سلطان المناظرین مولانا حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، نامور خطیب، بے باک مناظر، داعیِ توحید اور جماعت اہلِ حدیث کی نمایاں شخصیات میں سے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآن و سنت کی دعوت، عقیدہ توحید کی اشاعت، باطل نظریات کے علمی رد، طلبہ کی تعلیم و تربیت اور دینی و قومی خدمات کے لیے وقف کر دی۔ خطابت میں غیر معمولی صلاحیت، مضبوط قوتِ استدلال، حاضر جوابی، حق گوئی اور سادگی آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
آپ کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جنہوں نے خطابت و مناظرہ، تدریس اور دینی اداروں کی خدمت کے میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کی دعوت کسی ایک شہر یا علاقے تک محدود نہ تھی، بلکہ مختلف علاقوں میں سفر کرکے لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف بلاتے اور عقائد و نظریات سے متعلق اختلافی مسائل پر علمی انداز میں گفتگو کرتے تھے۔ شرک و بدعت کے رد، عقیدہ ختمِ نبوت کے دفاع اور اہلِ حدیث فکر کی اشاعت میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کے بڑے بھائی حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ بھی ممتاز خطیب اور داعی تھے۔ دونوں بھائیوں نے دعوت و تبلیغ، مناظرانہ سرگرمیوں اور اشاعتِ توحید کے میدان میں خدمات انجام دیں۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اپنی علمی، تدریسی، دعوتی، تنظیمی اور قومی سرگرمیوں کے ذریعے اہلِ حدیث کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
خاندانی پس منظر اور نسب:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کا سلسلہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے:
حافظ عبد القادر بن میاں رحیم بخش بن میاں روشن دین۔
آپ کے دادا میاں روشن دین کا تعلق موضع کمیر پور، تحصیل اجنالہ، ضلع امرتسر سے تھا، جب کہ ان کے آباؤ اجداد کا اصل وطن ایمن آباد، ضلع گوجرانوالہ تھا۔ یہ خاندان دینی وابستگی، علمائے کرام سے تعلق اور دینی علوم کے حصول کے شوق کے باعث معروف ہوا۔میاں روشن دین کو علماء کی صحبت سے خاص شغف تھا۔ اسی شوق نے انہیں دینی علوم کے حصول پر آمادہ کیا۔ انہوں نے اپنا مال و اسباب فروخت کیا اور حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حصولِ علم کے لیے حاضر ہوئے۔ حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ نے انہیں پہلے اپنی اہلیہ سے رجوع کرنے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ وہ واپس آئے، اہلیہ سے رجوع کیا اور پھر دوبارہ تعلیم کے لیے روانہ ہوگئے۔میاں روشن دین کی خواہش تھی کہ ان کی اولاد علمِ دین حاصل کرے اور دین کی خدمت انجام دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان میں متعدد اہلِ علم پیدا فرمائے، جنہوں نے تدریس، دعوت، خطابت اور دینی اداروں کی خدمت کے میدانوں میں خدمات انجام دیں۔ اس خاندانی علمی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں حافظ محمد اسماعیل روپڑی، حافظ عبد القادر روپڑی اور ان کے دوسرے بھائی بھی شامل تھے۔
میاں روشن دین نے 27 ذی الحجہ 1342ھ، مطابق 30 جولائی 1924ء، کو روپڑ میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔
والد: میاں رحیم بخش رحمہ اللہ:
میاں رحیم بخش 1301ھ میں کمیر پور میں پیدا ہوئے اور 5 صفر 1353ھ، مطابق 20 مئی 1934ء، کو اسی مقام پر وفات پائی۔ ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ ان کے بیٹوں میں حافظ محمد، حافظ محمد اسماعیل روپڑی، حافظ احمد المعروف محمود احمد اور حافظ عبد القادر روپڑی شامل تھے۔میاں رحیم بخش کا خاندان دینی علوم سے وابستگی اور اہلِ علم کی خدمت کے باعث ممتاز ہوا۔ ان کی اولاد میں ایسے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی زندگی دین کی تعلیم، دعوت و تبلیغ اور علمی و تنظیمی خدمات کے لیے وقف کی۔ بالخصوص حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور حافظ عبد القادر روپڑی رحمہما اللہ نے خطابت، مناظرے اور دعوتِ توحید کے میدان میں شہرت حاصل کی، جب کہ حافظ احمد المعروف محمود احمد رحمہ اللہ نے بھی مسجد قدس اور جامعہ اہلِ حدیث کی خدمت میں نمایاں حصہ لیا۔
بڑے بھائی: حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ:
حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ، حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے بڑے بھائی تھے۔ آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور محدث روپڑی رحمہ اللہ سے دینی علوم حاصل کیے۔ آپ شیریں بیان خطیب، پُرجوش مقرر اور توحید و سنت کے سرگرم داعی تھے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں دعوت و تبلیغ کے لیے سفر کرتے اور اپنے مؤثر خطابات کے ذریعے لوگوں کی دینی رہنمائی فرماتے تھے۔حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دعوتی سرگرمیوں اور مناظروں میں شرکت کے مواقع ملے۔ دونوں بھائیوں کی یہ رفاقت دعوتِ دین، اشاعتِ توحید اور اہلِ حدیث فکر کے فروغ میں بھی نمایاں تھی۔ حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ کی خطابت اور دعوتی جدوجہد نے اپنے دور میں لوگوں کو متاثر کیا، جب کہ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اسی علمی و دعوتی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مناظرانہ، تدریسی اور تنظیمی میدانوں میں اپنی شناخت قائم کی۔حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ نے 14 شعبان 1381ھ، مطابق 12 جنوری 1962ء، کو لاہور میں وفات پائی۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن، لاہور، کے خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔
چھوٹے بھائی: حافظ احمد المعروف محمود احمد رحمہ اللہ:
حافظ احمد المعروف محمود احمد رحمہ اللہ، حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ آپ فارسی زبان و ادب سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور سینکڑوں فارسی اشعار زبانی یاد تھے۔ زبان و ادب سے دلچسپی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔آپ مسجد قدس، چوک دالگراں، لاہور، کے نائب ناظم تھے اور مسجد کی تعمیر و توسیع، جامعہ کے انتظامی امور اور مالی استحکام کے لیے حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔حافظ احمد المعروف محمود احمد رحمہ اللہ کی ولادت 1918ء میں ہوئی۔ ان کی وفات 11 ذی الحجہ 1409ھ، مطابق 15 جولائی 1989ء، کو امریکہ میں ہوئی، جب کہ 20 جولائی 1989ء کو انہیں لاہور کے گارڈن ٹاؤن کے خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ولادت اور ابتدائی تعلیم:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ 1915ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور دینی علوم کے حصول کے لیے اپنے خاندان کے اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ آپ کے علمی سفر میں بالخصوص آپ کے چچا اور استاد محدثِ اعظم حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ اور حافظ محمد حسین امرتسری روپڑی رحمہ اللہ کا اہم کردار تھا۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دینی علوم کی تحصیل، درسی کتابوں کے مطالعے، علمی مذاکروں اور اساتذہ کی مجالس میں شرکت کے ذریعے اپنی علمی استعداد بڑھائی۔ خداداد ذہانت، قوتِ حافظہ، علمی ذوق اور دلائل کو سمجھنے کی صلاحیت نے آپ کی علمی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔آپ کی شخصیت کی تشکیل میں اساتذہ کی صحبت، خاندانی علمی ماحول، درس و تدریس اور علمی مباحث نے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے بعد میں تدریس، خطابت، مناظرہ اور دینی اداروں کی خدمت کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
اساتذہ کرام اور علمی استفادہ:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اپنے دور کے ممتاز علماء سے علومِ دینیہ حاصل کیے۔ آپ کی علمی تربیت میں درج ذیل اہلِ علم کا خصوصی ذکر ملتا ہے:
1۔ محدثِ اعظم مولانا حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ
آپ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے چچا، استاد اور سسر تھے۔ ان سے جامعہ اہلِ حدیث، لاہور، میں علومِ حدیث، تفسیر، فقہ، اصول اور دیگر درسی و اعلیٰ علوم کی تعلیم حاصل کی۔ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے علمی منہج، تحقیقی ذوق اور تدریسی انداز نے حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی علمی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
2۔ مولانا حافظ محمد حسین امرتسری روپڑی رحمہ اللہ
آپ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے حقیقی چچا اور حافظ عبد الرحمن مدنی کے والد تھے۔ ان سے عالی معقولات، ادبیات اور آلیہ علوم پڑھے اور درسی کتابوں کے فہم میں ان کی رہنمائی سے استفادہ کیا۔
3۔ مولانا قادر بخش بہاولپوری رحمہ اللہ
آپ جامعہ کے ممتاز مدرسین میں سے تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے ان سے مختلف درسی کتابیں پڑھیں اور علمی استفادہ کیا۔
ان اساتذہ کے علاوہ جامعہ اہلِ حدیث کے علمی ماحول، اکابر علماء کی مجالس اور مسلسل مطالعے نے آپ کی علمی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
درس و تدریس کا منفرد اسلوب:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی تدریسی زندگی کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ طلبہ کی بنیادی استعداد مضبوط بنانے کو اعلیٰ درجے کی تعلیم جتنا ہی اہم سمجھتے تھے۔ آپ میزان الصرف، میزان منشعب، نحو میر، صرف میر، زبدی، ہدایۃ النحو، ابواب الصرف اور مرقات جیسی ابتدائی و متوسط درسی کتابیں پڑھاتے تھے۔بعض لوگ آپ کی علمی قابلیت اور شہرت کو دیکھتے ہوئے کہتے کہ آپ کو بڑی جماعتوں کی تدریس کرنی چاہیے، لیکن آپ ابتدائی کتابوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرماتے کہ وہ طلبہ کی بنیادیں مضبوط کر رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں ان کی علمی عمارت کمزور نہ ہو۔ آپ کے نزدیک اگر طالب علم صرف و نحو، عبارت فہمی اور بنیادی اصولوں پر مضبوط گرفت حاصل کرلے تو اعلیٰ علوم کی تحصیل اس کے لیے آسان ہو جاتی ہے۔آپ تدریس کو محض کتاب ختم کرنے کا نام نہیں سمجھتے تھے، بلکہ طلبہ کی ذہنی تربیت، عبارت کی درست قرأت، اصولوں کے فہم اور علمی استعداد کی تعمیر کو اصل مقصد قرار دیتے تھے۔ اسی لیے سبق کے دوران طلبہ کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتے، مشکل نکات سمجھاتے اور مشق کے ذریعے ان کی صلاحیتیں بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔آپ کی شفقت کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ طلبہ سے اسباق صرف درس گاہ میں ہی نہیں سنتے تھے، بلکہ بعض اوقات رات کے کھانے کے وقت بھی ان سے ابواب الصرف وغیرہ کے اسباق سنا کرتے تھے۔ چوک دالگراں سے میو ہسپتال تک پیدل جاتے ہوئے بھی طلبہ کو سبق یاد کرواتے اور ان کی علمی مشق جاری رکھتے تھے۔یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت تھا کہ آپ کے نزدیک تعلیم کسی مخصوص وقت یا جگہ تک محدود نہیں، بلکہ استاد کی مسلسل توجہ اور طالب علم کی مستقل مشق سے علمی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔
قرآن مجید کی تدریس اور خشیتِ الٰہی:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو قرآن مجید کے ترجمے اور درس سے خاص شغف تھا۔ آپ نے ترجمۂ قرآن کی تدریس کا آغاز سورۃ ق سے کیا۔ اس سلسلے میں اپنے استاد امام عبد الجبار غزنوی رحمہ اللہ کے طریقے کا ذکر کرتے اور بتاتے تھے کہ انہوں نے بھی اسی مقام سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھانا شروع کیا تھا۔آپ کا درسِ قرآن محض علمی توضیح تک محدود نہ ہوتا، بلکہ آیات کے معانی اور مضامین بیان کرتے ہوئے خشیتِ الٰہی اور رقت کی کیفیت بھی نمایاں رہتی تھی۔ درس کے دوران اکثر آنسو بہاتے اور آیات کی تشریح کرتے ہوئے سامعین کو قرآن مجید کے پیغام پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتے تھے۔قرآن مجید سے یہ تعلق آپ کی علمی و دعوتی زندگی کا بنیادی حصہ تھا۔ آپ تدریس میں عبارت فہمی کے ساتھ قرآن کے معانی کو سمجھنے، ان سے رہنمائی حاصل کرنے اور عملی زندگی میں ان کی اہمیت محسوس کرنے پر زور دیتے تھے۔
علمی مجالس، مذاکرہ اور طلبہ کی تربیت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو علمی مجالس میں شرکت اور علمی مذاکرے کا خاص شوق تھا۔ اپنے استاد حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے دروس میں پیش کیے جانے والے علمی اشکالات پر غور کرتے اور ان مباحث میں طلبہ کی رہنمائی کرتے تھے۔محدث روپڑی رحمہ اللہ درس کے دوران مختلف سوالات اٹھاتے، طلبہ سے ان کے جوابات طلب فرماتے اور مزید سوالات کے ذریعے ان کی ذہنی و علمی تربیت کرتے تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ ان مباحث میں طلبہ کی معاونت کرتے اور الگ سے بھی ان کے ساتھ علمی مذاکرہ فرماتے، تاکہ سبق کے اہم نکات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔
حفظِ قرآن کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی اہتمام کرتے اور طلبہ کی منزل سنتے، تاکہ قرآن مجید یاد رہے اور اس میں کمزوری پیدا نہ ہو۔ ان کے نزدیک طالب علم کی تربیت میں سبق کی پابندی، مسلسل مطالعہ، علمی گفتگو، حفظ کی نگرانی اور استاد کی شفقت اہم عناصر تھے۔
ممتاز تلامذہ اور علمی فیض:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے طویل عرصے تک تدریس کے فرائض انجام دیے۔ ان کے علمی فیض سے متعدد طلبہ اور اہلِ علم نے استفادہ کیا۔ ان کے ممتاز تلامذہ و مستفیدین میں درج ذیل نام قابلِ ذکر ہیں:
1۔ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ، ممتاز محدث، مدرس اور مفتی۔
2۔ حافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی سے وابستہ علمی شخصیت۔
3۔ مولانا عبد السلام کیلانی رحمہ اللہ، عالمِ دین اور مصنف۔
4۔ حافظ مقبول احمد رحمہ اللہ، متحدہ عرب امارات میں متعدد مدارس کی نگرانی اور دعوتی خدمات سے وابستہ۔
5۔ مولانا محمد یوسف راجوں والوی رحمہ اللہ، معروف مناظر اور مصنف۔
6۔ حافظ عبد الوحید مدنی، آپ کے برادرزادگان میں سے۔
7۔ حافظ عبد الماجد، آپ کے برادرزادگان میں سے۔
8۔ مولانا سراج الدین ظفر رحمہ اللہ۔
ان کے علاوہ بھی متعدد طلبہ نے آپ سے استفادہ کیا۔ آپ کی تدریسی خدمات کا اہم پہلو یہ تھا کہ آپ طلبہ کو درسی کتابوں تک محدود نہیں رکھتے تھے، بلکہ انہیں علمی مذاکرے، تحقیق، تقریر اور دعوت و تبلیغ کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
علمی ذوق، قلمی خدمات اور علمی سرمائے کی حفاظت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو علمی کتابوں کی کتابت، تصحیح اور تدوین سے خاص شغف تھا۔ آپ کا خط نہایت خوب صورت تھا اور اس صلاحیت کو علمی کاموں میں استعمال کرتے تھے۔ آپ اہلِ علم کی تصنیفی کاوشوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی عبارت درست کرنے میں بھی حصہ لیتے تھے۔آپ کے قلمی کاموں میں بالخصوص محدث روپڑی رحمہ اللہ کی شرحِ مشکوٰۃ المصابیح کی کتابت اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب انتقاض الاعتراض کے قلمی نسخے کی تصحیح قابلِ ذکر ہیں۔
شرحِ مشکوٰۃ المصابیح: مظہر النکات کی کتابت:
جب حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ المصابیح کی شرح لکھنے کا ارادہ فرمایا تو حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اس کی کتابت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس شرح کا نام مظہر النکات تھا۔ اس علمی کام کے لیے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مخصوص کیا گیا تھا۔
محدث روپڑی رحمہ اللہ شرح کے دوران مختلف علمی و تحقیقی نکات بیان کرتے اور بعض مقامات پر دیگر اہلِ علم کی آرا پر تعقبات بھی فرماتے تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ ان نکات کو اپنے خوب صورت قلم سے تحریر کرتے، تاکہ استاد کی تحقیق محفوظ ہو سکے۔
یہ شرح کتاب الایمان فی القدر تک مکمل ہوئی، تاہم پوری کتاب محفوظ نہ رہ سکی۔ اس کا کچھ حصہ نقل کیا گیا اور بعد میں ہفت روزہ تنظیم اہلِ حدیث میں بھی شائع ہوا۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اپنے استاد کی علمی کاوشوں کو محفوظ کرنے کے لیے محنت کرتے تھے۔
انتقاض الاعتراض کی تصحیح و نقل:
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب انتقاض الاعتراض کے قلمی نسخے کی تصحیح میں بھی حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس نسخے میں متعدد اغلاط تھیں۔ آپ ان کی اصلاح کرتے اور پھر کتاب کو اپنے قلم سے دوبارہ نقل کرتے، تاکہ عبارت زیادہ درست اور واضح ہو جائے۔انتقاض الاعتراض میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ کے بعض اعتراضات کے جوابات دیے ہیں۔ اس نوعیت کے علمی کام کے لیے عربی عبارت، حدیثی مباحث اور تحقیقی نکات سے واقفیت ضروری تھی۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اپنی علمی صلاحیتیں اس کام کے لیے صرف کیں۔یہ کام بھی مکمل طور پر پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، تاہم اس کوشش کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ علمی سرمائے کی حفاظت، قلمی نسخوں کی اصلاح اور اہلِ علم کی تحقیقات کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا ذوق رکھتے تھے۔
فتویٰ نویسی اور علمی رہنمائی:
حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد علمی و دعوتی ذمہ داریوں کے ساتھ فتویٰ نویسی اور شرعی رہنمائی کے کاموں میں بھی حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کا کردار نمایاں ہوا۔ ہفت روزہ تنظیم اہلِ حدیث کے علمی ماحول میں شرعی سوالات کے جوابات اور عوام کی دینی رہنمائی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
شیخ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ فتویٰ نویسی میں ان پر اعتماد کرتے تھے، کیونکہ ان کا اندازِ تحریر محدث روپڑی رحمہ اللہ کے انداز سے مشابہ تھا۔ اس روایت سے ان کی علمی استعداد، تحریری صلاحیت اور اپنے استاد کے علمی منہج سے واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔فتویٰ نویسی میں مسئلے سے واقفیت کے ساتھ سوال کو درست سمجھنا، متعلقہ دلائل کا لحاظ رکھنا اور جواب کو واضح انداز میں تحریر کرنا بھی ضروری ہے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اس میدان میں بھی دینی رہنمائی کے کام کو آگے بڑھایا۔
عربی، اردو اور پنجابی زبان پر قدرت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو عربی زبان اور دینی علوم کی اصطلاحات سے واقفیت حاصل تھی۔ خطابت و مناظرہ میں اردو اور پنجابی پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ اس لسانی صلاحیت نے انہیں مختلف طبقوں سے مؤثر انداز میں گفتگو کرنے کا موقع دیا۔علمی مباحث میں عربی عبارت اور نحوی اصولوں سے استدلال کرتے، جب کہ عوامی اجتماعات میں عام فہم زبان استعمال کرتے تھے۔ اس طرح آپ علمی حلقوں اور عام سامعین، دونوں کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
دعوت و تبلیغ اور اشاعتِ توحید:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی زندگی کا نمایاں پہلو دعوتِ توحید اور اتباعِ سنت کی اشاعت تھا۔ آپ نے خطابات، مناظروں، علمی مباحث اور دینی اجتماعات کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی۔
آپ شرک و بدعت کے رد، عقیدہ توحید کی وضاحت، ختمِ نبوت کے دفاع اور اہلِ حدیث فکر کی ترجمانی کے لیے سرگرم رہتے تھے۔ آپ کا اندازِ دعوت پُرجوش، واضح اور استدلال پر مبنی تھا۔ مخالف نظریات کا جواب دیتے وقت ان کی پیش کردہ دلیل کا جائزہ لیتے، اس کے مفہوم کو واضح کرتے اور اپنے مؤقف کی تائید میں دلائل پیش کرتے تھے۔آپ کے مناظروں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز بیان کی جاتی ہے۔ ان مناظروں میں مختلف مذہبی اور فکری حلقوں کے نمائندوں سے مباحث ہوئے۔ ان میں عیسائی، ہندو، آریہ سماج، قادیانی، پرویزی، چکڑالوی اور دیگر مکاتبِ فکر کے افراد شامل تھے۔ آپ کے نزدیک دعوت و تبلیغ محض مخالف کی تردید کا نام نہیں تھا، بلکہ عوام کو عقائد کی درست تفہیم، دینی شعور اور کتاب و سنت کی طرف رجوع کی دعوت دینا بھی اس کا بنیادی مقصد تھا۔ اسی لیے آپ تدریس، خطابت، مناظرہ اور صحافت، ہر میدان کو دعوتِ دین کا ذریعہ بناتے تھے۔
مناظرانہ اسلوب اور استدلال کی خصوصیات:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو سلطان المناظرین کہا جاتا تھا۔ اس شہرت کے پس منظر میں آپ کی حاضر جوابی، علمی مباحث پر گرفت، دلائل کا تجزیہ اور مخالف کے استدلال کی کمزوری واضح کرنے کی صلاحیت شامل تھی۔
آپ گفتگو میں اصل مسئلے کو سامنے رکھتے، مخالف کے دعوے اور اس کی دلیل کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتے اور پھر مختصر مگر مؤثر جواب دینے کی کوشش کرتے تھے۔ عربی زبان، قرآن مجید کی آیات، عقلی استدلال اور علمی اصولوں سے واقفیت نے آپ کے مناظرانہ اسلوب کو تقویت دی۔آپ مختلف موضوعات پر مناظروں میں حصہ لیتے اور اپنے علمی موقف کا دفاع کرتے تھے۔ ان کی مناظرانہ زندگی کے متعدد واقعات حاضر جوابی اور برجستہ جواب دینے کی صلاحیت کے حوالے سے بیان کیے جاتے ہیں۔
مناظرہ کلس: مسئلہ تراویح:
قیامِ پاکستان سے قبل کلس کے مقام پر مولوی محمد عمر اچھروی کے ساتھ مسئلۂ تراویح پر مناظرے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ مناظرہ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی مناظرانہ سرگرمیوں کے اہم واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس دور میں نماز، عبادات اور فقہی مسائل سے متعلق مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان علمی مباحث ہوتے رہتے تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ ان مباحث میں دلائل کی بنیاد پر اپنا موقف پیش کرتے اور قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت کرتے تھے۔
مناظرہ کراچی: مولوی محمد عمر اچھروی کے ساتھ مباحثہ:
کراچی میں مولوی محمد عمر اچھروی کے ساتھ ایک اہم مناظرے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس میں حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ کی موجودگی کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ یہ مناظرہ اس دور کے مناظرانہ ماحول میں اہمیت رکھتا تھا۔
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دعوتی اور مناظرانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان مجالس میں دونوں بھائی اہلِ حدیث فکر کی ترجمانی اور اپنے علمی موقف کی وضاحت کرتے تھے۔
مناظرہ فروکہ: ضلع سرگودھا:
فروکہ، ضلع سرگودھا، میں ہونے والا مناظرہ بھی حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی مناظرانہ زندگی کے یادگار واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مناظرے میں مخالف نظریات کے جواب میں علمی دلائل پیش کیے گئے۔اس نوعیت کے مناظروں میں مختلف علاقوں سے لوگ جمع ہوتے اور اپنے اپنے مذہبی و فکری مؤقف کے بارے میں دلائل سنتے تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ ایسے اجتماعات میں شرکت کرکے دینی مسائل پر اپنا موقف پیش کرتے تھے۔
مناظرہ توحید مسجد، مغلپورہ: مسئلہ علمِ غیب:
لاہور کے علاقے مغلپورہ کی توحید مسجد میں مسئلۂ علمِ غیب پر ہونے والا مناظرہ بھی آپ کی مناظرانہ خدمات کا اہم واقعہ ہے۔ اس موضوع پر آپ نے قرآن مجید کی آیات اور علمی استدلال کے ذریعے اپنے موقف کی وضاحت کی۔
علمِ غیب کے مسئلے میں آپ کا منہج یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل اور مخلوق کے علم کے درمیان فرق واضح کیا جائے اور انبیاء علیہم السلام سے متعلق دلائل کو ان کے درست مفہوم اور سیاق میں سمجھا جائے۔ اس طرح آپ اعتقادی مسائل میں نصوص کی بنیاد پر گفتگو کرتے تھے۔
مناظرہ مسجد وزیر خان: حاضر و ناظر کا مسئلہ:
لاہور کی مسجد وزیر خان میں اولیاء اللہ کے حاضر و ناظر ہونے کے مسئلے پر ہونے والے مناظرے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اس موقع پر عقلی و نقلی دلائل کے ذریعے مخالف کے استدلال کا جواب دینے کی کوشش کی۔حاضر و ناظر کے مسئلے سے متعلق آپ کی گفتگو کا بنیادی پہلو یہ تھا کہ کسی شخصیت کے بارے میں ایسا دعویٰ کرنے سے پہلے شرعی دلیل کو دیکھا جائے اور آیات و واقعات کو ان کے صحیح مفہوم میں سمجھا جائے۔اسی موضوع سے متعلق لاہور میں ہونے والے ایک دوسرے مناظرے کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ مخالف نے حضرت صالح علیہ السلام کے اپنی قوم سے خطاب کرنے کے واقعے سے استدلال کیا۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اگر اس واقعے کو اس طرح عام دلیل مان لیا جائے تو کافروں کے حاضر و ناظر ہونے کا دعویٰ بھی لازم آئے گا۔ اس جواب کے ذریعے انہوں نے مخالف کے استدلال کی کمزوری واضح کرنے کی کوشش کی۔
مرزائیت کا رد اور حیاتِ مسیح علیہ السلام کا مسئلہ:
لاہور کی مسجد قدس میں مرزائی مناظر عبد اللطیف کے ساتھ حیاتِ مسیح علیہ السلام اور متعلقہ قرآنی دلائل پر مباحثے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس مناظرے میں آیتِ کریمہ ﴿قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ کے مفہوم اور اس کے نحوی و استدلالی پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اعتقادی مسائل میں قرآن مجید کی آیات کے درست مفہوم، عربی زبان کے اصول اور استدلال کی صحت کو اہمیت دیتے تھے۔ حیاتِ مسیح علیہ السلام کے مسئلے پر بھی آپ نے اپنے علمی مؤقف کی وضاحت کی اور مخالف کے استدلال کا جواب دینے کی کوشش کی۔
آپ عقیدہ ختمِ نبوت کے دفاع کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اس لیے قادیانیت کے رد اور اس سے متعلق مباحث میں حصہ لیتے اور عوام کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتے تھے۔
مناظرہ چک نمبر 8، واں رادھا رام:
واں رادھا رام کے چک نمبر 8 میں ہونے والے مناظرے میں حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے حافظ محمد ابراہیم میرپوری رحمہ اللہ کے ساتھ شرکت کی۔ اس مناظرے میں مولوی اسماعیل نامی مخالف مناظر کے ساتھ مباحثے کا ذکر ملتا ہے۔یہ واقعہ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی ان سرگرمیوں میں شامل ہے جن میں وہ دیگر اہلِ علم کے ساتھ مل کر دینی عقائد کا دفاع اور مخالف نظریات کا علمی جواب دیتے تھے۔
مناظرانہ حاضر جوابی: نمرود کی آگ اور ایمان:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی حاضر جوابی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک تقریب میں آپ نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا:
آگ آج بھی اندازِ گلستان پیدا کر سکتی ہے
اس پر کسی شخص نے چٹھی بھیجی کہ ہم آگ جلاتے ہیں، کیا آپ اس میں چھلانگ لگائیں گے؟
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے برجستہ جواب دیا کہ تم نمرود بن کر آگ جلاؤ، میں ابراہیمی ایمان کے ساتھ چھلانگ لگا دوں گا۔یہ واقعہ آپ کی حاضر جوابی اور پُراعتماد اندازِ گفتگو کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ایمان اور عقیدے پر اعتماد کا اظہار کیا۔
مرزائی اعتراض کا جواب: وسوسوں کا واقعہ:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی حاضر جوابی کے حوالے سے ایک اور واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ احمدی بننے کے بعد اسے نماز میں وسوسے آنا بند ہوگئے ہیں۔
آپ نے جواب دیا کہ جب تم مسلمان تھے تو تمہارے پاس ایمان کی دولت تھی، اس لیے شیطان ڈاکہ ڈالنے آتا تھا؛ اب جب تم اس کے ہم نوا بن گئے ہو تو ڈاکہ ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
یہ جواب آپ کے مناظرانہ اسلوب کی ایک مثال کے طور پر نقل کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے طنزیہ انداز میں اپنے مخاطب کو اس کے اختیار کردہ عقیدے پر غور کرنے کی طرف متوجہ کیا۔
دیگر مذہبی و فکری مباحث:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے عیسائیت، ہندو مت، آریہ سماج، قادیانیت، پرویزیت اور چکڑالویت سے متعلق مباحث میں بھی حصہ لیا۔ ان موضوعات میں توحید، نبوت، وحی، علمِ غیب اور قرآن و حدیث کی حجیت جیسے مسائل زیرِ بحث آتے تھے۔آپ تقلیدِ شخصی اور دیگر مذہبی و فکری اختلافات سے متعلق مباحث میں بھی حصہ لیتے تھے۔ عقیدہ ختمِ نبوت کے دفاع اور رفض و تشیع سے متعلق مناظرانہ سرگرمیوں میں آپ کی شرکت کا ذکر بھی ملتا ہے۔
جامعہ اہلِ حدیث، لاہور: علمی ورثے کی حفاظت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اپنے بزرگوں کے قائم کردہ علمی ادارے جامعہ اہلِ حدیث، لاہور، کی بقا اور ترقی کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ادارے میں تدریس و تعلیم کا سلسلہ دوبارہ منظم ہوا۔ محدث روپڑی رحمہ اللہ شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے، جب کہ دیگر اہلِ علم بھی مختلف علوم کی تدریس میں مصروف تھے۔
جامعہ میں قرآن مجید، حدیث اور دیگر دینی علوم کی تعلیم دی جاتی اور طلبہ کی علمی و عملی تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے تدریسی، انتظامی اور تربیتی امور میں حصہ لیا اور طلبہ کی ضروریات کا خیال رکھا۔ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جامعہ کے انتظامی اور مالی معاملات میں آپ کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ آپ تقریباً پینتیس برس تک جامعہ اہلِ حدیث کے نگران رہے۔ اس دوران ادارے کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے، طلبہ کی تربیت اور دینی خدمات کے فروغ کے لیے کوششیں کرتے رہے۔ آپ کے لیے جامعہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں تھا، بلکہ اکابر کے علمی ورثے کی حفاظت اور آئندہ نسلوں تک دینی علوم پہنچانے کا ذریعہ تھا۔ آپ نے اس ادارے کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور اسے علمی و دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنائے رکھنے کے لیے محنت کی۔
جامع مسجد قدس، چوک دالگراں: تعمیر و ترقی کی خدمات:
لاہور کے چوک دالگراں میں واقع جامع مسجد قدس روپڑی خاندان کی اہم دینی یادگار ہے۔ یہ مسجد عبادت کے ساتھ تدریس، دعوت، مناظرے، علمی مجالس اور اہلِ علم کی آمد و رفت کا بھی مرکز رہی۔اس مرکز کے قیام اور تعمیر و ترقی کے دوران مختلف مشکلات اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خاندان کے بزرگوں نے ان حالات میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور مسجد کے قیام و توسیع کی کوششیں جاری رکھیں۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے بھی مسجد قدس کی خدمت اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔اہلِ خیر کے تعاون سے مسجد کی توسیع ہوتی رہی اور وقتاً فوقتاً ملحقہ زمینیں حاصل کرکے اس مرکز کو وسعت دی گئی۔ حافظ احمد المعروف محمود احمد رحمہ اللہ بھی مسجد کے نائب ناظم کی حیثیت سے تعمیر و توسیع اور انتظامی امور میں تعاون کرتے رہے۔
مسجد قدس سے وابستہ سرگرمیوں میں خطابات، مناظرے، دینی اجتماعات اور علمی مذاکرے شامل تھے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اس مرکز کی انتظامی و دعوتی سرگرمیوں میں فعال رہتے اور اسے کتاب و سنت کی دعوت کے فروغ کے لیے استعمال کرتے تھے۔
مخالفت کے باوجود استقامت اور حسنِ اخلاق:
مسجد قدس اور اس سے وابستہ دینی سرگرمیوں کے دوران روپڑی خاندان کو بعض مقامی حلقوں کی مخالفت اور سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ چوک دالگراں کی بعض مخالف برادریوں، بالخصوص گجر برادری، اور علاقائی شرپسند عناصر کی طرف سے مسجد قدس پر تشدد اور مخالفت کا ذکر ملتا ہے۔ان حالات میں حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اور ان کے اکابرین نے استقامت، صبر اور اپنے دعوتی موقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے حسنِ اخلاق، معاف کردینے کے ظرف اور مسلسل دینی خدمت سے متاثر ہو کر بعض مخالفین کے رویوں میں تبدیلی آنے اور ان میں سے کچھ لوگوں کے مسلکِ سلف اختیار کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دینی دعوت میں استقامت کے ساتھ حسنِ اخلاق بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی زندگی میں علمی اختلاف اور دعوتی جدوجہد کے ساتھ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت بھی نمایاں تھی۔
جماعت اہلِ حدیث کی تنظیمی خدمات:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے جماعت اہلِ حدیث کی تنظیمی سرگرمیوں میں بھی اہم حصہ لیا۔ جماعت کے نظم و نسق، دعوتی سرگرمیوں اور علماء کے باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے دیگر اہلِ علم کے ساتھ مل کر کام کیا۔ بعد ازاں آپ جماعت کے امیر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد اپنی جگہ مولانا محمد حسین شیخوپوری رحمہ اللہ کو امیر مقرر کیا اور خود تاحیات سرپرست کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔آپ کے نزدیک جماعتی ذمہ داریاں محض منصب یا اعزاز نہیں تھیں، بلکہ دین کی خدمت، علماء کے باہمی تعاون اور دعوتی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا ذریعہ تھیں۔ اسی لیے آپ تنظیمی امور میں دلچسپی لیتے، مختلف علاقوں کے اہلِ علم سے رابطہ رکھتے اور دعوتی کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔
نظامِ امارت کا موقف اور 1961ء کا دھوبی گھاٹ اجلاس:
جماعت اہلِ حدیث کے تنظیمی معاملات میں نظامِ امارت کا مسئلہ ایک اہم موضوع رہا۔ روپڑی خاندان کے اکابر، بالخصوص محدث روپڑی، حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور حافظ عبد القادر روپڑی رحمہم اللہ، کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ جماعتی نظم کو محض جمہوری صدارت کے بجائے شرعی نظامِ امارت کے اصولوں کے مطابق چلانے کے حامی تھے۔
1961ء میں فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں منعقد ہونے والے اجتماع کے حوالے سے حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے دوٹوک موقف کا ذکر ملتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ جماعتی اختلافات کے حل میں نظامِ امارت کے اصول کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
اس موقف کے نتیجے میں جماعت کے سربراہ کے لیے ’’صدر‘‘ کے بجائے ’’امیر‘‘ کی اصطلاح اختیار کیے جانے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ جماعت اہلِ حدیث کی تنظیمی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے، جس میں قیادت کے طریقۂ کار اور جماعتی نظم کے اصول زیرِ بحث آئے۔حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اس بات کے قائل تھے کہ دینی جماعتوں کے تنظیمی معاملات میں اصولی موقف اختیار کیا جائے اور قیادت کی ذمہ داریوں کو شرعی رہنمائی کے مطابق سمجھا جائے۔
علمی اختلافات اور مسلکی استقامت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ علمی مسائل میں اپنے اساتذہ اور اکابر اہلِ علم کے موقف سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ اور حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے درمیان بعض علمی و اعتقادی مسائل میں اختلافات رہے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے ان معاملات میں اپنے استاد اور بزرگ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے موقف کی تائید کی۔
ان اختلافات کو اس دور کے علمی مباحث اور تاریخی حالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ مختلف اہلِ علم کے درمیان بعض مسائل پر اختلاف علمی روایت کا حصہ رہا ہے۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ اپنے فہم کے مطابق عقیدہ سلف کی وضاحت کرتے اور اپنے علمی موقف کو دلائل کے ساتھ پیش کرتے تھے۔
عقائد کی تعبیر اور تاویل کے مسائل میں آپ کا انداز دوٹوک تھا۔ آپ ان امور میں اپنے اساتذہ کے منہج کی پابندی کو اہمیت دیتے اور علمی اختلافات میں اپنے موقف کی وضاحت کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔
ہفت روزہ تنظیم اہلِ حدیث: صحافتی و دعوتی خدمات:
ہفت روزہ تنظیم اہلِ حدیث اہلِ حدیث کی علمی، دعوتی اور تنظیمی صحافت کا اہم ترجمان رہا ہے۔ یہ جریدہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی علمی و صحافتی یادگار تھا۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے اس کی حفاظت، اشاعت اور ادارت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے اس جریدے کے ذریعے دعوتِ توحید کی اشاعت، اہلِ حدیث فکر کی ترجمانی، دینی مسائل کی وضاحت اور جماعتی سرگرمیوں کو قارئین تک پہنچانے میں حصہ لیا۔ اس میں عقائد، فقہی مسائل، دعوتی سرگرمیوں اور جماعتی معاملات سے متعلق مواد شائع ہوتا تھا۔ آپ مضامین کے انتخاب، ترتیب اور جریدے کے علمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے محنت کرتے تھے۔ ہفت روزہ تنظیم اہلِ حدیث میں علمی و تحقیقی تحریروں کے ساتھ اکابر علماء کی آرا، دینی اداروں کی سرگرمیوں اور مختلف اعتقادی مسائل پر مباحث بھی شائع ہوتے تھے۔ اس طرح یہ جریدہ اہلِ حدیث حلقوں میں علمی رابطے اور دعوتی پیغام کی ترسیل کا ذریعہ بنا۔ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی صحافتی خدمات ان کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے درس گاہ، مسجد، مناظرہ گاہ اور صحافت، ہر میدان میں اپنی صلاحیتیں دینی خدمت کے لیے استعمال کیں۔
سعودی عرب کے علماء اور دینی حلقوں سے روابط:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کے سعودی عرب کے علماء اور دینی حلقوں سے علمی و دعوتی روابط تھے۔ حرمین شریفین سے آپ کی خصوصی وابستگی کا ذکر ملتا ہے۔ سوانحی روایات کے مطابق، حرم مکی کے بعض تاریخی حالات اور انقلابِ ایران سے قبل سعودی حکومت کی دعوت پر آپ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے اور مسجد الحرام میں درس دیتے تھے۔بیان کیا جاتا ہے کہ مسجد الحرام میں رکنِ یمانی کے قریب آپ کے درس کا انتظام ہوتا، جہاں فجر اور مغرب کے بعد حجاجِ کرام کی بڑی تعداد آپ کے دروس میں شریک ہوتی تھی۔ یہ دروس آپ کی علمی و دعوتی زندگی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔آپ اور محدث روپڑی رحمہ اللہ کے سعودی عرب کے ممتاز علماء اور دینی شخصیات سے روابط کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان میں شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ، علامہ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ اور شاہ سعود شامل تھے۔محدث روپڑی رحمہ اللہ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی نظامت کی پیشکش کیے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے انہیں اس ذمہ داری کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے معذرت کے ساتھ شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا۔
روپڑی خاندان کے پاس شاہ عبد العزیز ابن سعود کی جانب سے توحید کی دعوت کی حمایت کے سلسلے میں خطوط، اسناد اور شاہی تحائف محفوظ ہونے کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ یہ روایات خاندان کے بین الاقوامی علمی و دعوتی روابط کی نشان دہی کرتی ہیں۔
سعودی عرب کی علمی شخصیات کی جانب سے تعزیت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی وفات پر سعودی عرب کی بعض اہم شخصیات اور دینی اداروں کی جانب سے تعزیتی پیغامات بھیجے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں شاہ فہد، ولی عہد عبداللہ، سعودی وزیر برائے اسلامی امور صالح آل الشیخ، مکہ مکرمہ کے گورنر عبد المجید اور رابطۂ عالمِ اسلامی و عالمی مجلسِ اسلامی کے بعض نمائندوں کی جانب سے تعزیت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ان تعزیتی پیغامات سے ان کے علمی و دعوتی روابط اور بین الاقوامی دینی حلقوں میں ان کی شناخت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کا دعوتی کام بنیادی طور پر برصغیر میں جاری رہا، تاہم سعودی علماء اور دینی حلقوں سے تعلقات نے ان کی علمی زندگی کو وسیع تر دینی ماحول سے مربوط رکھا۔
تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں کردار:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی زندگی صرف تدریس، خطابت اور مناظرے تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے تحریکِ پاکستان میں بھی حصہ لیا۔ آپ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سرگرم رہے اور لوگوں میں قیامِ پاکستان کے لیے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔روایات کے مطابق، 1940ء کی دہائی میں آپ روپڑ، ضلع انبالہ، میں مسلم لیگ کے صدر تھے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران جلسوں میں خطابات کرتے، لوگوں کو سیاسی حالات سے آگاہ کرتے اور قیامِ پاکستان کے مطالبے کی حمایت میں سرگرم رہتے تھے۔آپ کے سیاسی کردار کا بنیادی پہلو یہ تھا کہ دینی و سماجی قیادت کے ساتھ قومی معاملات میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ اس دور کے حالات میں علماء کی سیاسی سرگرمیاں عوامی شعور اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔
انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد اور قید و بند:
تحریکِ آزادی کے دوران حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو گرفتاری اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ روایات میں انگریز حکومت کے خلاف احتجاج اور خطابات کے باعث آپ کی گرفتاری اور انبالہ جیل میں قید کا ذکر ملتا ہے۔
بعض تذکروں میں آپ کو سات سال قید کی سزا سنائے جانے اور بعد میں سیاسی صلح کے نتیجے میں اس سزا کے خاتمے کی روایت بھی بیان کی جاتی ہے۔ تقسیمِ ہند سے چند دن قبل روپڑ کے ہندو ایس ڈی ایم لکشمی چند کی طرف سے حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیے جانے کی روایت بھی بیان کی جاتی ہے۔ اس واقعے کو ان حالات کی سنگینی کے تناظر میں ذکر کیا جاتا ہے جن سے تحریکِ آزادی کے آخری دور میں مختلف علاقوں کے مسلمان رہنما گزر رہے تھے۔ قسیمِ ہند کے دوران روپڑی خاندان کے سترہ افراد کے سکھوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں شہید ہونے کا ذکر بھی روایات میں ملتا ہے۔ یہ واقعات خاندان کے لیے شدید آزمائش کا سبب بنے اور اس دور کے پُرآشوب حالات کی یاد دلاتے ہیں۔
تحریکِ ختمِ نبوت میں شرکت:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے تحریکِ ختمِ نبوت میں بھی حصہ لیا۔ 1953ء کی تحریک کے دوران دینی مطالبات کی حمایت اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔
عقیدہ ختمِ نبوت آپ کی دینی و دعوتی جدوجہد کا اہم پہلو تھا۔ آپ قادیانیت کے رد میں مناظروں اور علمی مباحث میں حصہ لیتے اور اس عقیدے کی وضاحت کو دینی ذمہ داری سمجھتے تھے۔آپ کی دعوتی زندگی میں ختمِ نبوت کا دفاع صرف ایک وقتی سرگرمی نہ تھا، بلکہ توحید، رسالت اور دینی عقائد کی حفاظت کے وسیع تر کام سے وابستہ تھا۔ اسی لیے آپ نے اپنے خطابات اور علمی سرگرمیوں میں اس موضوع کو اہمیت دی۔
تحریکِ نظامِ مصطفیٰ میں کردار:
1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفیٰ میں بھی حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں وہ جماعتی اور سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے اور دینی اصولوں کے مطابق نظام کے قیام کی حمایت کرتے تھے۔
ان سرگرمیوں کے دوران آپ کو مشکلات اور قید و بند کی آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آپ کی قومی و سیاسی جدوجہد کو ان کے دینی و دعوتی کردار سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ آپ اپنے فہم کے مطابق قومی زندگی میں بھی دینی اصولوں کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتے تھے۔
سرکاری و قومی ذمہ داریاں:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کو مختلف ادوار میں قومی اور دینی نوعیت کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت کے مشیر اور مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی آپ کی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔ان ذمہ داریوں کے ذریعے آپ کو قومی سطح پر دینی مسائل، شرعی معاملات اور اجتماعی امور کے حوالے سے اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ ان سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی دلچسپی درس و تدریس اور مناظروں کے ساتھ اجتماعی و قومی معاملات میں بھی تھی۔
سماجی و رفاہی خدمات اور مظلوموں کی داد رسی:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ لوگوں کی سماجی مشکلات اور ذاتی مسائل سے بھی غافل نہیں رہتے تھے۔ آپ کی خدمت کا دائرہ مسجد، مدرسے اور جماعتی سرگرمیوں تک محدود نہ تھا، بلکہ مظلوموں، بیواؤں اور قانونی یا انتظامی الجھنوں میں پھنسے افراد کی مدد کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔روایات کے مطابق، آپ بعض مظلوموں کی داد رسی کے لیے سرکاری دفاتر اور تھانوں تک جاتے، ان کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرتے اور حسبِ استطاعت ان کی مدد فرماتے تھے۔ آپ کے نزدیک دینی رہنما کی ذمہ داری صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہیں، بلکہ کمزور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا بھی اس میں شامل ہے۔مختلف علاقوں سے لوگ دینی، سماجی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے آپ سے رجوع کرتے تو آپ ان کی بات سنتے اور مناسب رہنمائی کی کوشش کرتے تھے۔ آپ کی ملنساری اور لوگوں کی مشکلات میں دلچسپی نے انہیں عوام کے لیے ایک قابلِ رجوع شخصیت بنایا۔
طلبہ سے شفقت، مہمان نوازی اور سادگی:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ طلبہ کے ساتھ مشفقانہ رویہ رکھتے تھے۔ ان کی تعلیمی ضروریات، ذاتی مشکلات اور تربیت کا خیال کرتے۔ آپ کے نزدیک استاد کا کام صرف سبق پڑھا دینا نہیں، بلکہ طالب علم کی علمی و اخلاقی شخصیت کی تعمیر بھی ہے۔آپ جامعہ میں آنے والے مہمانوں اور طلبہ کے ساتھ محبت سے پیش آتے اور مہمان نوازی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ روایات میں ذکر ملتا ہے کہ آپ مہمانوں اور طلبہ کے ساتھ خود دسترخوان پر بیٹھتے اور محبت سے اپنے ہاتھ سے کھانے کے لقمے ان کی طرف بڑھاتے تھے۔آپ کی زندگی میں سادگی نمایاں تھی۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں رہنے کے باوجود دیہاتی طرزِ زندگی پسند کرتے، سادہ لباس پہنتے اور ظاہری آرائش و زیبائش پر زیادہ توجہ نہ دیتے تھے۔ تہبند اور کرتا پہننا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔عمر کے آخری حصے میں بھی آپ کی خطابت کا جوش برقرار رہا۔ بعض روایات کے مطابق، بیماری اور بڑھاپے کے باوجود آپ کو منبر پر بٹھایا جاتا تو تین تین گھنٹے مسلسل خطاب فرماتے تھے۔ یہ واقعہ آپ کی دعوتی سرگرمیوں سے گہری وابستگی اور غیر معمولی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔
حق گوئی، عزم اور اخلاقی اوصاف:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی شخصیت میں عزم، استقامت، دینی غیرت اور حق گوئی نمایاں اوصاف تھے۔ آپ اپنے علمی مؤقف کو دلائل کے ساتھ پیش کرتے اور دینی معاملات میں اصول پسندی کو اہمیت دیتے تھے۔ علمی اختلافات میں اپنا موقف واضح کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔اس کے ساتھ آپ سادہ طبیعت اور منکسر المزاج انسان تھے۔ مہمان نوازی، ملنساری، طلبہ سے شفقت اور لوگوں کی مشکلات میں دلچسپی آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔آپ کی زندگی اس بات کی مثال تھی کہ دینی خدمت صرف تقریر و تحریر تک محدود نہیں، بلکہ تدریس، طلبہ کی تربیت، اداروں کی حفاظت، علمی سرمائے کو محفوظ کرنے، مظلوموں کی داد رسی اور دعوتی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔
وفات اور آخری ایام:
مولانا حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ نے 6 دسمبر 1999ء کو وفات پائی ان کی نمازِ جنازہ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ نے پڑھائی۔ان کی وفات اہلِ حدیث حلقوں، اہلِ علم، شاگردوں اور ان سے وابستہ افراد کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔
آپ کی نمازِ جنازہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں ادا کی گئی، جس میں اہلِ علم، دینی شخصیات، عقیدت مندوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں آپ کو لاہور کے گارڈن ٹاؤن کے خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آپ کی وفات سے اہلِ حدیث حلقے ایک ممتاز خطیب، بے باک مناظر، دینی رہنما، استاد اور ادارہ جاتی خدمات انجام دینے والی شخصیت سے محروم ہوگئے۔ آپ نے اپنی زندگی توحید و سنت کی دعوت، دینی اداروں کی خدمت، علمی و مناظرانہ جدوجہد اور قومی و تنظیمی سرگرمیوں میں گزاری۔
علمی و دعوتی ورثہ:
حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی زندگی علم، دعوت، استقامت اور دینی خدمت کی ایک نمایاں مثال تھی۔ آپ نے تدریس، خطابت، مناظرے، قلمی خدمات، صحافت اور دینی اداروں کی نگرانی کے ذریعے اپنے دور کی علمی و دعوتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔آپ کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ تدریس میں بنیادی علوم کی مضبوطی کو اہمیت دیتے، طلبہ کی تربیت پر توجہ دیتے اور علمی ذخیرے کی حفاظت کو بھی دینی خدمت کا حصہ سمجھتے تھے۔ آپ کی زندگی میں دعوتِ توحید، اتباعِ سنت، علمی استدلال اور دینی اداروں کی خدمت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
اللہ تعالیٰ حافظ عبد القادر روپڑی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے اہلِ خانہ اور متعلقین کو اجرِ جزیل عطا فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص، استقامت اور حسنِ عمل کے ساتھ کتاب و سنت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




