پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ ایک ممتاز علمی شخصیت کی حیثیت سے معروف ہیں۔ آپ کی زندگی تدریس، خطابت، تصنیف و تالیف، دینی و تعلیمی اداروں کی خدمت اور جامعاتی انتظام جیسے مختلف علمی و عملی میدانوں پر مشتمل تھی۔ آپ کا تعلق خاندانِ غزنویہ سے تھا، جس نے قرآن و حدیث کی تعلیم، دعوتِ توحید اور دینی علوم کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ عربی زبان و ادب کے ماہر، اسلامی علوم کے مدرس، مؤثر خطیب اور صاحبِ فکر مصنف تھے۔ آپ نے اسلامیہ کالج لاہور، اورینٹل کالج لاہور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور کی سرپرستی اور دینی و علمی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ دینی علوم سے گہری وابستگی کے باوجود آپ نے جدید تعلیمی اداروں میں بھی عربی زبان و ادب اور اسلامیات کی تدریس کو اپنا میدانِ عمل بنایا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلری اور دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور سے وابستگی آپ کے علمی و عملی سفر کے اہم مراحل ہیں۔
نام، نسب اور خاندانی پس منظر:
پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ برصغیر کے معروف علمی و دینی خانوادے خاندانِ غزنویہ کے چشم و چراغ تھے۔ آپ علمی حلقوں میں اپنے نام کے ساتھ لفظ ’’پروفیسر‘‘ کی نسبت سے معروف ہوئے۔ اس خاندان کی تاریخ دینی علوم، تدریس، دعوت و اصلاح اور اہلِ حدیث کی علمی روایت سے وابستہ ہے، اور اس کی نمایاں شخصیات نے مختلف ادوار میں علمی و دینی خدمات انجام دیں۔آپ کے والد محترم مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ برصغیر کے ممتاز اہلِ حدیث علماء میں شمار ہوتے تھے، جب کہ آپ کے دادا امام سید عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ اور پردادا مولانا سید عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ بھی اس علمی خانوادے کے جلیل القدر بزرگوں میں سے تھے۔ خاندانِ غزنویہ کا شجرہ نسب اس کے بزرگوں اور ان کی نسلوں کے علمی و دینی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
اس خاندان کے مورثِ اعلیٰ حضرت مولانا سید محمد بن محمد بن سید محمد شریف عمرزئی رحمہ اللہ ہیں۔ ان کے بعد اس خانوادے کی مختلف شاخیں آگے بڑھیں، جن میں مولانا سید عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ کی نسل خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کے بارہ صاحبزادگان کے نام حسبِ ذیل ہیں:
1۔ مولانا سید محمد غزنوی
2۔ مولانا سید عبداللہ غزنوی
3۔ مولانا سید احمد غزنوی
4۔ مولانا سید عبدالجبار غزنوی
5۔ مولانا سید عبدالواحد غزنوی
6۔ مولانا سید عبدالعزیز غزنوی
7۔ مولانا سید عبدالرحیم غزنوی
8۔ مولانا سید عبدالقیوم غزنوی
9۔ مولانا سید عبدالستار غزنوی
10۔ مولانا سید عبدالرحمن غزنوی
11۔ مولانا سید عبدالحئی غزنوی
12۔ مولانا سید عبد القدوس غزنوی
خاندانِ غزنویہ کے اسی سلسلہ نسب میں امام سید عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ کی شاخ سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ کا تعلق ہے، جن کے صاحبزادے پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ تھے۔ یوں آپ کا خاندانی پس منظر ایک ایسے علمی و دینی ورثے سے وابستہ تھا جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔
آپ کو بچپن ہی سے ایسے علمی و دینی ماحول میں پرورش پانے کا موقع ملا جہاں قرآن و حدیث سے وابستگی، دینی تعلیم، علمی مجالس اور دعوتی سرگرمیاں زندگی کا حصہ تھیں۔ تاہم آپ کی شناخت محض خاندانی نسبت تک محدود نہ رہی، بلکہ اپنی تعلیم، مطالعے، تدریسی صلاحیت اور علمی خدمات کے ذریعے بھی آپ نے نمایاں مقام حاصل کیا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ 1927ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ اپنے دور کے معروف عالم اور دینی رہنما تھے۔ اس علمی و دینی ماحول نے بچپن ہی سے آپ کے ذوقِ مطالعہ اور تعلیمی رجحانات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔امرتسر اس زمانے میں برصغیر کا ایک اہم علمی، مذہبی اور تہذیبی مرکز تھا۔ آپ نے اسی شہر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں عربی زبان و ادب میں اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ دی۔ خاندانی علمی روایت اور جدید تعلیمی ماحول سے استفادے نے آپ کی شخصیت میں دینی علوم سے وابستگی اور جامعاتی تدریس کی صلاحیت کو پروان چڑھایا۔
ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی سفر:
آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی اور خزانہ گیٹ ہائی اسکول امرتسر سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد ایم اے او کالج امرتسر میں داخل ہوئے، جہاں سے بی اے اور ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ 1950ء میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔
ایک روایت کے مطابق، آپ نے پورے پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ یہ کامیابی عربی زبان سے آپ کی گہری دلچسپی، محنت اور علمی استعداد کی عکاس تھی۔ آپ نے ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، لیکن عملی زندگی میں وکالت کے بجائے تدریس و تعلیم کو ترجیح دی اور اپنی علمی صلاحیتوں کو عربی زبان و ادب، اسلامی علوم اور طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردیا۔
درسِ نظامی اور دینی تعلیم:
جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ آپ نے روایتی دینی علوم سے بھی استفادہ کیا۔ آپ دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور اور جامعہ سلفیہ سے وابستہ رہے، جہاں دینی علوم کے مطالعے اور علمی استفادے کے مواقع میسر آئے۔دینی مدارس کی علمی روایت اور پنجاب یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم نے آپ کے علمی ذوق کو وسعت دی۔ عربی زبان و ادب پر جامعاتی دسترس کے ساتھ دینی متون اور اسلامی علوم سے واقفیت نے آپ کی تدریسی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
اساتذہ کرام اور علمی استفادہ:
سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ نے اپنے تعلیمی سفر میں متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
1۔ مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ
2۔ مولانا عبدالرحیم حسین خان والا رحمہ اللہ
3۔ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
4۔ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ
5۔ حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ
6۔ مولانا شریف اللہ رحمہ اللہ
7۔ پروفیسر غلام احمد حریری رحمہ اللہ
ان اہلِ علم سے استفادے اور خاندانی علمی ماحول نے آپ کی دینی و علمی تربیت میں حصہ لیا۔ ان شخصیات کی علمی روایت اور دینی مزاج سے واقفیت نے آپ کے مطالعے اور علمی رجحانات کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔
تدریسی زندگی کا آغاز:
1950ء میں ایم اے کرنے کے بعد سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ نے اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ یہاں آپ عربی اور اسلامیات کی تدریس سے وابستہ رہے اور شعبے کی سربراہی کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ عربی زبان و ادب میں مہارت اور اسلامی علوم سے شغف کے باعث آپ کی تدریسی زندگی ابتدا ہی سے علمی نوعیت کی حامل تھی۔ آپ کے نزدیک عربی زبان کی تعلیم محض قواعد اور زبان دانی تک محدود نہ تھی، بلکہ اس کے ذریعے اسلامی علمی ذخیرے تک رسائی بھی اہم تھی۔ اسلامیہ کالج میں خدمات کے بعد دوسرے تعلیمی اداروں نے بھی آپ کی تدریسی صلاحیتوں سے استفادہ کیا، جس سے آپ کے علمی سفر کو مزید وسعت ملی۔
اورینٹل کالج لاہور میں تدریسی خدمات:
اسلامیہ کالج میں تدریسی خدمات کے دوران آپ اورینٹل کالج لاہور سے بھی وابستہ ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق، اس وقت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ نے آپ کو جز وقتی لیکچرار مقرر کیا۔اورینٹل کالج میں آپ عربی زبان کی تدریس سے وابستہ رہے اور جدید عربی زبان بھی آپ کی دلچسپی اور مہارت کے موضوعات میں شامل تھی۔ اس مرحلے پر آپ کو عربی زبان و ادب کے مطالعے اور تدریس کے لیے ایک اہم علمی ماحول میسر آیا۔پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حمید الدین خان سے بھی آپ کے علمی روابط رہے، جو آپ کے وسیع تعلیمی حلقۂ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں خدمات:
1964ء میں سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے وابستہ ہوئے اور وہاں شعبہ علومِ اسلامیہ کی سربراہی کی ذمہ داری سنبھالی۔
ایک فنی جامعہ میں اسلامی علوم کی تدریس اور طلبہ کی دینی و فکری رہنمائی اہم تعلیمی ذمہ داریاں تھیں۔ آپ نے شعبے کی ترقی، اسلامی علوم کی مؤثر تدریس اور طلبہ کی فکری تربیت کے لیے خدمات انجام دیں۔
آپ کی اس خدمت کا اہم پہلو یہ تھا کہ آپ نے اسلامی تعلیم کو صرف دینی مدارس تک محدود نہیں سمجھا، بلکہ جدید تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے بھی اس کی اہمیت اجاگر کی۔ اس طرح جدید سائنسی اور فنی تعلیم کے ماحول میں اسلامی علوم کی تدریس کو فروغ دینے میں آپ نے اپنا حصہ ادا کیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلری:
ستمبر 1975ء میں سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ جامعہ عباسیہ کی تاریخی علمی روایت کو 1975ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے نام سے نئی شناخت حاصل ہوئی۔ اس مرحلے پر جامعہ کی تنظیم، تدریسی سرگرمیوں اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے انتظامی اقدامات کی ضرورت تھی۔ آپ نے وائس چانسلر کی حیثیت سے جامعہ کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اہلِ علم کی خدمات حاصل کرنے پر توجہ دی۔ بعض روایات کے مطابق، پروفیسر غلام احمد حریری، عبدالحئی صدیقی اور بشیر احمد صدیقی ان اہلِ علم میں شامل تھے جن کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔جامعہ کے نئے کیمپس کے لیے اراضی کے حصول اور تعمیراتی منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھی آپ کے کردار کا ذکر ملتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ادارے کی آئندہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی ترقی کی بنیاد مضبوط کرنا تھا۔
اگرچہ آپ کی وائس چانسلری کا عرصہ مختصر رہا، تاہم اس دوران جامعہ کی علمی و انتظامی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششیں آپ کی تعلیمی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ ذمہ داری اس امر کی بھی عکاس تھی کہ آپ تدریسی خدمات کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے انتظامی امور میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور کی سربراہی:
16 دسمبر 1963ء کو مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور اور خاندانِ غزنویہ کی علمی روایت سے متعلق ذمہ داریاں سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کے سپرد ہوئیں۔دارالعلوم تقویۃ الاسلام خاندانِ غزنویہ کی دینی و تعلیمی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ اس سے وابستگی کے باعث آپ کو ادارے کے انتظامی امور، تعلیمی سرگرمیوں اور علمی روایت کے تسلسل کی نگرانی کرنا پڑی۔
ایک طرف آپ جدید جامعات میں تدریسی و انتظامی فرائض انجام دے رہے تھے، تو دوسری طرف دینی مدرسے کی سرپرستی بھی آپ کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔ یوں آپ کی عملی زندگی میں دینی مدارس اور جدید جامعات، دونوں سے وابستگی نمایاں رہی۔
مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان سے وابستگی:
سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کی سرگرمیاں تدریس اور تعلیم تک محدود نہیں تھیں، بلکہ آپ نے جماعتی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ آپ کے والد مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے ابتدائی دور کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ان کی وفات کے بعد جماعتی نظم و نسق کے سلسلے میں نئی ذمہ داریاں سامنے آئیں۔ روایت کے مطابق، جنوری 1964ء میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کو امیر اور پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کو ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔
آپ کچھ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔ بعد ازاں جماعتی معاملات میں اختلافات کے باعث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ اور پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کے درمیان جماعتی وابستگی کے حوالے سے اختلاف پیدا ہوگیا۔ اس طرح آپ کی زندگی میں دینی و تعلیمی خدمات کے ساتھ جماعتی ذمہ داریوں کا پہلو بھی نمایاں رہا۔
خطابت اور جمعہ کے خطبات:
سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کو خطابت میں بھی نمایاں مقام حاصل تھا۔ آپ دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور کے وسیع ہال میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ معاصرین کے بیانات میں آپ کے خطبات کے علمی استدلال، مؤثر اندازِ بیان اور سامعین پر گہرے اثرات کا ذکر ملتا ہے۔
آپ دینی مضامین کو عام فہم انداز میں بیان کرتے اور مثالوں کے ذریعے مشکل بات کو آسان بنا دیتے تھے۔ لاہور کے مختلف علاقوں سے اہلِ علم، طلبہ اور عام سامعین آپ کے خطبات سے استفادہ کرنے کے لیے آتے تھے۔آپ کی خطابت کے حوالے سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے بانی پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ سے منسوب ایک واقعہ بھی نقل کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، کراچی یونیورسٹی میں سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کے ایک خطاب کے دوران سامعین پر رقت طاری ہوگئی۔
اس خطاب میں آپ نے علم کی قدر و قیمت واضح کرنے کے لیے ایک شہزادی کی مثال پیش کی، جس کے گلے میں ہیروں کی مالا ہو، لیکن وہ کھوٹے سکوں کی چوری میں دلچسپی رکھتی ہو۔ اس مثال کے ذریعے آپ نے سمجھایا کہ جب کسی شخص کے پاس علم اور ہدایت جیسا قیمتی سرمایہ موجود ہو تو اسے اس کی قدر کرنی چاہیے اور معمولی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔ یہ واقعہ آپ کے اسلوبِ خطابت کی ایک مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جس میں تمثیل اور عام فہم انداز کے ذریعے سامعین تک علمی پیغام پہنچانے کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔
تصنیف و تالیف اور علمی ذوق:
پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ نے تصنیف و تالیف، دینی و فکری موضوعات پر اظہارِ خیال، قرآن مجید کی تفسیر اور اسلامی معاشرت کی توضیح کے ذریعے علمی خدمات انجام دیں۔ آپ کی تصانیف اور تحریروں میں اسلامی تعلیمات، معاشرتی مسائل، تاریخ، دعوت و اصلاح اور عصرِ حاضر کے فکری مباحث جیسے موضوعات شامل ہیں۔
1۔ واقعۂ کربلا کا معروضی مطالعہ
2۔ اسلام میں گردشِ دولت — اردو اور انگریزی
3۔ کتابتِ حدیث عہدِ نبوی میں
4۔ اسلامی ریاست کے چند ناگزیر تقاضے — اردو اور انگریزی
5۔ اسلام اور آدابِ معاشرت — اردو اور انگریزی
6۔ حقیقتِ ذکرِ الٰہی — اردو اور انگریزی
7۔ تاریخِ اسلام: بنو امیہ اور بنو عباس
8۔ عہدِ حاضر میں استاد اور شاگرد کا رشتہ
9۔ اس دنیا میں اللہ کا قانونِ جزا و سزا
10۔ اقبال عقلیت پسند نہ تھا؟
11۔ گیتان جلی پر ایک نظر — رابندر ناتھ ٹیگور کی معروف کتاب پر تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ
12۔ سورة نور، سورہ محمد اور سورة حجرات کی تفسیر
13۔ قرآن مجید کے صوری اور معنوی محاسن
14۔ خطباتِ جہاد
15۔ پاکستان میں سائنسی علوم کا مستقبل
16۔ ایک مسلمان صحافی کے فرائض — تعلیماتِ اسلام کی روشنی میں
17۔ آدابِ بارگاہِ رسالت
ان تصانیف کے موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی علمی دلچسپی کسی ایک شعبے تک محدود نہ تھی۔ قرآن و حدیث، اسلامی تاریخ، معاشرت، معیشت، ریاست، تعلیم و تربیت اور فکری مباحث سمیت مختلف موضوعات پر آپ نے اپنے علمی مطالعے اور فکری رجحانات کو تحریری صورت میں پیش کیا۔
علمی شخصیت اور فکری مزاج:
پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کی شخصیت میں عربی زبان و ادب کی مہارت، اسلامی علوم سے وابستگی، خطابت، تصنیف اور انتظامی صلاحیتیں جمع تھیں۔ آپ نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریس کے ساتھ علمی و انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔آپ کی تصانیف سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی دلچسپی دینی موضوعات کے علاوہ معاشرتی، تاریخی، معاشی اور تعلیمی مسائل سے بھی تھی۔ خطابت اور تدریس کے ذریعے علمی بات کو مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانا آپ کی عملی زندگی کا اہم حصہ رہا۔آپ کی علمی زندگی کا بنیادی امتیاز دینی روایت سے وابستگی اور جدید تعلیمی اداروں میں خدمات کی انجام دہی کا امتزاج تھا۔ اسی وجہ سے آپ کی سوانح میں دینی مدرسے، کالج، جامعہ، جماعتی ذمہ داریوں اور عوامی خطابت، سبھی پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
وفات اور آخری سفر:
سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کی وفات اپریل 1976ء میں لندن میں ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ روایت کے مطابق، آپ ایک پاکستانی وفد کے ہمراہ لندن گئے تھے، جہاں اسلامک فیسٹیول منعقد ہورہا تھا اور آپ کو ایک مقالہ پیش کرنا تھا۔ وفد کی قیادت اس وقت کے وزیرِ مذہبی امور مولانا کوثر نیازی کررہے تھے۔لندن میں سڑک عبور کرتے ہوئے آپ ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آگئے۔ حادثے میں آپ کی ٹانگوں اور ریڑھ کی ہڈی کو شدید چوٹیں آئیں۔ آپ کو ویسٹ منسٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن علاج کے باوجود جانبر نہ ہوسکے۔
آپ کی میت لاہور لائی گئی۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت مولانا معین الدین لکھوی رحمہ اللہ نے کی۔ بعد ازاں آپ کو میانی صاحب قبرستان لاہور میں اپنے والد مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کی وفات سے اہلِ علم، طلبہ اور متعلقین ایک صاحبِ علم استاد، مؤثر خطیب، مصنف اور منتظم سے محروم ہوگئے۔ آپ کی زندگی کا سفر نسبتاً مختصر ضرور تھا، لیکن اس میں تدریس، خطابت، تصنیف و تالیف اور ادارہ جاتی خدمات کے متعدد اہم مراحل شامل تھے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
اللہ تعالیٰ پروفیسر سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کے علمی آثار کو اہلِ علم و طلبہ کے لیے نفع بخش بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




