اصولِ حدیث، جرح وتعدیل، رواۃ سے متعلقہ مباحث تو شروع سے ہی موجود ہیں، اور ان پر بہت سارا لکھا بھی گیا، اور آج بھی لکھا جارہا ہے، لیکن ماضی قریب میں جب مستشرقین نے احادیث پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے شروع کیے ، تو جوابا مسلم علما و محدثین کی طرف سے وہی پرانے مباحث کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، مستشرقین کا اعتراض تھا کہ تمہارے ہاں ’نقد المرویات‘ کا منہج موجود نہیں، کبھی کہا کہ تم صرف سند کو دیکھتے ہوئے متن کو پرکھنے کی تم نے کبھی زحمت نہیں کی، اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب و ادیان کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے پاس اصول حدیث، اور جرح و تعدیل جیسا کوئی منظم و مرتب نظام نہ تھا، لہذا ان کی مجبوری تھی کہ ’سند‘ کی عدم موجودگی میں ’نقد ِمتن‘ کے نام سے ٹامک ٹوئیاں ماریں، چونکہ ان کا منہج ِبحث و تحقیق ہی یہ تھا، لہذا انہوں نے مسلمانوں کو بھی اس میدان میں کھینچ لیا، اور کئی بھولے بھالے ان کے پسندیدہ میدان میں اتر بھی گئے، اور واپسی نصیب نہ ہوئی، بہر صورت مسلمانوں کے ہاں جدید ’تصورِ نقد‘ کا پس منظر مجھے تویہی سمجھ میں آتا، ورنہ آپ دیکھیں غیر مسلموں کے اعتراض سے پہلے نہ تو ’منکرین حدیث‘ کا کہیں کوئی وجود ہے، اور نہ ہی ’محدثین کا منہج نقد‘ کے عنوان سے آپ کو کوئی کتاب نظر آئے گی۔
’منہج النقد عند المحدثین‘ کے عنوان سے سب سے پہلی کتاب میرے علم کے مطابق ڈاکٹر مصطفی اعظمی مرحوم[1] کی ہے، انہوں نے اصولِ حدیث اور فنِ رجال کو سامنے رکھتے ہوئے ثابت کیا کہ محدثین کے ہاں سند و متن کی تحقیق کے تمام اصول بدرجہ اتم موجود ہیں، لہذا مستشرقین کا یہ اعتراض لایعنی ہے کہ محدثین نے متن کی تحقیق نہیں کی۔ اس کے بعد سے اب تک اس موضوع پر لکھنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے، اور بلاشبہ درجنوں کتب اس پر لکھی جاچکی ہیں۔
ان موضوعات پر لکھنے والے مسلم محققین چونکہ غیر مسلموں کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر تحقیق کر رہے تھے، لہذا کئی ایک اہل علم نے محسوس کیا کہ یہ مستشرقین کا جواب دیتے دیتے منہجِ محدثین میں ایسی چیزیں شامل کر رہے ہیں، جو اس کا حصہ نہیں ہیں، لہذا خود مسلم محققین کے درمیان ہی یہ بحث شروع ہوگئی کہ ’منہجِ محدثین ہے کیا؟‘ بعض لوگوں کو ایک نئی سوجھی ، انہوں نے کہا کہ جس میں خرابیاں ہیں، وہ متاخرین کا منہج تھا، جبکہ اگر متقدمین کی طرف رجوع کریں، تو ان کا منہج بہت کامل و اکمل ہے، اس میں کسی قسم کے اعتراض و انتقاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، گویا ہم نے متقدمین کا منہج چھوڑ کر متاخرین کو اپنایا تو لوگوں کو اعتراضات کرنے کا موقعہ ملا، یہاں سے ’ منہج المتقدمین والمتاخرین‘ والا قضیہ بھی شروع ہوگیا، اس پر اس انداز سے لکھنے والی غالبا سب سے پہلی شخصیت ڈاکٹر حمزہ ملیباری ہیں، جو جامعہ ام القری وغیرہ میں ڈاکٹر مصطفی اعظمی مرحوم کے شاگرد رہ چکے ہیں، انہوں نے ’متقدمین و متاخرین‘ والے قضیے کو خوب اچھالا اور اس پر تین چار کتب تصنیف فرمائیں[2] ۔
زیر نظر کتاب ’منهج المحدثین فی النقد‘ ہمارے استاد محترم ڈاکٹر حافظ بن محمد الحَكَمِي حفظہ اللہ کی ہے[3]، جو جامعہ اسلامیہ کلیۃ الحدیث میں اعلی پائے کے استاد ہیں، یہ کتاب اس غرض اور مقصد سے لکھی گئی ہے کہ محدثین کے منہج کو درست انداز میں نمایاں کیا جائے، اور ڈاکٹر مصطفی اعظمی یا ڈاکٹر حمزہ ملیباری اور ان کے طرزِ فکر کے اصحاب کو جو غلط فہمیاں لاحق ہیں، ان کا ازالہ کیا جائے۔
کتاب مقدمہ کے بعد پانچ مباحث پر مشتمل ہے:
مبحثِ اول: ’نقد‘ کی لغوی و اصطلاحی تعریف
مبحث ِ دوم: ’نقد‘ کی ابتدا و ترقی
مبحثِ سوم: نقد کا علم تلقی و مشافہہ سے نسل در نسل منتقل ہوا
مبحثِ چہارم: نقد کا میدان
مبحثِ پنجم: حکم ِحدیث میں ائمہ نقاد کا منہج
پہلی مبحث میں نقد کا لغوی معنی واضح کیا گیا ہے کہ کسی چیز کی چھان پھٹک کرنا کہیہ نقلی ہے یا اصلی ہے، جس طرح درہم و دینار کی پہچان کرنے والے جوہری کے عمل کو لغوی اعتبار سے ’نقد‘ کہا گیا ہے ۔ لفظ ’نقد‘ دو معنوں پر مشتمل ہے: کھوٹے کھرے کی ’تمیز‘ اور پھر اس پر بحث و مباحثہ اور ’مناقشہ‘ کرنا۔
’نقد‘ کا یہ لفظ محدثین کے ہاں بھی مستعمل تھا، لہذا ’نقد الرجال‘ یا ’نقاد الرجال‘ یا ’مسلک الانتقاد‘ وغیرہ کے الفاظ احمد بن حنبل و ابن حبان وغیرہ محدثین کےہاں مستعمل ہیں، بلکہ مشہور محدث عمرو الناقد کے لقب ’ناقد‘ کی توجیہ بھی یہی کی جاتی ہے کہ وہ فن ِجرح وتعدیل کے ماہر اور ’ناقدِ رجال‘ تھے۔
ابھی گزرا کہ نقد کے معنوں میں سے ایک معنی’ التمییز‘ بھی ہے، لہذا امام مسلم نے نقدِ روایات اور علمِ علل میں اپنی کتاب کو اسی نام سے موسوم کیا ہے ۔
محدثین کے ہاں نقد کا جو خاص ذوق اور طریقہ پایا جاتا ہے، اسے ’اصطلاحی تعریف‘ میں کیسے سمیٹا جاسکتا ہے؟ شیخ نے اس حوالے سے ڈاکٹر مصطفی اعظمی مرحوم کی تعریف نقل کرکے اسے پسند نہیں فرمایا کیونکہ وہ تعریف ’مانع‘ نہیں تھی، پھر خود تعریف فرمائی ہے کہ:
” هو تتبع طرق الحديث، والتفتيش عن أحوال رواته، والمقارنة بين رواياتهم، وتمييز صحيحها من سقيمها.”
یہ تعریف مندرجہ عناصر پر مشتمل ہے:
(1) حدیث کے مختلف طرق کا تتبع کرنا۔ (2) ان کے راویوں کے حالات کی جانچ پرکھ کرنا۔ (3) روایات میں مقارنہ کرکے صحیح و ضعیف کی تمیز کرنا۔
اور اس کے لیے انہوں نے محدثین و نقاد کے مشہور زمانہ اقوال سے استشہاد کیا ہے کہ جب تک تتبعِ طرق نہ ہو، فہمِ حدیث ممکن نہیں، مقارنہ نہ ہو تب بھی غلطی کی پہچان ممکن نہیں، اور مقارنہ کے لیے رواۃ کے احوال کو جاننا ایک ضروری امر ہے ۔
شیخ کے نزدیک یہی منہج محدثین ہے، جبکہ شیخ اعظمی کی تعریف یوں تھی:
“هو: تمييز الأحاديث الصحيحة من الضعيفة، والحكم على الرواة توثيقا و تجريحا”
شیخ کے نزدیک اس تعریف کے مطابق ہر اس بندے کا عمل نقد کہلائے گا، جو کسی بھی طرح سے کسی حدیث کوصحیح یا کسی کو ضعیف کہہ دے، چاہے وہ منہجِ محدثین کے مطابق ہو یا فقہاء کے مطابق یا کسی اور منہج کے مطابق۔
دوسری مبحث میں روایات کی نقد و تحقیق کی ابتدا میں علم جرح وتعدیل کی کتابوں میں کی جانے والی رسمی بحث ہے کہ سب سے پہلے یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟ اس سلسلے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آثار ہیں، جب انہوں نے بعض احادیث بیان کرنے والوں سے تحقیق و تفتیش کی، اسی طرح دیگر صحابہ و تابعین کے آثار ہیں، جن میں ابن سیرین کا مشہور زمانہ قول بھی ہے : “لم يكونوا يسألون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنة، قالوا: سموا لنا رجالكم”
سب سے پہلے تحقیق و تفتیشِ روایات کی بنیاد رکھنے والی شخصیت کے متعلق تین اقوال ہیں:
1۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 2۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ 3۔ابن سیرین رحمہ اللہ
یہ اختلاف ذکر کرنے کے بعد شیخ فرماتے ہیں یہ تینوں قول ہی درست ہیں، ابتدا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہوئی، اس میں مزید تاکید و اہتمام سے کام عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لیا، اور اسے باقاعدہ منہج کے طور پر بیان کرنے والے ابن سیرین رحمہ اللہ ہوئے۔
مبحثِ سوم: نقد کا علم تلقی و مشافہہ سے نسل در نسل منتقل ہوا​
یہاں مصنف نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے یہ علم خیر القروں سے ہی چلا آرہا ہے، ہر زمانے میں ایسے ائمہ کرام رہے ہیں جو نقدِ حدیث کا ملکہ رکھتے تھے، اور اس بات کے ثبوت کے لیے انہوں نے ابن حبان سے طویل اقتباس، اسی طرح ابن رجب و علائی کا کلام نقل کیا ہے، بات پہلی صدی سے شروع کرکے اسے پانچویں صدی ہجری یعنی امام بیہقی تک پہنچایا ہے کہ یہی وہ پاکیزہ نفوس اور عالی ہمت ہستیاں ہیں جو روایتُ و درایتِ حدیث میں ملکہ تامہ رکھتے تھے ۔
مصنف نے صدیوں پر محیط اس تاریخی سلسلے کے بیان کو ’رصدُ مَسِیرةِ النقد‘ سے تعبیر کیا ہے ۔
لہذا صحابہ کرام کے بعد سعید بن مسیب، قاسم بن محمد بن أبی بکر، سالم بن عبد اللہ بن عمر، علی زین العابدین، ابوسلمہ بن عبد الرحمن، خارجۃ بن زید ، عروۃ بن زبیر، سلیمان بن یسار اور ابن سیرین جیسے لوگ آئے، جنہوں نے احادیث کے حفظ وتفقہ اور تحقیق و تحدیث کو ایک تحریک کی شکل دی، پھر بعد میں دوسرا طبقہ زہری، یحیی بن سعید الانصاری، سعد بن إبراہیم و ہشام بن عروۃ تھے، لیکن سب میں امامت کا درجہ زہری کو عطا ہوا، تیسرے طبقہ میں سفیانِ ثوری، امامِ مالک، شعبہ بن حجاج، اوزاعی، حماد بن سلمۃ و حماد بن زید و سفیان بن عیینہ جیسے اعلام نے تحقیق ِ حدیث و تفتیشِ رجال کی ذمہ داری کو نبھایا، لیکن ان سب کی امامت کا درجہ امامِ مالک، سفیانِ ثوری اور شعبہ بن حجاج کے سپرد ہوا، پھر چوتھے طبقہ میں ابنِ مبارک، وکیع، امامِ شافعی اور یحیی القطان و عبد الرحمن بن مہدی آتے ہیں، اور مؤخر الذکر دو بزرگوں نے تو گویا تحقیقِ حدیثُ و تفتیشِ رجال کے لیے اپنی زندگی ہی وقف کردی، پھر پانچویں طبقہ میں احمد بن حنبل، ابن معین، ابن المدینی، ابن ابی شیبہ، ابن راہویہ جیسے علم وفضل کے بحرِ بے کراں آتے ہیں، جنہوں نے تحقیق رجال، نقدِ حدیث، جمع ِ سنت اور معرفتِ علل کے لیے بلاد و امصار کے سفر کیے، اور ان میں بالخصوص احمد، ابن المدینی و ابن معین کی زندگی کے اکثر اوقات اسی فنِ جلیل کی خدمت میں گزرے، پھر چھٹے طبقہ میں ذہلی، رازی، دارمی اور بخاری ومسلم جیسے نامِ نامی آتے ہیں، جنہوں نے حفظِ حدیث، کتابتِ سنت، علمی رحلات، مذاکرہ و تحدیثِ سنت میں ریکارڈ قائم کیے، پھر اگلے طبقات میں نسائی، عُقیلی، ابن عدی اور دارقطنی کے بعد بیہقی جیسے ائمہ اعلام اس علم وفن کے پاسبان ٹھہرے۔
پھر بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہا، لیکن زمانہ بدلنے کے ساتھ فن کی ضرورت و احتیاج بدل گئی، لہذا بڑے بڑے کبار وعظام آئے، لیکن علائی، ابن رجب ، ذہبی اور ابن حجر جیسے محققینِ اصحابِ فن، جنہوں نے ساری ساری زندگیاں اس دشت کی سیاہی میں گزاریں، بھی پکار اٹھے کہ’قَلَّ من جاء بعدهم بارع‘ ’ لم يجيء بعدهم مساو لهم ولا مقارب‘ اور ’أن المتأخرين على إياس من أن يلحقوا بالمتقدمين‘ ۔
یہی پانچ صدیوں تک تدوین حدیث کا زمانہ رہا، کہ جس میں براہ راست احادیث روایت ہوتی تھیں، بعد میں روایت موجود تو رہی، لیکن زیادہ تر کتابیں، مصنفات و مجموعات کی روایت و تحدیث اور اجازہ کا رواج ہوگیا۔
اس مبحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ نقدِ حدیث اور تعلیلِ حدیث کی بنیاد رکھنے والے متقدمین ہی ہیں، لہذا کوئی شخص بعد میں نت نئے اصول لا کر تحقیقِ حدیث یا نقد وتعلیل کی داغ بیل نہیں ڈال سکتا، یہی وجہ ہے کہ پانچویں صدی کے بعد متاخرین نے انہیں ائمہ نقد کی تطبیقات و تعاملات کو سامنے رکھتے ہوئے، قواعدِ مصطلح مرتب کیے ہیں، اور یہاں آخر میں متقدمین کی عظمت کے اعتراف میں متاخرین کے بعض اقوال ذکر کرنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ خود متاخرین ائمہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس باب میں متقدمین کی کیا حیثیت ہے، وہ کسی بے سندے، اور شتر بے مہار کی طرح زعمِ تحقیق میں مبتلا ہو کر کسی نئے منہج کے مؤسسین نہیں تھے، بلکہ ان کی کوشش وکاوشوں کا سارا محور متقدمین کے علم وفن کی تہذیب و تسہیل، اور اس میں ترجیح و تطبیق تھا، جیسا کہ آئندہ مبحث میں اس کی عملی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
مبحثِ چہارم: نقد کا میدان​
اس مبحث میں مصنف نے حدیث کی مشہور اصطلاحات کو لے کر انہیں متقدمین ائمہ نقد کے کلام کی روشنی میں صحیح و درست ثابت کیا ہے کہ متاخرین نے جو اصطلاح سازی کی ہے، وہ متقدمین کے تعاملات و تطبیقات کے مطابق ہی ہے۔ اس میں منہج کے فرق والی بات دعوی بلا دلیل ہے ۔
بحث میں داخل ہونے کے لیے انہوں نے ابن الصلاح کی کتاب سے صحیح حدیث کی تعریف نقل کی ہے، پھر اس تعریف میں پانچ شروط کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، اور پھر ان تین حصوں سے متعلق مشہور اصطلاحاتِ اصولِ حدیث کو متقدمین و متاخرین کے اقوال کی روشنی میں زیرِ بحث لائے ہیں، تاکہ دونوں طبقوں میں اتحادِ منہج واضح ہوسکے۔ اس ضمن میں جو اصطلاحات زیر بحث آئی ہیں، ان میں اہم اور مشہور یہ ہیں: عدالتِ راوی، ضبطِ راوی، جہالت، بدعت، عنعنہ، تدلیس، ارسال، انقطاع، تفرد و غرابت، شذوذ و نکارت اور علتِ خفیہ۔ ان سب مباحث میں مصنف نے اپنے دعوی یعنی متقدمین و متاخرین کے اتحادِ منہج کو ثابت کیا ہے ۔ وليس الخبر كالعيان-
مبحثِ پنجم: حکم ِحدیث میں ائمہ نقاد کا منہج​
اس بحث میں حکمِ حدیث كے ائمہ نقاد کے منہج کو تفصیل سے بیان کیا ہے، شیخ کے نزدیک محدثین کے احکام کا تتبع و استقراء کیا جائے، تو وہ دو میں سے کسی ایک طریقہ کے مطابق ہوتے ہیں:
پہلا طریقہ: حدیث کے طرق کی جمع و تفتیش اور احوالِ رواۃ کے بعد حکم صادر کرنا، اور عام طور پر حکم کا یہی طریقہ محدثین نے اختیار کیا ہے ۔ اور یہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے:
پہلا مرحلہ: حدیث کے تمام طرق کا استیعاب، یہاں ائمہ کے اس حوالے سے کئی ایک اقوال نقل کیے ہیں۔ مثلا: الباب إذا لم تجمع طرقه لم يبين خطؤه، لو لم نكتب الحديث من خمسين وجها، ماعقلناه.
دوسرا مرحلہ: ان طرق کے راویوں کے احوال کی تحقیق و تفتیش، پھر محدثین راویوں کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، پہلی قسم: جو حفظ و ضبط میں قابل اعتماد ہوتے ہیں، ان کی حدیث قابل احتجاج ہوتی ہے۔ دوسری قسم: جن کے حفظ وضبط میں مسئلہ ہوتا ہے، مثلا سیء الحفظ، مختلط، اور ضعیف وغیرہ، ایسے لوگوں کی روایات کو محدثین متابعات و شواہد میں لے کر آتے ہیں، اور پھر اس میں سفیان ثوری، ابنِ عیینہ، ابن المدینی اور احمد بن حنبل کے اقوال ذکر کیے ہیں۔[4] تیسری قسم ایسے راویوں کی ہے، جن کا ضعف شدید ہو، ایسے راوی کسی حالت میں بھی قابل احتجاج نہیں، اور ان کی صراحت بھی ائمہ محدثین کے کلام میں موجود ہے ۔
تیسرا مرحلہ: میں پھر راویوں کے روایت کے بیان میں اتفاق و اختلاف کو دیکھا جاتا ہے، اور اختلاف کی صورت میں حفظ وضبط ، متابعات و شواہد وغیرہ قرائن کو سامنے رکھتے ہوئے روایات پر کلام کیا جاتا ہے، اور حدیث پر حتمی حکم کا اصدار ہوتا ہے ۔
یہاں بطور مثال امام مسلم کی کتاب التمییز سے حدیث ابن عباس”بِتُّ عند خالتي ميمونة….” نقل کی گئی ہے، اور پھر امام مسلم کےکلام کی تفہیم کروائی ہے کہ انہوں نے کس طرح حدیث کی مختلف روایات میں خلاف کا ذکر کرکے، متابعات و شواہد کی روشنی میں ایک وجہ کو ترجیح دی ہے ۔اس قسم کی مثالوں کو دیکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ عام طور پر طالبعلموں کو روایات، اور متابعات وشواہد کی ترتیب کا ہی علم نہیں ہوتا، دراسة الخلاف کی بات تو بعد میں آتی ہے ۔
دوسرا طریقہ: ذوقِ نقد اور ملکہ تحقیق کی بنیاد پر احادیث پر حکم لگانا
پہلا طریقہ جو بیان ہوا ہے، وہ ایک منظم و مرتب اور واضح طریقہ ہے، اور عام طور پر احادیث پر حکم میں یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے، لیکن بعض احادیث ایسی ہوتی ہیں، جن میں صرف ان واضح خطوات و مراحل کو عمل میں لانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ نقدی ذوق اور تحقیقی ملکہ کا ہونا بھی ضروری ہے، اور یہ کام صرف نقاد کا ہی ہے، یہ عام طالبعلم کے بس کی بات ہی نہیں، کیونکہ ائمہ نقاد کے ہاں یہ ملکہ طولِ ممارست، کثرتِ تجربہ ، اور پے پناہ حفظ ونقد کی صلاحتیوں کی بنا پر ہی پیدا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح جوہری سکے دیکھ کر یا ان کو ہاتھ لگا کر کھوٹے کھرے کی پہچان کرلیتا، نباض اور حکیم نظر اور لمس سے سب کہانی معلوم کرلیتا ہے۔ اسی کے متعلق عبد الرحمن بن مہدی کہا کرتے تھے:
“معرفة الحديث إلهام، فلو قلت للعالم بعلل الحديث: من أين لك هذا؟ لم يكن له حجة”
’’احادیث کی پہچان کا علم الہام جیسا ہے، بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر امام سے اس کی رائے کی دلیل پوچھیں گے تو وہ آپ کو نہیں سمجھا پائیں گے۔‘‘
امام العلل ابو زرعۃ رازی کے پاس ایک شخص آیا، پوچھا آپ کے پاس تعلیلِ حدیث کی دلیل کیا ہوتی ہے؟ کہا: دلیل سمجھنی ہے، تو مجھ سے کسی حدیث کے بارے پوچھ لو، میں اس کی علت ذکر کردیتا ہوں، پھر اسی حدیث کے بارے میں الگ سے جاکر ابنِ وارہ سے پوچھ لو، پھر یہی بات جاکر ابو حاتم رازی سے پوچھ لو، اگر ہم تینوں کی بات میں اختلاف ہوا، تو تم کہنے میں حق بجا نب ہوگے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی من مرضی کرتا ہے، لیکن اگر ہم تینوں کی بات میں اتفاق ہوا، تو پھر تمہیں اس علم کی حقیقت سمجھ آجانی چاہیے، اس شخص نے ایسے ہی کیا، تعلیلِ حدیث میں تینوں کا اتفاق دیکھ کر پکار اٹھا:
“أشهد أن هذا العلم إلهام.”
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ علم الہام ہے ۔‘‘
علمِ علل الہامی علم ہے اور محدثین کو اللہ تعالی نے اس باب میں کس شان سےنوازاہے، کو سمجھنا ہے، تو ایک حدیث پر مہینہ تحقیق کرنے کےبعد اسی کو العلل لابن ابی حاتم ، العلل للدارقطنی اور مصنفاتِ بیہقی سے پڑھ لیں، سب کچھ روشن ہوجائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ تحقیقِ حدیث میں محنت ضرور کرنی چاہیے، لیکن ائمہ محدثین سے اختلاف والا کیڑا دماغ سے نکالیں، بلکہ جب تک محدثین سے اتفاق نہ ہو، اپنی تحقیق میں نقص و کمی کی دلیل سمجھتے رہیں۔
کتاب کا دوسرا حصہ: منہجِ نقد میں بعض معاصرین کا تعاقب​
کتاب کے دوسرے حصے میں معاصرین کی طرف سے منہج النقد پر لکھی گئی کتابوں کا مناقشہ اور تعاقب ہے، اس میں ڈاکٹر مصطفی اعظمی ، ڈاکٹر خالد الدریس، ڈاکٹر مسفر الدُمَینی اور ڈاکٹر لقمان سلفی وغیرہ علماء کی کتابیں ہیں، مصنف کے نزدیک ان کتابوں میں تعلیل ُ ونقدِ حدیث کے بعض ایسے اصول و ضوابط کو محدثین کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جو ان کا منہج نہیں ہے، لہذا ان ’مقاییس‘ کو ذکر کرکے ان کا ابطال کیا گیا ہے ۔ یاد رہے یہ ’مقاییس‘ یا اصول وضابطے ہمارے ہاں عام طور پر ’درایتِ حدیث‘ کے نام سے معروف ہیں، کئی ایک لوگ آپ کو تحقیقِ حدیث میں یہ ذکر کرتے نظر آئیں گے، حالانکہ جب حدیث صحت کی پانچ شرائط پر پوری اترتی ہو، جن کا تعلق سند و متن دونوں سے ہے، تو پھر درایت یا ’مقاییس‘ کے عنوان سے ردِ حدیث کا رویہ درست نہیں ہے ۔
ان کتابوں میں مجموعی طور پر چھے ضابطہ بیان کیے گئے ہیں : حدیث کا قرآن سے ٹکراؤ، حدیث کا کسی اور حدیث سے ٹکراؤ، حدیث کا تاریخ سےٹکراؤ، حدیث کا عقل اور اجماع اور قواعدِ شریعت سے معارضہ کے نام پر یہ کل چھے چیزیں بن جاتی ہیں، مصنف نے کتاب کو انہیں چھے حصوں میں تقسیم کرکے اس حوالے سے ان ’مقاییس‘ کی حقیقت کو خوب واضح اور منہجِ محدثین کو کھول کر بیان کیا ہے ۔ نقد کا اسلوب بہت دھیما اور ادب و احترام والا ہے، کیونکہ یہ سب فاضل و قابل اور محقق لوگ ہیں، بلکہ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں مصنف نے ان کے نام بھی ختم کردیے ہیں، صرف کتابوں کا ذکر کیا ہے۔
کیونکہ یہ ساری کی ساری مباحث ’التعلیل بالمعارضۃ‘ یعنی ’ٹکراؤ کی بنیاد پر تضعیف‘ پر قائم ہیں، اس لیے مصنف نے تمہید میں ’الاعلال بالمعارضۃ‘ کے عنوان سے منہج محدثین بھی بیان کردیا ہے، جس کاخلاصہ یہ ہے کہ معارضہ ایک ہی حدیث کی مختلف روایات میں ہوتا ہے، جسے پہلے مقارنہ بین الروایات کے نام سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ صحابی مختلف ہوجائے، اور مخرج الحدیث مستقل ہو تو پھر تعلیل بالمعارضہ منہجِ محدثین نہیں۔ بلکہ پھر بات تعلیل سے نکل کا مختلف الحدیث کے باب میں آجاتی ہے ۔ لیکن ساتھ یہاں اہم نکتہ ہے کہ تعلیل بالمعارضہ میں نفی کی صورت تبھی ہے، جب حدیث صحت کی تمام شرائط کو حاوی ہو، اگر حدیث میں ویسے ہی کسی اور وجہ سے ضعف ہو، تو پھر محدثین کے ہاں ایسی مثالیں مل جاتی ہیں کہ وہ ضعف کی تاکید کے طور پر مزید کئی چیزیں ساتھ بیان کردیتے ہیں۔
خاتمہ و نتائج​
کتاب کے آخر میں[5] مصنف نے نتائج ذکر کیے ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(1) علمِ نقد کی کڑیاں صحابہ سے ملتی ہیں، اور انہیں سے محدثین نے اس علم کی بنیاد رکھی ہے، اور آہستہ آہستہ یہ ایک مستقل فن بن گیا، جس کے لیے تمام لوگ محدثین کی خوشہ چینی کے محتاج ہیں۔
(2) محدثین کی تحقیق و نقد حدیث سند و متن دونوں کو شامل تھی، اور اس ضمن میں اعتراض کرنے والے جاہل اور محدثین کے منہج سے کوسوں دور ہیں۔
(3) منکر و شاذ ہم معنی ہی ہیں، لیکن تیسری صدی تک ’منکر‘ کا لفظ اور اس کے بعد’شاذ‘ کا لفظ زیادہ رائج رہا۔
(4) متاخرین نے اپنی مصنفات میں متقدمین کی خدمات اور منہج کو ہی محفوظ کیا ہے، ایسی صورت حال میں ان پر متقدمین سے اختلاف کی پھبتی کسنا مناسب رویہ نہیں۔
(5) محدثین کے ہاں تعلیل بالمعارضہ کے لیے اتحاد صحابی ہونا ضروری ہے، مختلف صحابہ کی روایات میں تعلیل المعارضہ بھی منہجِ محدثین نہیں، اور قرآن، تاریخ وغیرہ ٹکراؤ والی ’ درایت‘ کا منہج محدثین سے کوئی تعلق نہیں۔
(6) اعلال بالمعارضہ یا بالمخالفہ میں متاخرین کا منہج بھی متقدمین والا ہی ہے، بعض متاخرین کی کتابوں میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ سہولت کی خاطر ضعیف و موضوع احادیث کی پہچان کے ’ سرسری قرائن‘ ہیں، انہیں تضعیف یا ردِ حدیث کے اصول سمجھنا غلط فہمی ہے ۔
وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
حافظ خضر حیات، جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ​
یوم الجمعہ، 29 ذو الحجہ، 1440​


[1] ڈاکٹر صاحب مرحوم ایک فاضل اور محقق شخصیت تھے، آپکی وفات پر میرا ایک تاثراتی مضمون ہے، جو آپ کی محبت میں قلمبند کیا تھا،درج ذیل لنک پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
[2] ڈاکٹر حمزہ ملیباری صاحب کی کتابوں کا تفصیلی تعارف اور ان پر تبصرہ راقم پہلے کرچکا ہے۔
[3] یہ کتاب سب سے پہلے 1432 یا 33ھ میں طبع ہوئی، اس وقت اس کے دو قسم کے ایڈیشن تھے، ایک سادہ ورق و جلد والا دوسرا اعلی ورق و جلد والا، سادہ نسخہ کلیہ میں سب طلاب کو تقسیم کیا گیاتھا، پھر بعد میں دو سال بعد جب ہم نے شیخ صاحب سے پڑھا تو اس وقت انہوں نے راقم سمیت بعض طالب علموں کو دوسرا جو اعلی نسخہ تھا، بھی عنایت کیا، جس پر آپ نے یہ عبارت رقم فرمائی:
( مع التحية لأخي حافظ خضر حياة، سلمه الله. أخوكم المؤلف، 25/02/1435ھ)
بعد میں 38ھ میں کتاب کا ایک اور ایڈیشن چھپا، جو اِس سال رمضان سے قبل شیخ صاحب نے عنایت فرمایا، اس وقت پیشِ نظر یہی ایڈیشن ہے ۔
[4] اس حوالے سے تفصیلات حسن لغیرہ کے متعلق راقم کے مقالہ میں دیکھی جاسکتی ہیں، جو دس قسطوں پر مشتمل ہے۔
[5] کتاب کے دونوں حصوں کے نتائج کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔