سوال 7624
جسم اور سر کی مثال دی گئی ہے، جیسے نماز کی مثال بدن میں سر جیسی ہے [مسند الشہاب]: «مقام الصلاة من الدين بمقام الرأس من الجسد۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم شیوخ عظام! اس حدیث کی صحت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا
جواب
یہ روایت ﺇﻧﻤﺎ ﻣﻮﺿﻊ اﻟﺼﻼﺓ ﻣﻦ اﻟﺪﻳﻦ ﻛﻤﻮﺿﻊ اﻟﺮﺃﺱ ﻣﻦ اﻟﺠﺴﺪ کے الفاظ سے
طبرانی اوسط : (2292) ،طبرانی صغیر:(162) ، المخلصيات :(2529) ،مسند الشھاب:(268) وغیرہ میں موجود ہے
امام طبرانی اس روایت کے بعد کہتے ہیں:
ﻟﻢ ﻳﺮﻭ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺇﻻ مندل، ﻭﻻ ﻋﻦ ﻣﻨﺪﻝ ﺇﻻ ﺣﺴﻦ، ﺗﻔﺮﺩ ﺑﻪ: اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ اﻟﺤﻜﻢ ”
طبرانی اوسط :2/ 383
اس روایت کی سند میں حسن ﺑﻦ حسین اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ
اور مندل بن علی دونوں ضعیف راوی ہیں ۔
حافظ ذہبی نے کہا:
ﺗﻔﺮﺩ ﺑﻪ الحسن ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ, ﻋﺮﻑ ﺑﺎﻟﻌﺮﻧﻲ ﻭﻟﻴﺲ ﺑﻌﻤﺪﺓ.
تذكرة الحفاظ :3/ 9
امام أبو حاتم الرازی نے حسن بن حسین کی ایک روایت پر موضوع کا حکم لگانے کے بعد کہا:
ﻭاﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﻌﺮﻧﻲ، ۔۔۔۔۔ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺑﺼﺪﻭﻕ ﻋﻨﺪﻫﻢ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﺭﺅﺳﺎء اﻟﺸﻴﻌﺔ
علل الحديث لابن أبي حاتم الرازى :3/ 370 ،الجرح والتعديل :3 / 6
امام ابن عدی نے کہا:
ﺭﻭﻯ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻨﺎﻛﻴﺮ.
الكامل لابن عدي :3/ 181
مندل بن علی کو امام دارقطنی نے،متروک،ضعیف کہا
سؤالات البرقاني؛(110)
اس کا ضعیف و ناقابل حجت ہونا راجح ہے۔
امام ابن حبان نے کہا:
ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺮﺟﺌﺎ ﻣﻦ اﻟﻌﺒﺎﺩ ﺇﻻ ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﺮﻓﻊ اﻟﻤﺮاﺳﻴﻞ ﻭﻳﺴﻨﺪ اﻟﻤﻮﻗﻮﻓﺎﺕ ﻭﻳﺨﺎﻟﻒ اﻟﺜﻘﺎﺕ ﻓﻲ اﻟﺮﻭاﻳﺎﺕ ﻣﻦ ﺳﻮء ﺣﻔﻈﻪ ﻓﻠﻤﺎ ﺳﻠﻚ ﻏﻴﺮ ﻣﺴﻠﻚ اﻟﻤﺘﻘﻨﻴﻦ ﻣﻤﺎ ﻻ ﻳﻨﻔﻌﻚ ﻣﻨﻪ اﻟﺒﺸﺮ ﻣﻦ اﻟﺨﻄﺄ ﻭﻓﺤﺶ ﺫﻟﻚ ﻣﻨﻪ ﻋﺪﻝ ﺑﻪ ﻏﻴﺮ ﻣﺴﻠﻚ اﻟﻌﺪﻭﻝ ﻓﺎﺳﺘﺤﻖ اﻟﺘﺮﻙ ۔
المجروحين :3/ 25
امام ابن عدی نے کہا:
ﻭ لمندل ﻏﻴﺮ ﻣﺎ ﺫﻛﺮﺕ ﻭﻟﻪ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﺃﻓﺮاﺩ ﻭﻏﺮاﺋﺐ، ﻭﻫﻮ ﻣﻤﻦ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ.
الكامل لابن عدي :8/ 216
تو یہ روایت سخت ضعیف و منکر ہے۔
تفصیل دیکھیے الضعفاء الكبير للعقيلى:(1873) ،الجرح والتعديل :8/ 434 ، 435 ۔
میں ۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




