ آپ نے یہاں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں اردو، فارسی اور قرآن مجید مع لفظی ترجمہ پڑھا۔ اس کے بعد درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی، جس میں صرف و نحو، منطق، فلسفہ، حکمت، عربی ادب، فقہ، اصولِ فقہ، عروض، معانی، بیان اور بدیع جیسے علوم شامل تھے۔اسی دوران تفسیر جلالین، تفسیر بیضاوی اور مشکوٰۃ المصابیح جیسی اہم کتابیں بھی پڑھیں۔ ان علوم و فنون نے آپ کے علمی ذوق کو جلا بخشی اور تدریسِ حدیث و تفسیر کے لیے علمی بنیاد فراہم کی۔
اساتذہ کرام اور علمی استفادہ:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے اپنے تعلیمی سفر کے دوران متعدد اہلِ علم سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں درج ذیل حضرات کے نام ملتے ہیں:
1۔ مولانا عبد الرب شہباز گڑھی
2۔ مولانا عبد الرازق ادینہ
3۔ مولوی محب اللہ گبرال
4۔ مولانا عبد الہادی شاہ منصوری
5۔ مولانا میاں گل جان گڑیالوی
6۔ مولانا سیف محمد دیوبندی
7۔ مولوی عبد الحق قندہاری
8۔ مولوی سیف الرحمن شہباز گڑھی
9۔ مولوی فضل قدیم، کئی صوابی
10۔ مولوی سمندر خان مردان رستم خیل
11۔ مولوی عبد السلام چغرزوی
12۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان
13۔ مولانا عبدالرحمن بہبودی
14۔ مولانا عبدالشکور بہبودی
15۔ مولانا عبد القیوم کامل پوری
16۔ شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیری
جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک میں دورہ حدیث:
ابتدائی اور متوسط دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ دورہ حدیث کے لیے جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک تشریف لے گئے۔ وہاں مولانا عبدالرحمن بہبودی رحمہ اللہ اور مولانا عبدالشکور بہبودی رحمہ اللہ سے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور سندِ فراغت پائی۔ حدیث کی تعلیم کے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر میں بھی آپ کی دلچسپی برقرار رہی۔ آپ کو مولانا عبد الہادی شاہ منصوری رحمہ اللہ، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ سے دورہ تفسیر پڑھنے کا موقع ملا۔ تفسیرِ قرآن کے مطالعے سے توحید، شرک اور رائج بدعات کے مسائل کے بارے میں آپ کا موقف مزید واضح ہوا۔ اس کے بعد آپ نے قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور دوسروں تک ان کی دعوت پہنچانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ بعد کے تدریسی اور دعوتی کام میں بھی یہی رجحان نمایاں رہا۔
فراغت کے بعد تدریسی زندگی کا آغاز:
تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے اپنے آبائی علاقے رستم میں تدریس شروع کی۔ آپ نے اسی مدرسے میں پڑھانا شروع کیا جہاں خود طالب علمی کے زمانے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ مختلف علوم و فنون کی تدریس کے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر پر بھی خصوصی توجہ دی۔ آپ نے 1959ء میں رستم کی تھانہ مسجد میں پہلی مرتبہ دورہ تفسیر پڑھایا۔ اس کے بعد تفسیر القرآن کی تدریس آپ کے علمی معمولات کا مستقل حصہ بن گئی اور مختلف مقامات پر اس کا اہتمام ہونے لگا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی موضوع توحید، اتباعِ سنت اور دینی اعمال کی اصلاح تھا۔ اس موقف کی وجہ سے مقامی سطح پر اختلافات پیدا ہوئے اور بعض مواقع پر آپ کو تدریسی ذمہ داریوں سے الگ بھی ہونا پڑا۔ ان مشکلات کے باوجود آپ نے تدریس کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔ کچھ عرصہ میاں والی کے ایک دینی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں دوبارہ رستم واپس آئے اور وہاں علمی و تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔
تصنیف و تالیف کا آغاز:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کردیا تھا۔ آپ نے 1962ء میں عربی زبان میں “التبيان في تفسير أم القرآن” لکھی، جو سورہ فاتحہ کی تفسیر سے متعلق ہے۔ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تدریس کے ساتھ اس کے مضامین کی تحریری وضاحت بھی آپ کی علمی دلچسپی کا حصہ تھی۔ آپ نے اپنے مطالعے اور تفسیری کام کو تحریر کی صورت میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔بعد کے ادوار میں تصنیف و تالیف کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ تفسیر، اصولِ تفسیر، قرآنی مقاصد، حدیث، نماز، دعوت اور دیگر دینی موضوعات پر متعدد کتابیں آپ سے منسوب ہیں۔ ان میں عربی، پشتو اور اردو زبانوں کے عنوانات شامل ہیں۔
مدرسہ تعلیم القرآن کا قیام:
تدریسی مشکلات اور مقامی حالات کے پیشِ نظر مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے اپنا ادارہ قائم کیا، جس کا نام تعلیم القرآن رکھا۔ یہاں طلبہ کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا اور قرآن مجید کی تدریس کو خاص اہمیت دی گئی۔
بعد میں آپ نے جامعہ تعلیم القرآن و اشاعۃ التوحید والسنۃ کے قیام اور انتظام پر توجہ دی۔ ابتدا میں اپنی مسجد میں تدریسی سرگرمیاں جاری رکھیں، پھر مدرسے کو کرائے کی عمارت میں منتقل کیا اور بالآخر زمین حاصل کرکے مستقل ادارہ قائم کیا۔
اس سفر میں مالی، انتظامی اور سماجی مشکلات پیش آتی رہیں، لیکن تعلیم و تدریس اور دورہ تفسیر کا سلسلہ جاری رہا۔ وقت کے ساتھ ادارے میں مختلف تعلیمی شعبے قائم ہوئے اور بڑی تعداد میں طلبہ نے وہاں تعلیم حاصل کی۔
تدریسی جدوجہد، مقدمات اور قید کے واقعات:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی تدریسی و دعوتی زندگی میں مشکلات، مقامی مخالفت اور قانونی مقدمات کے واقعات بھی پیش آئے۔
1990ء کے دوران مخالفین کی چال کے نتیجے میں آپ کے قید ہونے کا ذکر ملتا ہے، جب کہ 1992ء میں مدرسے کے اندر پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کے بعد مقدمے اور قید کی تفصیلات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ 1992ء کے واقعے کے بعد آپ اپنے ڈرائیور اور بیٹے عبدالصبور کے ساتھ تقریباً سات ماہ قید میں رہے۔ قید کے اسی زمانے میں آپ نے پشتو زبان میں قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا کام شروع کیا اور “تحفة السجن” کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔بعد ازاں آپ مقدمات سے بری ہوگئے، لیکن ان واقعات کے نتیجے میں مالی اور انتظامی مشکلات پیدا ہوئیں۔ تعلیمی کام جاری رکھنے کے لیے بعض شعبوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور پرانی عمارت میں دارالاطفال اسلامی کے نام سے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔
تاریخی مناظرہ اور دعوتی سرگرمیاں:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی دعوتی زندگی میں علمی مباحث اور مناظرات کو بھی اہم مقام حاصل تھا۔ 1987ء میں سپین کانے کے مقام پر ہونے والے ایک معروف تاریخی مناظرے میں آپ نے شرکت کی۔آپ کی دعوت کا بنیادی محور توحید، اتباعِ سنت اور دینی اعمال کی اصلاح تھا۔ قرآن مجید کی تعلیم، احادیثِ نبویہ کی تدریس اور علمی دلائل کے ذریعے آپ اپنے موقف کی وضاحت کرتے تھے۔ دوراتِ تفسیر، خطبات، دروس، علمی مباحث اور صوتی ریکارڈنگز آپ کی دعوت کے اہم ذرائع تھے۔ ان کے ذریعے مختلف علاقوں کے لوگوں تک قرآن و سنت کی تعلیم پہنچتی رہی۔
پشاور کی طرف منتقلی:
رستم میں تدریسی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے مشکلات بڑھنے کے بعد مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے پشاور منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور رستم چھوڑ کر پشاور چلے گئے۔
پشاور پہنچنے کے بعد آپ نے بڈھ بیر کے علاقے میں سیفن چوک کے قریب اپنی تعلیمی و تفسیری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اسی مقام پر جامعہ عربیہ اشاعۃ التوحید والسنۃ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں علومِ عربیہ، حدیث، تفسیر اور دیگر دینی علوم کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ طلبہ و طالبات کے لیے الگ تعلیمی انتظامات بھی کیے گئے۔رستم میں قائم کردہ اداروں کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ اس طرح آپ کی تعلیمی کوششیں ایک مقام تک محدود نہ رہیں، بلکہ مختلف علاقوں میں دینی تعلیم کے مراکز قائم کرنے اور ان کا سلسلہ برقرار رکھنے تک پھیل گئیں۔
جامعہ عربیہ اشاعۃ التوحید والسنۃ اور تنظیمی خدمات:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ نے تعلیمی اور دعوتی کام کو منظم کرنے کے لیے جماعتی سطح پر بھی خدمات انجام دیں۔ آپ ایک عرصے تک جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ کے صوبائی امیر رہے، تاہم بعد میں اختلافات کے باعث اس جماعت سے الگ ہوگئے۔اس کے بعد ساتھیوں کے مشورے سے جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ علی منہاج السلف الصالحین کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ طلبہ کی تعلیمی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے ایک ذیلی تنظیم بھی قائم کی گئی، تاکہ وہ علمی و دعوتی کام میں حصہ لے سکیں۔
ان سرگرمیوں سے وابستہ اداروں میں جامعہ عربیہ اشاعۃ التوحید والسنۃ، جامعہ تعلیم القرآن، دارالاطفال اسلامی، مدرسۃ البنات اور مدرسۃ الدعوۃ الکتاب والسنۃ کے نام ملتے ہیں۔ ان اداروں میں حفظِ قرآن، تجوید، قراءت، علومِ عربیہ، حدیث اور تفسیر کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ بچوں اور بچیوں کے لیے الگ تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ان اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اپنے اپنے علاقوں میں دینی تعلیم، دروسِ قرآن اور دعوتی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔ یوں ان اداروں کے ذریعے دینی تعلیم و تدریس کا سلسلہ مختلف علاقوں تک پھیلا۔
دورہ تفسیر القرآن: ایک نمایاں علمی خدمت:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں دورہ تفسیر القرآن کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ آپ نے 1959ء میں رستم کی تھانہ مسجد میں پہلی مرتبہ دورہ تفسیر پڑھایا، جس کے بعد مختلف مقامات پر یہ سلسلہ جاری رہا۔
ایک روایت کے مطابق، 1977ء سے شعبان اور رمضان کے مہینوں میں دورہ تفسیر کے باقاعدہ اہتمام کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح پشاور منتقل ہونے کے بعد 1992ء میں بڈھ بیر، سیفن چوک میں دورۂ تفسیر شروع ہونے کی روایت بھی ملتی ہے۔ ان دورات میں ابتدا ہی سے سیکڑوں طلبہ شریک ہوتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق، بعد کے بعض ادوار میں شرکاء کی تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ کامیاب طلبہ کو شہادتِ تفسیر بھی دی جاتی تھی۔ان مجالس میں پاکستان کے مختلف علاقوں اور افغانستان سے طلبہ شرکت کرتے تھے۔ ان کا تعلق صوبہ سرحد، بلوچستان، کراچی، قبائلی علاقوں اور افغانستان کے مختلف شہروں اور شمالی علاقوں سے تھا۔
ان دورات میں طلبہ کو قرآن مجید کی تفسیر پڑھنے اور اسے سمجھنے کا موقع ملتا تھا۔ بعض طلبہ نے بعد میں اپنے اپنے علاقوں میں قرآنی دروس اور تفسیری مجالس شروع کیں، جس سے قرآن مجید کی تعلیم کا یہ سلسلہ مزید لوگوں تک پہنچا۔
تفسیر احسن الکلام:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی تصنیفی خدمات میں (تفسیر احسن الکلام)کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ پشتو زبان میں قرآن مجید کی تفسیر ہے، جس کے ذریعے پشتو بولنے والے قارئین تک قرآن مجید کے معانی و مطالب پہنچانے کی کوشش کی گئی۔اس تفسیر میں پشتو خواں طبقے کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن مجید کے ترجمے اور تفسیری وضاحت کے ذریعے قرآنی مضامین سمجھانے کا اہتمام کیا گیا۔
دیگر تصانیف اور علمی کاوشیں:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی تصانیف میں قرآن و تفسیر، اصولِ تفسیر، حدیث، نماز، دعوت، فقہی مسائل، تقلید اور انکارِ حدیث کے رد سے متعلق کتابیں شامل ہیں۔ان کے نمایاں عنوانات درج ذیل ہیں:
📚 عربی زبان کی تصانیف
1. التبيان في تفسير أم القرآن
2. الموسوعة القرآنية المسماة بالفرائد الربانية في الفوائد القرآنية
3. تنشيط الأذهان في أصول تفسير القرآن
4. توجيه الناظرين إلى مقاصد الكتاب المبين
5. الخطبات القرآنية في الأصول الإيمانية
6. بدرة الصلاة في مستخرجات أحاديث المشكاة
7. معالم الأحاديث المكررة في الجامع الصحيح البخاري
8. التنجيد في مسألة التقليد
9. لطائف القرآن في تفسير سورة الفاتحة
📚 پشتو زبان کی تصانیف
10. تفسير أحسن الكلام — قرآن مجید کی تفسیر،
11. تفسير القرآن العظيم — تفسیر أحسن الكلام کا خلاصہ
12. تحفة السجن
13. ترتيب الجهاد بمقابلة أهل الإلحاد
14. أحسن الندى
15. مخمسات تفسير سورة الفاتحة
16. الدرر المنظومات في ربط السور والآيات
17. سيرة الأعلام
18. المسائل المتفرقة بالسؤال والجواب
19. طريقة الوسطى في مسألة الدعاء وسمع الموتى
20. غيث الصحابة
21. سيرة الإمام البخاري
22. رسالة في ترجمة الأذكار والصلاة
23. الخطبات الإيمانية
📚 اردو زبان کی تصانیف
24. سهام الصياد في قلوب الحساد
25. انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک
26. مسئلہ ختمِ نبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں
27. أحسن الندى على من انتقد على النبي الصحابي
📚 فارسی زبان کی تصانیف
28. ترجمہ درر منظومات
29. رہنمائے قرآن
خطبات، دروس اور صوتی ریکارڈنگز:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کے دروس اور دوراتِ تفسیر کو محفوظ کرنے کے لیے صوتی ریکارڈنگز بھی تیار کی گئیں۔ ان ریکارڈنگز کے ذریعے وہ لوگ بھی آپ کے دروس سے فائدہ اٹھا سکتے تھے جو براہِ راست مجالس میں شریک نہیں ہوسکتے تھے۔ خصوصاً دوراتِ تفسیر کی ریکارڈنگز نے قرآن مجید کی تعلیم کو مزید لوگوں تک پہنچانے میں مدد دی۔
علمی و دعوتی صحافت:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی دعوتی زندگی میں رسائل و جرائد سے تعلق بھی اہمیت رکھتا تھا۔ آپ کے زیرِ اہتمام (سیرت السلف) کے نام سے اردو اور پشتو زبانوں میں رسالہ جاری کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سے پہلے (منہاج السلف) کے نام سے بھی شمارے شائع کیے گئے تھے۔ ان رسائل کے ذریعے دینی تعلیمات، دعوتِ سلف اور علمی مباحث کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ یوں رسائل و جرائد کی اشاعت بھی آپ کی دعوتی سرگرمیوں کا حصہ رہی۔
تلامذہ اور علمی اثرات:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کے بے شمار تلامذہ تھے۔ دوراتِ تفسیر، دورہ حدیث اور دیگر درسی مجالس میں مختلف علاقوں کے طلبہ نے آپ سے استفادہ کیا۔ آپ کے نمایاں تلامذہ میں درج ذیل حضرات کے نام ملتے ہیں:
1۔ حکیم مولوی عبدالمعبود
2۔ ڈاکٹر مولانا سراج الاسلام حنیف
3۔ سلمان حنیف بن سراج الاسلام، بوسنی سدھوم
4۔ شاکر اللہ بابو، کوٹھو محمد آباد، سدھوم، بوسئی رستم، مردان
5۔ سید محمد کلیم شاہ بن سید ممبر شاہ، کوتریان سدھوم
6۔ مولانا شفیع الرحمن، باغیچہ ڈھیری، صوابی
7۔ مولانا حافظ لطف الرحمن بن مولوی فضل الرحمن، ادینہ، صوابی
8۔ مولوی حمید الرحمن بن عبدالرحمن، پوستی سدھوم
9۔ عبد الناصر رستم، سدھوم
10۔ مولوی فضل ربی، ادینہ، صوابی
11۔ مولوی عبد الحنان، لینڈے، بخشالی
12۔ مولانا امیر حسین باچا، جلبئی، صوابی
13۔ مولانا امین اللہ کونڈی، پشاور
14۔ مولانا فضل مولیٰ بن فضل رحیم، رستم خیل، مردان
15۔ مولانا عبدالرحمن بن محمد خضر، بوسنی سدھوم، المعروف ناظم صاحب
آپ کے دروس اور دوراتِ تفسیر میں شریک طلبہ نے مختلف علاقوں میں دینی تعلیم و تدریس اور قرآنی دروس کے ذریعے علمی خدمات انجام دیں، جس سے آپ کی تعلیمی و تفسیری کاوشوں کے اثرات دوسرے علاقوں تک بھی پہنچے۔
اولاد اور خاندانی زندگی:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کے چھ صاحب زادوں کے نام درج ہیں:
1۔ مولانا ابو سعید
2۔ محمد
3۔ سید عبدالصبور
4۔ سید عبدالباسط
5۔ سید عبدالبصیر
6۔ سید محمد زکریا
علمی مزاج اور شخصیت:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی علمی زندگی میں تدریس، تفسیر، تصنیف اور دعوت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ آپ نے مختلف علوم و فنون پڑھائے، قرآن مجید کی تفسیر پشتو زبان میں پیش کی اور دینی اداروں کے ذریعے طلبہ کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔ دروس، خطبات، رسائل اور علمی مباحث کے ذریعے بھی آپ نے دعوتی کام جاری رکھا۔زندگی میں مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود آپ کی تدریسی اور تصنیفی سرگرمیاں جاری رہیں۔ آپ کی کتابیں، دوراتِ تفسیر، صوتی دروس اور شاگردوں کی تربیت اسی علمی جدوجہد کا حصہ ہیں۔
آخری ایام اور وفات:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی وفات 17 نومبر 2014ء کو ہوئی۔
نمازِ جنازہ مولانا عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ نے بعد از مغرب پڑھائی اور آپ کو بڈھ بیر، پشاور میں دفن کیا گیا۔
علمی ورثہ:
مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کا علمی ورثہ (تفسیر احسن الکلام)، اصولِ تفسیر سے متعلق تصانیف، دوراتِ تفسیر، صوتی دروس، قائم کردہ مدارس اور تربیت یافتہ شاگردوں کی صورت میں موجود ہے۔ پشتو زبان میں قرآن مجید کے معانی و مطالب سمجھانے کے لیے آپ کی کوششیں آپ کی نمایاں خدمات میں شمار ہوتی ہیں۔آپ نے تصنیف و تالیف کے ساتھ تدریس کو بھی جاری رکھا اور مختلف علاقوں کے طلبہ تک قرآنی تعلیم پہنچائی۔ آپ کی کتابیں اور تعلیمی سرگرمیاں اس علمی جدوجہد کی یادگار ہیں جس کا مرکزی موضوع قرآن مجید کی تعلیم و تفہیم تھا۔
اللہ تعالیٰ مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کے علمی آثار کو لوگوں کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




